پیارے خان نے عجلت میں دی گئی اقلیتی اداروں کی منظوری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 12:05 PM IST | Ali Imran | Nagpur
پیارے خان نے عجلت میں دی گئی اقلیتی اداروں کی منظوری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے وزارت برائے اقلیتی امور میں اجیت پوار کی موت کے بعد بدعنوانی کےسنگین الزامات لگائے ہیں۔ ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقلیتی محکمہ کے ڈپٹی سیکریٹری شینائے کے تبادلے سے مطمئن ہوں، لیکن اس گھوٹالے کے پیچھے جو لوگ ہیں، مثلاً ایجوکیشن آفیسر اور ادارہ کے ڈائریکٹر اِن کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ پیارے خان نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا گھپلہ مہاراشٹر کی شان کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سدھانت چترویدی نے رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر‘‘ میں شاندار اداکاری کی تعریف کی
یاد رہے کہ حال ہی میں خبر آئی تھی کہ جس روز اجیت پوار کی موت ہوئی اس دن بڑی تعداد میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ پیارے خان اسی پس منظر میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نےکہا کہ جن اسکولوں کو عجلت میں اقلیتی درجہ دیا گیا ان میں سے زیا دہ تر کا تعلق پودّار جیسے کارپوریٹ اداروں سے ہے۔ تاہم جن اسکولوں کو پچھلی حکومتوں نے اقلیتی درجہ دیا تھا وہ تعلیم کے بجائے اس کا غلط استعمال کر رہے تھے۔ اقلیتی اسکولوں کو حکومت سے کروڑوں روپے ملتے ہیں لیکن اقلیتی طبقے کے طلبہ کو وہاں معیاری تعلیم نہیں ملتی۔ پیارے خان نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اقلیتی طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل ہو اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اقلیتی درجہ والے اسکولوں میں بھی ٹی ای ٹی اور دیگر سرکاری قوانین کو لاگو کیا جائے۔ جن اداروں کو ان پچھلی حکومتوں سے اقلیتی اسکول چلانے کا حق ملا ان کا پس منظر چیک کریں، ہر ایک ادارے میں اسکولوں کی تعداد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا
پیارے خان نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے ان اقلیتی اسکولوں میں دسویں جماعت کے طلبہ نام تک نہیں لکھ سکتے۔ پچھلے کچھ سال میں اقلیتی درجہ حاصل کرنے والے تمام اسکولوں کا معائنہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ مخلوط حکومت کے دوران جن اقلیتی اسکولوں کو اجازت دی گئی تھی ان کا معائنہ کیا جائے اور مسلم سماج کے سامنے سچائی لائی جائے کہ ان کا اصل دشمن کون ہے۔ ان اداروں کے مالکان نے اقلیتی اسکولوں کے نام پر جو بدعنوانیاں کی ہیں انہیں بھی مسلم کمیونٹی کے سامنے لایا جائے۔ یاد رہے کہ پیارے خان بی جے پی حکومت کے حامی تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے ۵؍ فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ عدالت نے پہلے ہی اسے منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت نے اسے ختم کیا۔