Inquilab Logo Happiest Places to Work

بزرگ عالم دین مولانا محمود عالم رشیدی ۵۰؍سال بعد امامت سے سبکدوش

Updated: May 13, 2026, 7:04 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بزرگ عالم دین مولانا محمود عالم رشیدی طویل عرصے بعد اتوار ۱۰؍مئی کو امامت سے سبکدوش ہوگئے ۔مولانانے شیواجی نگر (گوونڈی) کی سنّی ہری جامع مسجد میں ۵۰؍ سال تک امامت وخطابت کے فرائض انجا م دیئے۔

A View Of The Reception Given To Maulana Mahmood Alam Rashidi.Photo:INN
مولانا محمود عالم رشیدی کو دیئے گئے استقبالیہ کا منظر- تصویر:آئی این این
بزرگ عالم دین مولانا محمود عالم رشیدی طویل عرصے بعد اتوار ۱۰؍مئی کو امامت سے سبکدوش ہوگئے ۔مولانانے شیواجی نگر (گوونڈی) کی سنّی ہری جامع مسجد میں ۵۰؍ سال تک امامت وخطابت کے فرائض انجا م دیئے۔ مولانانے سنّی جمعیۃ العلماء کے چاروں صدور مولانا سید آل مصطفےٰمارہروی، مولانا مشتاق احمد نظامی، تاج الشریعہ مولانااختر رضا خا ن ازہری کے علاوہ موجودہ صدر مولاناسید معین الدین اشرف عرف معین میاں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی طویل خدمات اور امامت وخطابت سے سبکدوشی پرسنّی بلال مسجد کے دفتر میں منگل ۱۲؍مئی کو استقبالیہ دیا گیا اوران کی طویل دینی خدمات کااعتراف کیا گیا۔
 
 
اس موقع پرجمعیۃ العلماءکے صدر معین میاں نےمولانا رشیدی کی خدمات کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ’’ہم لوگ آج ایک تاریخی لمحے کے گواہ بن رہے ہیں۔ ایک امام صرف نماز پڑھانے والا نہیں ہوتا وہ ایک رہنما، مربی، مصلح اور قوم کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو دین کی صحیح تعلیم دیتا ہے، اخلاق و کردار سنوارتا ہے اور ہر موڑ پرقوم کے ساتھ کھڑا رہتا ہے ۔ جب کوئی امام اپنی طویل خدمات کے بعد سبکدوش ہوتا ہے تو یہ لمحہ خوشی اور غم دونوں احساسات کو سمیٹے ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’مولانا نے نصف صدی پر محیط امامت کی خدمت انجام دی اور گوونڈی میں دین کی تعلیم کو عام کیا ۔ شہید راہ مدینہ مثنیٰ میاں کے ساتھ رہ کر فلاحی اور دینی کام انجام دیئے اور گونڈی کی ہری مسجدکو بنانے اور سنوار نے میں اہم رول ادا کیا ۔‘‘
 
 
اُ ن کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بانی رضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ’’ مولا نا محمود عالم رشیدی کی دینی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے نوجوانوں کی اصلاح، بڑوں کی رہنمائی اور معاشرے میں اتحاد و بھائی چارے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے خطبات علم و حکمت سے بھرپور ہوتے تھے جن سے لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہوتی تھی۔آپ کی زندگی سادگی، صبر اور حسن اخلاق کا نمونہ رہی۔آپ کی ان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘‘ مولانا محمودعالم رشیدی اس پزیرائی پر جذباتی ہوگئے، جسےحاضرین نے محسوس کیا ۔اس موقع پردیگرعلماء بھی موجود تھے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK