اس کا ساحلی علاقہ کوکن کی قدرتی خوبصورتی کا نمایاں حصہ ہے، ایک طرف بحر عرب کی نیلگوں لہریں ہیں تو دوسری طرف ناریل، سپاری اور دیگردرخت۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 12:06 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اس کا ساحلی علاقہ کوکن کی قدرتی خوبصورتی کا نمایاں حصہ ہے، ایک طرف بحر عرب کی نیلگوں لہریں ہیں تو دوسری طرف ناریل، سپاری اور دیگردرخت۔
رائے گڑھ میں بحرعرب کے کنارے واقع کاشد بیچ قدرتی حسن، سنہری ریت، نیلے پانی اور سرسبز درختوں کے لیے مشہور ہے۔ ممبئی سےزیادہ دور نہ ہونے کی وجہ سے یہ ساحل ان لوگوں کے لیے ایک پُرکشش مقام ہے جو شہر کی مصروف زندگی سے نکل کر سمندر کی لہروں، کھلی فضا اور قدرتی ماحول میں چند گھنٹے یا ایک دو دن گزارنا چاہتے ہیں۔ یہاں ساحل کی وسعت، ریت پر چلتی سمندری لہریں اور کنارے پر لہراتے درخت ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اہم خصوصیت
کاشد بیچ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی نسبتاً سفید اور نرم ریت ہے۔مہاراشٹر کے کئی ساحلوں کے مقابلے یہاں ریت کا رنگ زیادہ ہلکا دکھائی دیتاہے،جبکہ سمندر کا نیلا پانی ساحل کے منظر کو مزید دلکش بناتا ہے۔ ساحل کے بعض حصوں میں کاسوارینا کے درخت بھی نظر آتے ہیں، جو تیز دھوپ میں سایہ فراہم کرتے ہیں اور قدرتی منظر میں اضافہ کرتے ہیں۔یہ ساحل فوٹوگرافی کے شوقین افراد کیلئےبھی اچھا مقام ہے۔ صبح کے وقت سمندر پر پڑتی سورج کی روشنی، ریت پربنتےقدموں کے نشان اور لہروں کی مسلسل آمد و رفت خوبصورت تصاویر کیلئےموزوں مناظر فراہم کرتی ہے۔
دیگر سرگرمیاں
کاشد بیچ کی سیر کا لطف صرف سمندر دیکھنے تک محدود نہیں۔ یہاں آنے والے سیاح اپنی دلچسپی کے مطابق کئی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
چہل قدمی: اگر آپ سکون اور قدرتی ماحول کے شوقین ہیں تو ساحل پرپیدل چلنا ایک بہترین تجربہ ہوسکتاہے۔ نرم ریت پر چلتے ہوئے سمندرکی لہروں کی آواز اور کھلی فضا ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔ صبح کے وقت ساحل پر نسبتاً پرسکون ماحول مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دیوگڑھ قلعہ: سمندر کی نگرانی کرنے والا ایک اہم تاریخی قلعہ
واٹر اسپورٹس: موسم اور سمندر کی صورتحال سازگار ہونے پر یہاں جیٹ اسکی، پیراسیلنگ اور بنانا بوٹ جیسی سرگرمیاں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان کی دستیابی ہر وقت یقینی نہیں ہوتی۔
فوٹوگرافی: قدرتی مناظر کی تصاویر لینے کے شوقین افراد کے لیے یہ ساحل ایک اچھا مقام ہے۔ سمندر، ریت، ساحلی درخت اور دور دکھائی دینے والی پہاڑیاں تصاویرکو دلکش بناتی ہیں۔ صبح اور شام کی روشنی میں یہاں مختلف زاویوں سے تصویریں لی جاسکتی ہیں۔
وقت گزارنا: بچے ریت پر کھیل سکتےہیں اور بڑے افرادسمندر کے کنارے بیٹھ کر قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
جنجیرہ قلعہ:کاشد بیچ کی سیر کو مزید یادگار بنانے کے لیے مروڈ جنجیرہ قلعہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سمندر کے درمیان واقع ایک تاریخی قلعہ ہے، جو اپنی مضبوط فصیلوں، دفاعی تعمیرات اور سمندری محلِ وقوع کے لیے مشہور ہے۔
کیسے پہنچیں؟
کاشد بیچ ممبئی سے تقریباً ۱۲۵؍تا ۱۴۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سڑک کے ذریعے سفر میں عام طور پر۳؍تا۴؍گھنٹےلگ سکتےہیں، تاہم ہفتہ وار تعطیلات، ٹریفک اور راستے کی صورت حال کے مطابق وقت بڑھ بھی سکتا ہے۔
سڑک کے ذریعے:ممبئی سے کاشد جانے کیلئےپین اور علی باغ کی سمت سفر کیا جاسکتا ہے۔ علی باغ پہنچنے کے بعد مروٹ جانے والی سڑک اختیار کریں۔ اسی راستے پر کاشد بیچ واقع ہے۔سفر کے دوران کوکن کے دیہی مناظر، ناریل کے درختوں اور سرسبز ماحول سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔اگر اپنی گاڑی سے سفر کررہے ہیں تو صبح جلد نکلنا بہتر ہے، خصوصاً سنیچراور اتوار کے دن۔
فیری اور سڑک کے ذریعے: جنوبی ممبئی سے سفر کرنے والے گیٹ وے آف انڈیا سے مانڈوا جیٹی تک دستیاب فیری سروس کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔ مانڈوا پہنچنے کے بعد علی باغ اور وہاں سے کاشد جانے کے لیے ٹیکسی یا دوسری مقامی سواری لینی ہوگی۔