عام طور پربالی ووڈ فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کی شادی پر فلم ختم ہوجاتی ہے لیکن اس فلم میں شادی کے بعد کے حالات کو پیش کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 10:43 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
عام طور پربالی ووڈ فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کی شادی پر فلم ختم ہوجاتی ہے لیکن اس فلم میں شادی کے بعد کے حالات کو پیش کیا گیا ہے۔
چاند میرا دل (Chand Mera Dil)
اسٹارکاسٹ: لکشیہ، اننیا پانڈے، آستھا سنگھ، پرتھم راٹھور، انکور پوددار، آشیش دوبے، ایلوس جوس
ڈائریکٹر: ویویک سونی
رائٹر: امیتابھ بھٹاچاریہ، اکشت گھلڈیال، ویویک سونی
پروڈیوسر: کرن جوہر، ہیروجوہر، اپوروا مہتا، سومن مشرا، ادار پونا والا
موسیقار: سچن سنگھوی اور جگر سریّا
سنیماٹو گرافر: دیبوجیت رے
ایڈیٹر: پرشانت رام چندرن
پروڈکشن ڈیزائنر: اپرنا سود
سیٹ ڈیکوریشن: پوجا کنچن تھورات
ریٹنگ:***
عام طور پر بالی ووڈ فلموں کی خوشگوار اختتامیہ وہی سمجھاجاتاہے جب آخر میں ہیرو اور ہیروئن ایک ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہدایت کار وویک سونی کی فلم ’چاند میرا دل‘ کی اصل کہانی اس روایتی ’ہیپی اینڈنگ‘ کے بعد شروع ہوتی ہے، جب محبت شادی کی منزل تک پہنچتی ہے اور پھر زندگی کا اصل سفر سامنے آتا ہے۔ بچہ، ذمہ داریاں، مالی دباؤ، سمجھوتے اور روزمرہ کی الجھنیں … انہی مراحل میں انسان کو حقیقتاً زندگی کی سختیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں فلم ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا زندگی کی ان تلخ حقیقتوں کے درمیان محبت اسی طرح زندہ رہ سکتی ہےجیسی فلموں میں دکھائی جاتی ہے؟ دراصل، کہانی کا یہی نیا اور حقیقت سے قریب زاویہ ’چاند میرا دل‘ کی سب سے بڑی خوبی بن کر ابھرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرتَویہ میں سیف علی خان نے اداکاری میں اپنا فرض پوری طرح ادا کیا ہے
فلم کی کہانی
کہانی فلیش بیک میں شروع ہوتی ہے۔ آرو (لکشیہ) امریکہ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس کی ویڈیو کال پر چاندنی (اننیا پانڈے)سے بات ہوتی ہے، جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب دونوں ساتھ نہیں ہیں۔ اسی دوران حیدرآباد میں ہونے والے کالج ری یونین کا ذکر آتا ہے۔ آرو چاہتا ہے کہ چاندنی وہاں آئے، لیکن وہ انکار کر دیتی ہے۔
ری یونین کے دوران آرو پرانی یادوں میں کھو جاتا ہے اور کہانی ۲۰۱۷ءکے حیدرآباد پہنچ جاتی ہے، جہاں وہ اور چاندنی ایک ہی انجینئرنگ کالج میں پڑھتے تھے۔ دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل جاتی ہے، لیکن چاندنی کی حمل کی خبر ان کی محبت بھری زندگی کو اچانک ایک نئےموڑ پر لے آتی ہے۔ خاندان کی مخالفت کے باوجود آرو اور چاندنی شادی کر لیتے ہیں، مگر شادی کے بعد ہی اس رشتے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ بچہ، پڑھائی، امتحانات، پلیسمنٹ اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں آرواور چاندنی کے تعلق پر اثر ڈالنے لگتی ہیں۔ اسی ذہنی دباؤ کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب آرو غصے میں چاندنی پر ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ یہ واقعہ چاندنی کو اندر تک توڑ دیتا ہے، کیونکہ اس کا اپنا بچپن گھریلو تشدد کے صدمے میں گزرا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کو لے کر گھر چھوڑ دیتی ہے۔ اکیلا رہ جانے والا آرو اپنی غلطی کا احساس کرتا ہے، لیکن کیا وہ اپنی بیوی اور بیٹی کا اعتماد اور محبت دوبارہ حاصل کر پائے گا؟ یہی سوال فلم کا جذباتی مرکز بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دادی کی شادی: تنہائی سے جوجھتے والدین کے جذبات پیش کرنے والی فلم
ہدایت کاری
اس میں کوئی شک نہیں کہ وویک سونی کی کہانی میں ایک تازگی اور نیا پن موجود ہے، جو انٹرویل تک فلم کو مضبوطی کے ساتھ سنبھالے رکھتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کوئی روایتی بالی ووڈمحبت کی کہانی نہیں بنتی بلکہ کم عمری میں شادی، ذمہ داریوں کے بوجھ اور ٹوٹتے خوابوں کی داستان سناتی ہے۔ فلم زہریلے رشتوں اور گھریلو تشدد جیسے حساس موضوعات کو بھی چُھوتی ہے۔
فلم کا سب سے مؤثر پہلو یہ ہے کہ چاندنی صرف ’ایک بار‘ہاتھ اٹھائےجانے پر گھر چھوڑ دیتی ہے۔ کسی کے لیے یہ معمولی بات ہو سکتی ہے، لیکن ایک ایسے شخص کے لیے جس کا بچپن گھریلو تشدد کے خوفناک تجربات میں گزرا ہو، یہ ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ یہی جذباتی پرت فلم کو موجودہ دور سے جوڑتی اور معنی خیز بناتی ہے۔
اداکاری
لکشیہ نے اس محبت بھری کہانی میں آرو کے کردار میں بھرپور جان ڈال دی ہے۔ وہ اپنےکردار میں ہر اعتبار سے کامیاب ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر جذباتی ہنگاموں والےمناظر میں ان کی اداکاری بہت اثر چھوڑتی ہے۔ اننیا پانڈے بھی چاندنی کےکردار میں خوب جچتی ہیں۔ ایک اداکارہ کے طور پر وہ مسلسل پختگی کا ثبوت دے رہی ہیں۔ دیگر فنکاروں کی بات کی جائے تو دوستوں کے کرداروں کے علاوہ باقی کرداروں کو زیادہ کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
کیوں دیکھیں؟
محبت کی ایک ایسی نئی کہانی، جو صرف رومانوی خواب نہیں بُنتی بلکہ شادی کے بعد کی اصل زندگی کو بھی سامنے لاتی ہے۔ لکشے اور اننیا کی تازہ جوڑی دل کو بھاتی ہے۔ ’چاند میرا دل‘ ایک اچھی ون ٹائم واچ ثابت ہو سکتی ہے۔