• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھامیر قلعہ: دھولیہ کے قریب واقع ایک بلند اور سادہ سا قلعہ

Updated: February 19, 2026, 10:27 AM IST | Mohammed Habeeb | Dhulia

بھامیرقلعے کی سب سے نمایاں بات اس کی سادگی اور فطری ساخت ہے۔ یہ کوئی شاہانہ محل نما قلعہ نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی چوکی کی طرح تعمیر کیا گیا تھا۔

The Complete Bhamir Fort Can Be Seen From A Distance In The Picture.Photo:INN
تصویر میں دور سےمکمل بھامیر قلعہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این
بھامیر قلعہ، جسے مقامی طور پر’بھام گڑھ‘بھی کہا جاتا ہے دھولیہ کی تحصیل ساکری میں واقع ایک قدیم اور تاریخی پہاڑی قلعہ ہے۔ یہ قلعہ اپنی منفرد ساخت اور چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے غاروں کی وجہ سے سیاحوں اور تاریخ دانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
تاریخی پس منظر
تاریخی اعتبار سے یہ قلعہ ’اہیر راجاؤں‘کا دارالحکومت رہا ہے۔ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ اس کی بنیاد ساتواہن دور میں رکھی گئی تھی۔ یہ قلعہ سورت اور برہان پور کے قدیم تجارتی راستے پر واقع ہونے کی وجہ سےماضی میں ایک خوشحال تجارتی مرکز تھا۔۱۸۱۸ءتک یہ مراٹھوںکےقبضے میں رہا، جس کے بعد انگریزوں نے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔۱۸۲۰ءمیں ’کالے خان‘نامی ایک باغی نے اس پر قبضہ کر کے اس کی مرمت کروائی تھی، لیکن جلد ہی انگریز کپتان بریگز نے اسے دوبارہ فتح کر لیا۔
تعمیراتی خصوصیات
بھامیرقلعے کی سب سے نمایاں بات اس کی سادگی اور فطری ساخت ہے۔ یہ کوئی شاہانہ محل نما قلعہ نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی چوکی کی طرح تعمیر کیا گیا تھا۔قلعے تک پہنچنے کے لیے پہاڑی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔چڑھائی کچھ مقامات پر سخت ہے، مگر یہی دشواری اس کی اصل دفاعی طاقت تھی۔ دشمن کے لیے اچانک حملہ آسان نہ تھا۔
قلعے کے اندرقدیم دروازوں کے آثارپتھر سے تراشے گئے پانی کے ذخیرے (ٹینک)چھوٹی گپھائیں (غار نما کمرے) فصیلوں کے ٹوٹے ہوئے حصے موجود ہیں۔یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کبھی منظم فوجی سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں۔ پانی کے ذخائرخاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، کیونکہ پہاڑی قلعوں میں پانی کا انتظام ہی بقا کی ضمانت ہوتا تھا۔
قدرتی حسن اور منظر کشی
بھامیر کاقلعہ صرف تاریخی اہمیت کا ہی حام نہیں، بلکہ یہاں کے مناظربھی کافی عمدہ نظر آتے ہیں۔جب آپ چوٹی پر پہنچتے ہیں تو چاروں طرف پھیلی ہوئی وادیاں، کھیت، اور دور تک پھیلے پہاڑ ایک خاموش مگر دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔برسات کے موسم میں یہ علاقہ سبزچادر اوڑھ لیتا ہے۔ بادل کبھی نیچے تیرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی قلعے کی دیواروں سے لپٹ جاتے ہیں۔ اس لمحے انسان کو محسوس ہوتاہے کہ وقت رک گیا ہے۔یہ مقام ان لوگوں کیلئے خاص کشش رکھتا ہے جو ہنگامے سے دور، خاموشی میں تاریخ کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔
 
 
یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے بھامیر قلعہ تک پہنچنا کوئی مشکل مہم نہیں، مگر یہ سفر اُن لوگوں کے لیے ہے جو سڑک کی دھول اور پہاڑی چڑھائی سے گھبراتے نہیں۔ اگر ارادہ پختہ ہو تو راستے خود ہموار ہو جاتے ہیں۔
سڑک کےراستے :ممبئی سے بھامیرقلعہ کا فاصلہ تقریباً ۳۰۰؍ تا ۳۲۰؍کلومیٹر ہے اور عام حالات میں۶؍ تا۷؍ گھنٹے لگتے ہیں۔ممبئی سے ناسک، مالیگاؤں، ساکری ہوتے ہوئے آپ بھامیر گاؤں پہنچنے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ممبئی سے آپ کو ممبئی-ناسک ہائی یا این ایچ ۱۶۰؍ پر سفر کا آغاز کرنا ہوگا۔ناسک سے مالیگاؤں،مالیگاؤں سے ساکری اور ساکری سے تقریباً ۲۰؍تا ۲۵؍کلومیٹر سفر کرکےبھامیر گاؤں پہنچ سکتے ہیں۔بھامیر گاؤں سے قلعے کی پہاڑی صاف نظر آتی ہے۔گاڑی گاؤں تک جاتی ہے، اس کے بعد چڑھائی پیدل طے کرنی ہوتی ہے، جو تقریباً ۴۵؍منٹ سےایک گھنٹہ لے سکتی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے جا رہے ہیں تو صبح سویرے نکلنا بہتر ہے، تاکہ دوپہر کی گرمی سے بچا جا سکے۔
 
 
ریل کےذریعہ :اگر آپ ٹرین سے جانا چاہیں توممبئی سے دھولیہ یا اس کے قریب ترین ریلوے اسٹیشن تک سفر کریں۔دھولیہ یا چالیس گاؤں اسٹیشن پر اتر کر ٹیکسی یا مقامی بس کے ذریعے ساکری اور پھر بھامیر گاؤں پہنچا جا سکتا ہے۔ریلوے کاسفر نسبتاً آرام دہ ہے، مگر آخری مرحلہ سڑک کے ذریعے ہی طے کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK