سب سے زیادہ خستہ حال عمارتیں ممبرا میں اورسب سے کم ورتک نگر وارڈ کمیٹی میں ۔ڈپٹی میونسپل کمشنر نے بتایا کہ انتہائی خطرناک عمارتوں کو نوٹس دیا گیا ہے۔ مانسون سے قبل خالی کروانے کا منصوبہ ہے۔
ممبرا علاقے کا ایک منظر۔ یہاں سب سے زیادہ خستہ حال عمارتیں ہیں۔ (تصویر: انقلاب)
مانسون شروع ہونے سے قبل ہر سال تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی ) کی جانب سے وارڈوں کی سطح پر انتہائی خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔ امسال بھی جاری کی جانے والی فہرست کے مطابق ٹی ایم سی میں مجموعی طو رپر۴ ؍ہزار ۴۳۷؍ عمارتیں خستہ حال اور ۹۳؍ عمارتو ں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔سب سے زیادہ ایک ہزار ۳۶۲؍خستہ حال عمارتیں ممبرا وارڈ میں جبکہ سب سے کم ۶۱؍ عمارتیں ورتک نگر وارڈ کمیٹی میں ہیں ۔ ان تمام عمارتوں کو نوٹس دیتے ہوئے انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرنے اور خستہ حال عمارتوں کی مرمت کی ہدایت دی گئی ہے۔
مانسون میں پرانی خستہ حال عمارتوں کے منہدم ہونے اور ایسے واقعات میں جانی نقصان ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس کے پیش نظر تھانے میونسپل کارپوریشن احتیاطی اقدامات کے طور پر ہر سال مانسون سے قبل شہر میں عمارتوں کا وارڈ کی سطرح پر سروے کرتی ہے جس کی بنیاد پر میونسپل اہلکار خطرناک عمارتوں کی فہرست تیار کرتے ہیں اور اس کا اعلان کرتے ہیں۔ گزشتہ سال تھانے میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں کل۹۶؍ انتہائی خطرناک عمارتیں اور ۴؍ ہزار ۳۱۱؍ خستہ حال عمارتیں تھیں۔ ان میں سے بلدیہ ۳۶؍ عمارتیں خالی کرانے میں کامیاب ہوا جبکہ۱۴؍عمارتوں کو منہدم کردیا گیا۔ امسال کے سروے میںان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
خستہ حال عمارتوں کی ۴؍ کیٹیگری
عمارتوں کے سروے میں ان کی مضبوطی کے اعتبار سے ۴؍ مختلف کیٹیگری بنائی گئی ہے۔ سی -۱، سی-۲؍ اے ، سی-۲؍بی اور سی -۳ ؍ہیں۔
سی -۱؍ کیٹیگری میں ان عمارتوں کو شمار کیاجاتا ہے جو رہائش کے قابل نہیں ہوتیں اور انہیں منہدم ہی کرنا ہوتا ہے۔ تھانے میں ایسی ۹۳؍ عمارتیں ہیں ۔سی ۲؍ اے کیٹیگری میں ان عمارتوں کوشمار کیاجاتا ہے جن کی مکانات خالی کر نے کے بعد مرمت کی جاسکے۔ ٹی ایم سی میں ایسی عمارتوں کی تعداد ۱۹۵؍ بتائی گئی ہے۔
سی ۲؍ بی کیٹیگری میں ان عمارتوں کو شمار کیاجاتا ہے جنہیں خالی کئے بغیر ڈھانچے کی مرمت درکا ر ہے۔ ٹی ایم سی میں ایسی عمارتوں کی تعداد۲؍ ہزار ۵۸۲؍ہے۔سی ۳؍ کیٹیگری میں ان عمارتوں کو شمار کیاجاتا ہے جنہیں معمولی مرمت کی ضرورت ہے اور ان کی بھی خالی کئے بغیر ہی ضروری مرمت کی جاسکتی ہے۔ ایسی عمارتوں کی تعدادایک ہزار ۵۶۸؍ ہے۔
ساڑھے ۳؍ لاکھ شہریوں کی جان کو خطرہ
میونسپل کارپوریشن کی عمارتوں میں بہت سے خاندان متبادل رہائش نہ ہونے کے سبب انتہائی خطرناک عمارتو ں میں رہتے ہیں ۔ سروے کے مطابق۸۹؍ ہزار ۸۳۵؍ خاندان ۴؍ ہزار ۳۴۴؍ خطرناک عمارتوں میں رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان عمارتوں میں ۱۰؍ ہزار ۸۷۰؍ کمرشیل گالے ہیں۔دریں اثناء ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق شہری انتظامیہ کی جانب سے انتہائی خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کرنے اورمکینوں کو دیگر جگہ منتقل ہونے کیلئے نوٹس دینے کا عمل جاری ہے۔ چونکہ کئی مقامات پر متبادل رہائش کا مسئلہ برقرار ہے اس لئےمکین تذبذب کا شکار ہیں۔
اس سلسلے میں تھانے کے ڈپٹی میونسپل کمشنر گجانن گوڈی پورے نے بتایا کہ ’’ انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ مانسون سے قبل ان عمارتوں کو خالی کرنے اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو عمارتوں کی مرمت کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں اور کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔‘‘
میونسپل وارڈ کی سطح پر مخدوش عمارتوں کی فہرست تھانے میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔ مکین اس سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
’’ عمارت کو مرمت کر کےانہیں بچایاجاسکتا ہے‘‘
اس سلسلے میں تھانے میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر اشرف ( شانو) پٹھان سے رابطہ قائم کرنے اور سب سے زیادہ خستہ حال عمارتیں ممبرا میں پائے جانے سے متعلق استفسار پر انہوںنے نمائندۂ انقلاب کو بتایاکہ ’’ اگر مکین ہر ۱۰؍ سال میں مرمت کروا لیں تو عمارتوں کو سی- ۱؍ کیٹیگری میں جانے سے اور منہدم ہونے سے بچایاجاسکتا ہےلیکن ممبرا کوسہ میں اکثر مکین عمارتوں کی مرمت نہیں کرواتے ۔ زیادہ تر مکین راضی بھی ہوتے ہیں تو چند ایک مکینوں کی جانب سے مرمت کیلئے رقم نہ دینے کے سبب عمارت کی مرمت نہیں ہو پاتی ۔ یہاں تک کہ بلڈنگ انتہائی خستہ حال ہو جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ تھانے میونسپل کارپوریشن نے اپنے سروے کے مطابق یہ فہرست جاری کی ہے لیکن مکین ٹی ایم سی کے پینل والے کسی آ ڈیٹر سے اپنے طور پر عمارت کی مضبوطی کی جانچ ( اسٹرکچرل آڈٹ) کروا سکتے ہیں ۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ جس عمارت کو ٹی ایم سی نے انتہائی خستہ حال قرار دیا ہے، اس کی دوبارہ جانچ میں اسےمرمت کے قابل بتایا گیا ہے اوراسے بروقت ریپئر کر کے بچایا جاسکتا ہےلیکن اگر مرمت نہیں کی گئی تو جس طرح نورانی ٹاور کو ٹی ایم سی کی عمارت ہونے کےباوجود منہدم کر دیا گیا ویسا ہی کرنا پڑے گا۔
کس وارڈ میں کتنی مخدوش عمارتیں
(۱)واگلے اسٹیٹ : ایک ہزار ۱۰۲۔ (۲)ممبرا:ایک ہزار ۳۶۲۔ (۳)نوپاڑہ / کوپری : ۴۳۸۔ (۴) دیوا : ۵۵۲۔ (۵) کلوا: ۲۸۶۔ (۶)لوکمانیہ نگر: ۲۵۷۔ (۷)ماجھی واڑہ: ۱۹۳۔ (۸) اتھلسر: ۱۷۸۔ (۹)ورتک نگر: ۶۱۔