آندھرا پردیش کے مشرقی گھاٹ میں واقع چنتاپلی میں قدرتی حسن کے ساتھ قبائلی تہذیب، تاریخی ورثہ اور کافی کے باغات موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:58 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
آندھرا پردیش کے مشرقی گھاٹ میں واقع چنتاپلی میں قدرتی حسن کے ساتھ قبائلی تہذیب، تاریخی ورثہ اور کافی کے باغات موجود ہیں۔
ہندوستان میں قدرت نے کئی ایسے خطے تخلیق کیے ہیں جہاں پہاڑوں کی خاموشی، گھنے جنگلات، بادلوں سے ڈھکی وادیاں اور آبشاروں کا شور انسان کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ آندھرا پردیش کے مشرقی گھاٹ میں واقع چنتاپلی بھی ایک ایسی ہی خوبصورت سیاحتی منزل ہے۔ یہاں قدرتی حسن کے ساتھ قبائلی تہذیب، تاریخی ورثہ، کافی کے باغات اور زراعت سے وابستہ دیہی زندگی کے رنگ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چنتاپلی ضلع آلوری سیتاراما راجو کا ایک اہم قصبہ اور منڈل صدر مقام ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً۸۳۹؍ میٹرکی بلندی پر واقع ہے۔ اس علاقےکی پہچان اس کے سرسبز پہاڑ، جنگلات اور خوشگوار آب و ہوا ہے۔ چنتاپلی کے آس پاس لمباسنگی، کوتھاپلی آبشار اور تاجنگی آبی ذخیرے جیسی خوبصورت جگہیں موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں کا سفر صرف قدرتی نظاروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور مقامی قبائلی معاشرت سے واقف ہونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
لمباسنگی
چنتاپلی کے قریب واقع لمباسنگی اس پورے خطے کا سب سے مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اسے ’آندھرا پردیش کا کشمیر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً ایک ہزار میٹر کی بلندی پر واقع ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں ہے۔ یہاں کا موسم آس پاس کے میدانی علاقوں کے مقابلے میں خاصا سرد رہتا ہے۔ خاص طور پر دسمبر اور جنوری میں صبح کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے اور پہاڑوں کے درمیان پھیلی دھند پورے علاقے کو خواب ناک منظر میں تبدیل کردیتی ہے۔لمباسنگی کا سب سے بڑا حسن یہاں کی صبح ہے۔ طلوع آفتاب سے پہلے جب سیاح پہاڑی مقام پر پہنچتے ہیں تو نیچے وادی میں بادلوں اور دھند کی سفید چادر دکھائی دیتی ہے۔ سورج کی پہلی کرنیں جب پہاڑوں پر پڑتی ہیں تو پورا منظر روشن ہوجاتا ہے۔ فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہ خاص کشش رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیلنگ: قدرتی حسن، برف پوش کنچن جنگا اور سکم کی دلکش وادیاں
تاجنگی آبی ذخیرہ
لمباسنگی سے تقریباً۶؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاجنگی آبی ذخیرہ اس علاقے کا ایک خوبصورت قدرتی مقام ہے۔ چاروں جانب پہاڑوں اور سرسبز ڈھلوانوں کے درمیان پھیلا ہوا پانی یہاں آنے والوں کو سکون کا احساس دلاتا ہے۔یہاں کا ماحول خاص طور پر ان لوگوں کو پسند آتا ہے جو شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور کچھ وقت قدرت کے درمیان گزارنا چاہتے ہیں۔یہاں کشتی رانی اور بعض تفریحی سرگرمیوں کی سہولت بھی فراہم کی جاتی رہی ہے، تاہم ان کی دستیابی موسم اور مقامی انتظامات کے مطابق بدل سکتی ہے۔
کوتھاپلی آبشار
چنتاپلی کے وسیع پہاڑی علاقے میں واقع کوتھاپلی آبشار قدرتی حسن سےمحبت کرنے والوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ یہ آبشار ضلع آلوری سیتاراما راجو کے گنگاراجو مڈوگولا علاقے میں واقع ہے۔ اس کے اطراف گھنے جنگلات، پہاڑی ڈھلوانیں اور قدرتی سبزہ موجود ہے۔بارش کے موسم کے بعد جب پہاڑوں سے پانی آبشار کی صورت میں نیچے گرتا ہے تو اس کا حسن مزید بڑھ جاتا ہے۔ پانی کی آواز، درختوں کی سرسراہٹ اور جنگل کا پرسکون ماحول یہاں آنے والوں کو ایک الگ ہی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
کافی اور کالی مرچ کے باغات
چنتاپلی اور لمباسنگی کے اطراف کافی اور کالی مرچ کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ پہاڑی موسم اور جنگلات سے گھرا ماحول ان فصلوں کی کاشت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مختلف مقامات پر کافی کے پودے اور کالی مرچ کی بیلیں دیکھی جاسکتی ہیں۔اس علاقے میں اسٹرابیری اور دیگر پھلوں کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ سردیوں کے موسم میں اسٹرابیری کے کھیت خاص طور پر توجہ حاصل کرتے ہیں۔ سیاح مقامی کسانوں سے ان فصلوں کی کاشت کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
چنتاپلی کا تاریخی پولیس اسٹیشن
چنتاپلی صرف قدرتی مناظر کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بھی اس کا ایک نمایاں مقام ہے۔ یہاں واقع پولیس اسٹیشن کا نام مجاہد آزادی آلوری سیتاراما راجو کی جدوجہد کے حوالے سے تاریخ میں درج ہے۔۲۲؍ اگست ۱۹۲۲ءکو آلوری سیتاراما راجو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی کا مقصد انگریز حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود حاصل کرنا تھا۔ اس کے بعد کرشنا دیوی پیٹا اور راجا اومنگی کے پولیس اسٹیشنوں پر بھی حملے کیے گئے۔ یہ واقعات ’رامپا بغاوت‘ یا ’منیّم بغاوت‘ کے نام سے مشہور ہوئے، جو۱۹۲۲ء سے ۱۹۲۴ءتک جاری رہی۔