Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرسی: مرضی کی موت کے موضوع پر سوال قائم کرنے والی فلم

Updated: April 25, 2026, 12:29 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

اس فلم میں سوال تو اٹھایا گیا ہے لیکن اس کا جواب پیش نہیں کیا جاسکا، اگر کہانی میں مزید پختگی ہوتی تو یہ فلم اس موضوع پر ایک یادگار تخلیق بن سکتی تھی۔

Raj Vasudeva, Niharika Raizada and Kunal Bhan can be seen in a scene from the film `Mercy`. Photo: INN
فلم’مرسی‘کےایک منظر میں راج واسودیوا، نیہاریکا رائے زادہ اور کنال بھان کودیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مرسی (Mercy)
اسٹارکاسٹ: راج واسودیوا، عادل حسین، نیہاریکا رائے زادہ، کنال بھان، اپرنا گھوشال، اجے دتا، شام گاندھی، سارتھک جوشی
ڈائریکٹر اور رائٹر: میتول پٹیل
پروڈیوسر: راج واسودیوا، میتول پٹیل، انورادھا سچدیوا
سنیماٹو گرافر: کارتک ملور
ایڈیٹر: سنجے انگلے
پروڈکشن ڈیزائنر: سشیل مشرا
آرٹ ڈائریکٹر: وکاس پٹیل
کاسٹیوم ڈیزائن: سواتی پانڈے، اروشی سنگھ
میک اپ: پوجا پرجاپتی، بتھیکا ساہا، ساجدہ
ریٹنگ:
گزشتہ ماہ ہی سپریم کورٹ نے انسانی پہلو سے جڑے ایک نہایت حساس معاملے یعنی ’مرضی کی موت‘پر ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ۱۱؍مارچ۲۰۲۶ءکوعدالت عظمیٰ نے ۳۲؍سالہ ہریش راناکے لائف سپورٹ سسٹم کو ہٹانے کی اجازت دی تھی۔ ہریش رانا۲۰۱۳ء سے’ویجیٹیٹو‘حالت میں تھے، اور لائف سپورٹ ہٹائے جانے کے بعد ۲۴؍مارچ ۲۰۲۶ءکوان کا انتقال ہو گیا۔ ہمارے ملک میں مرضی کی موت ہمیشہ ایک نازک اور جذباتی موضوع رہا ہے، جس پر گزارش اورسلام وینکی جیسی فلمیں بن چکی ہیں۔ ہدایت کار میتول پٹیل کی فلم’مرسی‘اسی سلسلے کی ایک کڑی ہےجو اس پیچیدہ موضوع کے گرد گھومتی ہے، سوال تو اٹھاتی ہے، مگر جواب ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔ 
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی کےمرکز میں ایک سادہ مگر محبت بھرا خاندان ہے، جہاں سنگل مدر سجاتا(اپرنا گھوش)اپنے شوہر کی حادثاتی موت کے بعداپنے۲؍بیٹوں شیکھر(راج واسودیو)اور ویہان(کنال بھان) کو پال پوس کر بڑا کرتی ہے۔ 
وقت کے ساتھ زندگی میں خوشیوں کی آہٹ سنائی دیتی ہےشیکھر اور اس کی بیوی جیا(نیہاریکا رائےزادہ )والدین بننے والےہیں، جبکہ ویہان اپنےنئے میوزیکل خواب کے لیے بھائی سےمالی مدد چاہتا ہے۔ مگر ماضی کی ناکامیوں کے باعث شیکھر انکار کر دیتا ہے، اور یہی انکار دونوں بھائیوں کے بیچ تلخی پیدا کر دیتا ہے۔ 
ابھی یہ کشیدگی ختم بھی نہیں ہوتی کہ اچانک سجاتا ایک حادثے کا شکارہوکر کوما میں چلی جاتی ہیں۔ یہاں سے ایک خوشحال گھر کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہوش میں آنے کی کوئی امیدنہیں، مگر شیکھر کے دل میں اب بھی امید کی ایک شمع جل رہی ہے۔ دوسری طرف جیا اور ویہان اس اذیت کو طول دینا مناسب نہیں سمجھتے اور لائف سپورٹ ہٹانے کے حق میں ہیں۔ اسی کشمکش میں شیکھررہنمائی کے لیے فادر جوئیل(عادل حسین)کے پاس جاتا ہے، وہ ایسی شخصیت ہیں جو بچپن سے ان کے روحانی رہنما رہے ہیں۔ یہاں سے کہانی ایک نئے فکری موڑ پر پہنچتی ہے، اور ناظر کو خود اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھوت بنگلہ: ہارر کامیڈی کی صنف میں ایک اور اضافہ

ہدایت کاری
ہدایت کار میتول پٹیل نےایک نہایت حساس اور فکر انگیز موضوع کو چھیڑا ہے، کیا ایک ایسے انسان کو، جو شعور سے محروم ہو چکا ہو، مصنوعی زندگی پر برقرار رکھنا درست ہے؟فلم اس سوال کو پوری شدت کے ساتھ اٹھاتی ہے، مگر اس کی گہرائی میں اترنے سے ذرا ہچکچاتی محسوس ہوتی ہے۔ اگر کہانی میں مزید مضبوطی اور تحریر میں زیادہ پختگی ہوتی تو یہ فلم مرضی کی موت جیسے موضوع پر ایک یادگار تخلیق بن سکتی تھی۔ اس کے باوجود اس کا جذباتی پہلو ناظر کو باندھے رکھتا ہے۔ 
تقریباً ایک گھنٹہ ۴۶؍منٹ کا دورانیہ فلم کے حق میں جاتا ہے۔ سنجیدہ موضوع کےباوجود فلم سادہ اور حقیقی محسوس ہوتی ہے۔ یہ غیر ضروری جذباتیت سےگریز کرتی ہے اور اپنے اخلاقی موقف کے ساتھ قائم رہتی ہےجو اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ 
اداکاری
اداکاری کے میدان میں سبھی فنکاروں نے دیانت داری کا ثبوت دیا ہے۔ راج واسودیوا نے شیکھر کے کردار میں اندرونی کشمکش کو نہایت توازن سے پیش کیا، ان کی خاموشی بھی بولتی ہے۔ کنال بھان نے ویہان کے جارحانہ اور بے قابو مزاج کو بھرپور انداز میں نبھایا۔ نہاریکا رائےزادہ کی اداکاری سچی محسوس ہوتی ہے، جبکہ اپرنا گھوشال کی موجودگی فلم کو ایک نرم روشنی عطا کرتی ہے۔ فادر جوئیل کے کردار میں عادل حسین کم وقت میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر سب کی اداکاری عمدہ ہے۔ 
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ خاندانی کہانیوں کے دلدادہ ہیں اورکسی سنجیدہ مگر سادہ انداز میں پیش کیے گئے موضوع کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو مرسی ایک مناسب انتخاب ہو سکتی ہے۔ یہ فلم شور نہیں مچاتی، بلکہ آہستہ سے دل پر دستک دیتی ہےاور ایک ایسا سوال چھوڑ جاتی ہے جس کا جواب شاید ہر انسان کو خود ہی تلاش کرنا پڑے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK