Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرتَویہ میں سیف علی خان نے اداکاری میں اپنا فرض پوری طرح ادا کیا ہے

Updated: May 16, 2026, 11:36 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

حالانکہ ہدایت کار پلکت کرم اور دھرم کی الجھن میں الجھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں لیکن اداکاروں کی فرض شناسی فلم کو دیکھنے لائق بناتی ہے۔

Saif Ali Khan can be seen in the role of a police officer in a scene from the film `Kartavya`. Photo: INN
فلم’کرتویہ‘کے ایک منظر میں سیف علی خان کو پولیس افسر کے کردار میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

کرتویہ (Kartavya)
کہاں دیکھیں: نیٹ فلکس
اسٹارکاسٹ: سیف علی خان، سنجے مشرا، سوربھ دویدی، یدھویر اہلاوت، ذاکر حسین، رسیکا دگل، منیش چودھری، درگیش کمار۔ 
ڈائریکٹر اور رائٹر: پلکت
پروڈیوسر: شاہ رخ خان، گوری خان
موسیقار: انوراگ سیکیا
سنیماٹو گرافر: انیل مہتا
ایڈیٹر: زوبین شیخ
پروڈکشن ڈیزائنر: پرشانت بڈکر
آرٹ ڈائریکٹر: دتا تریہ این سپتے
ریٹنگ:***
اس ہفتہ ریلیز ہونے والی فلم ’کرتویہ‘کا ایک مکالمہ ہے’’کرم کرتےہیں تو دھرم چھوٹ جاتا ہے، دھرم نبھانےجاتے ہیں تو کرم چھوٹ جاتا ہے، اور ’کرتویہ‘تک بات پہنچ ہی نہیں پاتی۔ ‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جملہ فلم کے مرکزی کردار سے زیادہ اس کے مصنف و ہدایت کار پلکت پرصادق آتا ہے، کیونکہ وہ بھی اپنی فلم میں کئی اہم سماجی موضوعات کو چھیڑنے کے باوجود ان کی گہرائی میں جانے سے کتراتے نظر آتے ہیں۔ آنر کلنگ، فرضی باباؤں کے کالے سچ، ان کےتعلق سے لوگوں کی اندھ بھکتی اور بچوں کے جنسی استحصال جیسے حساس مسائل کو فلم میں ضرور شامل کیا گیا ہے، مگر ان موضوعات کی تہہ تک پہنچنےکے بجائے کہانی انہیں چھوتی ہوئی آگے نکل جاتی ہے۔ 
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی جھاملی تھانے کے ایک ایماندار اور فرض شناس پولیس افسر پون کےگرد گھومتی ہے، جس کا کردار سیف علی خان نے ادا کیاہے۔ پون اپنے ساتھی اشوک، یعنی سنجے مشرا، سمیت تھانے میں سب کا پسندیدہ ہے۔ ایک دن اسےقومی سطح کے ایک صحافی کی حفاظت کی ذمہ داری دی جاتی ہے، مگر اسی کے سامنے اس صحافی کو گولیوں سےبھون دیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اس کا سخت مزاج افسر کیشو، جس کا کردار منیش چودھری نےنبھایا ہے، اسے معطل کردیتا ہے۔ پون اس ناکامی کے داغ کو خود دھونے کا فیصلہ کرتا ہے اور اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردیتا ہے۔ 
تفتیش آگے بڑھتی ہے تو معاملہ علاقے کے طاقتور بابا آنند شری تک جا پہنچتا ہے، جس کا کردار صحافی سے اداکار بننے والے سوربھ دویدی نےادا کیا ہے۔ ایک کم سن بچہ اس بابا کے چنگل سے بھاگ نکلتاہے اور اس کی کالی کرتوتوں، خصوصاً بچوں کے جنسی استحصال، کا پردہ فاش کرتاہے۔ اب اس بچے کی جان خطرے میں ہے اور پون ہر قیمت پر اسے بچانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پون کی ذاتی زندگی بھی انتشار کا شکار ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی ایک نچلی ذات کی لڑکی کے ساتھ فرار ہوگیا ہے اور خاندان کی نام نہاد عزت کے نام پر اس کا اپنا باپ ہی اس کی جان لینے کو تیار بیٹھا ہے۔ یوں پون ایک ہی وقت میں پولیس افسر، بھائی اور بیٹے کی ذمہ داریوں کے درمیان الجھ جاتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا وہ ان تمام فرائض کو نبھا پائے گا؟
ہدایت کاری
ہدایت کار پلکِت نے کہانی کی بنیاد تو مضبوط موضوعات پر رکھی ہے، مگر فلم ان مسائل کی شدت اور خوفناکی کو پوری طرح اجاگر نہیں کرپاتی۔ خاص طور پر بابا آنند شری کے کردار کی تشکیل کمزور محسوس ہوتی ہے۔ نہ اس کے اثر و رسوخ کا وزن محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی سفاکی کا خوف۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہیرو کی جدوجہد بھی پوری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے نہیں آتی۔ 
اداکاری
اس سے پہلے ناظرین آشرم میں بابی دیول اور مہاراج میں جے دیپ اہلاوت کو ایسے ڈھونگی باباؤں کے کرداروں میں دیکھ چکے ہیں، جہاں کردار کا خوف اور منافقت دونوں بھرپور انداز میں سامنے آتےہیں۔ اس کے مقابلے میں سوربھ دویدی یہاں اداکاری کے اعتبارسےکمزور دکھائی دیتے ہیں۔ نہ ان کی باڈی لینگویج متاثر کرتی ہے اور نہ تاثرات۔ البتہ فلم کو سنبھالنے کا کام تجربہ کار اداکاروں نے بخوبی کیاہے۔ سیف علی خان نےایک الجھے ہوئے ہریانوی پولیس افسرکے کردار کو نہایت سنجیدگی سے نبھایا ہے۔ سنجے مشرا اور منیش چودھری کے ساتھ ان کی اداکاری کی ہم آہنگی فلم کا مثبت پہلو بن جاتی ہے۔ ان تینوں کی فطری اداکاری کئی کمزوریوں کے باوجود فلم کو دیکھنے لائق بناتی ہے۔ فلم میں ہربال کے کردار میں کم عمر اداکار یدھویر اہلاوت نے بھی متاثر کن کام کیا ہے۔ فلم کی رفتار تیز ہے اور بیک گراؤنڈ اسکور سنسنی برقرار رکھتا ہے، مگر اصل معمہ کافی جلد واضح ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ناظر کو ایک ادھورے پن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ 
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ سیف علی خان، سنجے مشرا یا سماجی موضوعات پر مبنی سنجیدہ کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تواس فلم کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK