Inquilab Logo Happiest Places to Work

چاندوڑ قلعہ:دلکش نظاروں اور تاریخی اہمیت کا حامل قلعہ

Updated: May 14, 2026, 10:05 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

ناسک میں واقع یہ قلعہ کافی قدیم ہے،اس قلعہ کے اندر سکے بنانے کا مرکز یعنی ٹکسال ہوا کرتی تھی،اہلیہ بائی ہولکر کا بنایا ہوا رنگ محل بھی اہمیت کا حامل۔

Chandor Fort Can Be Seen From A Distance.Photo:INN
دور سے چاندوڑ قلعہ دیکھا جاسکتا ہے-تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کی سرزمین پر بکھرے ہوئے قدیم قلعے صرف پتھروں کی عمارتیں نہیں بلکہ تاریخ کے زندہ اوراق ہیں۔ انہی تاریخی یادگاروں میں ایک نام چاندوڑقلعہ کا بھی آتا ہے، جو ضلع ناسک کے قدیم قصبے چاندوڑکی پہاڑیوں پر خاموشی سے صدیوں کی کہانی سناتا نظر آتا ہے۔ یہ قلعہ اگرچہ رقبے کے اعتبار سے بہت بڑا نہیں، لیکن اپنی جغرافیائی اہمیت، تاریخی پس منظر اور دلکش قدرتی مناظر کی وجہ سے تاریخ اور سیاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بے حد اہم مانا جاتا ہے۔
محل وقوع
چاندوڑقلعہ ناسک ضلع کے چاندوڑ تعلقہ میں سَتمالاپہاڑی سلسلے پر واقع ہے اور ممبئی-آگرہ ہائی وے سے ناسک کی طرف تقریباً ۶۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ شہر ممبئی-آگرہ ہائی وے کے ساتھ واقع ہے اور چاندوڑ قلعہ اسی شہر کی پشت پر پہاڑی پر بلند ہے۔
چاندوڑقلعہ خاندیش سے ناسک تک جانے والے قدیم تجارتی راستے پر نظر رکھنے کے لیے نہایت موزوں مقام پر قائم کیا گیا تھا اور یہ قریبی پہاڑیوں میں چاندوڑ درے کی حفاظت کرتا تھا۔
تاریخی پس منظر
۸۰۱ءعیسوی کے آس پاس راجا درڑھ پرہار نےاس قلعہ کو بنوایا تھا، جو سیونا/یادو خاندان کے بانی تھے۔ درڑھ پرہار جین مذہب کے ماننےوالے تھے اور تیرتھنکر چندر پربھ کے بھکت تھے۔ انہوں نے قصبے کا نام چاندوڑ رکھا۔
درڑھ پرہار اور ان کے بیٹے سیونا چندر نے قلعے کے پاس جین غاربھی بنوائےتاکہ مانگی-تونگی، ایلورا، انجنری جاتے ہوئے جین سادھو یہاں ٹھہر سکیں۔ غاروں میں تیرتھنکر، یَکش اور یَکشنی کی بھی مورتیاں ہیں۔ 
۱۴؍ویں صدی میں قلعہ بہمنیوں کے قبضے میں تھا۔ ۱۶۳۵ءمیںمغل فوج نےچاندوڑ قلعہ اور اندرائی قلعہ پر قبضہ کیا۔شاہ جہاں نے شائستہ خان کو مہاراشٹر بھیجا، جس نے ۱۶۳۶ءمیں چاندوڑ سمیت کئی قلعے فتح کیے۔ مغلوں نے اس کا نام ’جعفرآباد‘ رکھ دیا۔ 
ٹکسال (سکے ڈھالنے کا کارخانہ)
چاندوڑقلعے کی ایک خاص تاریخی اہمیت یہ تھی کہ یہاں ٹکسال (سکے بنانے کا کارخانہ)قائم تھی۔ نانا صاحب پیشوا نے قلعہ ملہار راؤ ہولکر کے سپرد کیا اور۱۸۰۰ءمیں قلعے کے نگہبان اور ٹکسال افسر کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ٹکسال کو چاندوڑ گاؤں منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہاں کیا دیکھیں؟
۱۸ءویں صدی میں مہارانی اہلیہ بائی ہولکر نے چاندوڑ تعلقے میںرنگ محل تعمیر کروایا تھا۔یہ ایک شاندار محل ہے جس میں لکڑی کے نقش و نگار والےستون، پتھر سے بنے زینے(باؤلی)، اور دیوی رینوکا مندر تک فرار کے لیے بنی خفیہ گزرگاہیں شامل ہیں۔ یہ اب مہاراشٹر ریاستی آثارِ قدیمہ کے تحت بحالی کے مراحل میں ہے۔
ٹریکروں کے تجربات کے مطابق قلعے کی چوٹی سے ناسک کے کئی قلعوں دھوڈپ، کنچنا اور سپتاشرنگی کے دلکش نظارے ملتے ہیں۔ قلعےکے دروازےسےبائیں طرف چند منٹ کی مسافت پر ناسک کےکئی قلعوں کا ایک غیرمعمولی پینورامک منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
 
 
ٹریکنگ کا تجربہ
قلعے تک پہنچنے کے لیےپتھر سے تراشی ہوئی سیڑھیاں تھیں لیکن انگریزوں نےانہیں تباہ کر دیا۔ اب قلعے پر چڑھنے کے لیے چڑھائی کی تکنیکیں اور ہاتھ پاؤں دونوں استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ پہاڑوں پر چڑھنے کا تجربہ رکھنے والوں کے لیے یہ موزوں ہے۔ چوٹی تک تقریباًڈیڑھ سے ۲؍گھنٹے درکارہوتےہیں۔
 
 
یہاں کیسے پہنچیں؟
یہاں کا اہم ترین قریبی شہر ناسک ہے جو یہاں سے ۶۵؍کلومیٹر دور ہے جبکہ ممبئی سے یہاں تک کا فاصلہ ۲۵۰؍کلومیٹر ہے۔اگر آپ کار کے ذریعہ یہاں جارہے ہیں تو آپ کو ممبئی آگرہ ہائی وے سے سفر کرنا ہوگا۔ چاندوڑ قصبے سے یہاں تک کا فاصلہ ۱۰؍کلومیٹر ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK