ٹی وی پر بڑے شوق سے دیکھے جانے والے اس سیریل کو بڑے پردے پر اس کے اصل رنگ میں پیش نہیں کیا جاسکا، اسکرپٹ زیادہ مایوس کن۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 11:03 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
ٹی وی پر بڑے شوق سے دیکھے جانے والے اس سیریل کو بڑے پردے پر اس کے اصل رنگ میں پیش نہیں کیا جاسکا، اسکرپٹ زیادہ مایوس کن۔
بھابی جی گھر پر ہیں: فن آن دی رن
(Bhabiji Ghar Par Hain - Fun on the Run)
اسٹارکاسٹ: شبھانگی آترے، آصف شیخ، ودیشا سریواستو، مکیش تیواری، روہیتاس گوڑ، روی کشن، سپریہ پاٹھک
ڈائریکٹر: ششانک بالی
رائٹر: سنجے کوہلی، ویہان کوہلی، ششانک بالی، رگھوویر شیکھاوت
پروڈیوسر: سنجے کوہلی، ویہان کوہلی، بینائفر کوہلی
موسیقار: وشال شیلکے
سنیماٹوگرافر: ارجن ککریتی
ایڈیٹر: سنجے سنکلا
کاسٹیوم ڈیزائن: سبودھ شریواستو
ریٹنگ: **
ٹیلی ویژن کی دنیا میں کچھ سیریلز محض پروگرام نہیں رہتے، وہ عادت بن جاتےہیں۔ ’بھابی جی گھر پر ہیں ‘بھی ایسا ہی ایک نام ہے، جس نےبرسوں تک ناظرین کو شام کے وقت ہنسی کی ہلکی پھلکی خوراک دی۔ چائے کے کپ، ڈرائنگ روم کی کرسی اور ہلکی پھلکی ہنسی یہ سب اس سیریل کی شناخت بن چکے تھے۔ مگر جب یہی پہچانا ہوا نسخہ فلمی پردے پر لایا گیا، تو سوال صرف یہ نہیں تھا کہ ناظر ہنسے گا یا نہیں، بلکہ یہ بھی تھا کہ کیا ٹی وی کی شوخی سینما کی وسعت میں سانس لے پائے گی؟
فلم کی کہانی
کہانی سیریل کے مانوس کرداروں سے شروع ہوتی ہے، جہاں وبھوتی مشرا (آصف شیخ) اپنے پڑوسی منموہن تیواری (روہتاش گور) کی بیوی انگوری (شبھانگی آترے) کو ایک منت پوری کرنے کے لیے اتراکھنڈ لاتے ہیں۔ اصل سٹ کام کی طرح، وبھوتی اور تیواری ایک دوسرے کی بیویوں، انگوری اور انیتا (ودیشا سریواستو) کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تاہم، ایک مندر میں جانے کے بعد، انگوری اور وبھوتی کا سامنا مقامی غنڈوں سےہوتا ہے۔ گنجے پن کی وجہ سے جیون ساتھی سے محروم شانتی (روی کشن) انگوری کی محبت میں گرفتار ہو جاتاہے۔ شانتی کا بھائی، کرانتی (مکیش تیواری) بھی تیواری اور انیتا سے پیار کرتا ہے، جو وبھوتی اور انگوری کی تلاش میں آتے ہیں۔ اب یہ دونوں غنڈے انگوری اور انیتا سے زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثنا، ایک اور کہانی سامنے آتی ہے، جہاں سکسینا (سانند ورما)، دنیش لال یادو (نیرہوا)، ہپوجی (یوگیش ترپاٹھی)، تلو (سید سلیم زیدی)، اور ٹیکا (ویبھو ماتھر) جیسے کردار بواجی کے ساتھ ایک کار حادثے میں ملوث ہیں۔ کہانی ایک تفریحی نوٹ پر شروع ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی ہے، ناقص کامک ٹائمنگ اور بکھرا ہوا اسکرین پلے اسےسطحی بنادیتےہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اصل سیریل اپنی اڈلٹ کامیڈی کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں، ڈائریکٹر نے اس ذائقے کو ٹوائلٹ کامیڈی اور سطحی پنچ شامل کر دیا ہے۔ تیواری کا پوری فلم میں گیس چھوڑنےکے مناظر، انگوری ایک سکریو ڈرایور سے وبھوتی کے کولہوں سے گولی نکالتے ہوئے، اور برجیندر کالا، چچا، اپنی پتلون میں کھانا چھپاتے ہوئے، فحاشی کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ ۲؍گھنٹے ۱۵؍منٹ کی یہ کہانی اس وقت اور بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے جب اس میں سیریل کے مشہور اداکاروں کا امتزاج پیش کیا جاتاہے۔ کلائمکس میں، ودیا بالن بمقابلہ منجولکا کا بھوت انگوری اور انیتا پر حملہ کرنے کے بجائے ہارر کامیڈی کو بڑھاوا دیتا ہے، اسے مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ تکنیکی طور پر، فلم میں بھی سیریل سے ملتا جلتا احساس ہے، حالانکہ گانا ’من جوگی‘کو وشال شیلکے کی موسیقی کے ساتھ خوب پذیرائی ملی ہے۔
ہدایت کاری
ہدایت کاری کا اندازمحفوظ کھیل کا نمونہ ہے۔ نہ کوئی تجربہ، نہ کوئی خطرہ۔ کیمرہ وہی دکھاتا ہے جس کی توقع ہوتی ہے، اور منظر وہیں ختم ہو جاتاہے جہاں ناظر سمجھ جاتا ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ فلم کا رنگ روپ شوخ ہے، مگر گہرائی سے خالی۔ ہر چیز روشن ہے، مگر یادگار کم۔ یہ وہ فلم ہے جو وقت گزارنے کے لیے بنائی گئی ہے، وقت کے خلاف کھڑی ہونے کے لیے نہیں۔
مکالمے اس فلم کا مرکزی ہتھیار ہیں۔ زبان سادہ، روزمرہ اور موقع محل کے مطابق ہے۔ کئی باتیں فوراً اثر کرتی ہیں، مگر کئی ایسی بھی ہیں جو وقت کے ساتھ اپنی تازگی کھو چکی ہیں۔ کچھ مقامات پر مکالمے اتنے دہرائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں کہ ہنسی آنے سے پہلے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب کیا کہا جائے گا۔
یہ ماننا پڑے گا کہ فلم کا مزاح زیادہ تر لفظی تک بندیوں، کرداروں کی باہمی کیمسٹری اور حالات کی مضحکہ خیزی پر قائم ہے۔ یہاں نہ کوئی نفیس طنز ہے، نہ سماجی کاٹ دار تبصرہ۔ یہ وہ ہنسی ہے جو دماغ سے زیادہ عادت پراثر کرتی ہے۔ کئی مقامات پر ناظر ہنستا ہے، مگر فوراً یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ یہ ہنسی پہلے بھی کہیں دیکھی، سنی اور برتی جا چکی ہے۔
کچھ مناظر واقعی کامیاب ہیں، خاص طور پر وہ جہاں کردار اپنی جلد بازی میں خود ہی اپنے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر فلم کی طوالت کے ساتھ ساتھ یہی مزاح کہیں کہیں کھنچتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔
اداکاری
اداکاری کے معاملے میں ہی یہ فلم کچھ ڈھنگ کی محسوس ہوتی ہے۔ اداکاروں نے اپنے کرداروں کو نبھایا ضرور ہے، مگر فلمی اسکرین جس گہرائی اور وسعت کا تقاضا کرتی ہے، وہ یہاں کم نظر آتا ہے۔ یوں لگتاہے جیسے یہ فلم نہیں، بلکہ سیریل کی ایک طویل قسط ہو، جسے وقفے کےبغیر دکھا دیا گیا ہو۔ شبھانگی آترے نے انگوری کو اس مانوس، معصوم، صحیح پکڑے ہیں ‘ کےساتھ پیش کیا ہے۔ وہ بڑی اسکرین پر بالکل خوبصورت لگ رہی ہیں۔ آصف شیخ نے وبھوتی کے کردار کو مکمل طور پراپنے اندر سما لیا ہے، جب کہ روہتاس تیواری کے طور پر بہترین معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ودیشاسریواستو بھی اپنے کردار میں جلوہ بکھیرتی ہیں۔ روی کشن اور مکیش تیواری کی گینگسٹر جوڑی تفریحی لمحات میں اضافہ کرتی ہے۔ سانند ورما، برجیندر کالا، نیرہوا، سید سلیم زیدی، ویبھوماتھر، یوگیش ترپاٹھی، اور مشتاق خان جیسے اداکار اپنے کرداروں کے مطابق رہتے ہیں۔
کیوں دیکھیں؟
یہ فلم اصل سٹ کام جیسی کامیڈی کی توقع کرنے والے ناظرین کو مایوس کرتی ہے۔ اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔