گھنے جنگلات میں ہاتھیوں اور ہرنوں کی موجودگی، پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلے چائے اور الائچی کے باغات اور جھیل کا پرسکون پانی سیاحت کو یادگار بناتے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 12:26 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
گھنے جنگلات میں ہاتھیوں اور ہرنوں کی موجودگی، پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلے چائے اور الائچی کے باغات اور جھیل کا پرسکون پانی سیاحت کو یادگار بناتے ہیں۔
تھیکاڈی ریاست کیرالہ کے ضلع اڈوکی میں واقع ہے اور تمل ناڈو کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں دونوں ریاستوں کی تہذیب اور طرزِ زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس علاقے کا نام ملیالم زبان کے لفظ ’تیکّو‘ سے ماخوذ بتایا جاتا ہے، جس کے معنی ساگوان کی لکڑی ہیں۔ تھیکاڈی کی شناخت دراصل پیریار کے جنگلات اور پیریار ٹائیگر ریزرو سے وابستہ ہے۔ یہاں سیاحوں کو جنگلی حیات کے مشاہدے کے ساتھ کشتی رانی، جنگل میں پیدل سفر، بانس کی کشتیوں کی سیر، مسالوں کے باغات کی سیر اور روایتی فنون سے واقف ہونے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔
پیریار جھیل
تھیکاڈی کی سیاحت پیریار جھیل کی سیر کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ جنگلات اور پہاڑیوں سے گھری یہ جھیل دراصل ملاپیریار ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں وجود میں آنے والا آبی ذخیرہ ہے۔ جھیل کے چاروں طرف پھیلی ہریالی اور پانی میں جھلکتے پہاڑ اس مقام کو غیر معمولی حسن عطا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شموگّا: آبشاروں، سرسبز پہاڑوں اور تاریخی ورثے کی دلکش سرزمین
ملاپیریار ڈیم
ملاپیریار ڈیم تھیکاڈی کے قدرتی منظرنامے کا اہم حصہ ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر انیسویں صدی میں ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں پیریار کا آبی ذخیرہ وجود میں آیا، جس نے آس پاس کے جنگلات اور پہاڑی مناظر کی دل کشی میں اضافہ کیا۔ ڈیم کی وجہ سے بننے والی جھیل آج پیریار ٹائیگر ریزرو میں کشتی رانی اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا اہم ذریعہ ہے۔
پیریار ٹائیگر ریزرو
تھیکاڈی کا سب سے اہم سیاحتی مقام پیریار ٹائیگر ریزرو ہے، جہاں قدرتی جنگلات، گھاس کے میدان، پہاڑی علاقے اور پانی کے ذخائر مختلف اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو پناہ دیتےہیں۔یہ محفوظ جنگلاتی علاقہ تقریباً۷۷۷؍مربع کلومیٹر پر پھیلا ہواہے اور جنوبی ہندوستان کے نمایاں جنگلی حیات کے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔اس ریزرو میں ایشیائی ہاتھی، بنگال ٹائیگر، ہندوستانی بائسن، سانبھر ہرن، جنگلی سور، تیندوا اور بندروں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہاں پرندوں کی بھی خاصی متنوع دنیا آباد ہے، جس میں ہارن بل، کنگ فشر اور کئی دوسرے جنگلاتی پرندے شامل ہیں۔
مرِکّڈی
تھیکاڈی سے کچھ فاصلے پر واقع مرِکّڈی مسالوں اور باغات کیلئےمعروف ہے۔ یہاں کی پہاڑی ڈھلوانوں پر کالی مرچ، الائچی اور دیگر مسالوں کی کاشت کی جاتی ہے۔ گھنے درختوں، نم آلود فضا اور سبز پودوں کے درمیان گھومتے ہوئے سیاحوں کو کیرالہ کی زرعی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔کیرالہ کو مسالوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور اس خطے کی تاریخ میں مسالوں کی تجارت کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ مرِکّڈی کی سیر کے دوران یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ الائچی، کالی مرچ اور دارچینی جیسے مسالے کس طرح اگائے جاتے ہیں اور ان کی کاشت کے لیے کس قسم کے موسم اور زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:منسیاری: پنچ چولی کی برف پوش چوٹیوں میں چھپی خوبصورت وادی
چیلارکوول
تھیکاڈی کے آس پاس قدرتی مناظر دیکھنے کے خواہش مند سیاحوں کیلئے چیلارکوول ایک خوب صورت مقام ہے۔ یہ علاقہ اپنی بلند و بالا پہاڑیوں، سرسبز وادیوں اور دور تک پھیلے قدرتی مناظر کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں سے کیرالہ کی ہری بھری پہاڑیوں کے ساتھ تمل ناڈو کی جانب پھیلے میدانی علاقےبھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
اناکّرا
اناکّرا تھیکاڈی کے اطراف کا ایک اور دلکش علاقہ ہے، جو اپنی سرسبززمین، مسالوں کے باغات اور پرسکون دیہی ماحول کیلئےجانا جاتاہے۔ یہاں بڑے شہروں جیسی بھاگ دوڑ کے بجائے زندگی نسبتاً سست رفتار دکھائی دیتی ہے۔ باغات، چھوٹے دیہات اور قدرتی راستے اس علاقے کو ان سیاحوں کیلئے موزوں بناتے ہیں جو صرف مشہور سیاحتی مقامات ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
گوی
اگر تھیکاڈی کے سفر میں ایک دن مزید شامل کیا جاسکے تو گوی کی سیرپر غور کیا جاسکتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے گھنے جنگلات، پہاڑی راستوں، آبی ذخائر اور قدرتی ماحول کیلئےمشہور ہے۔ یہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان آبادی سے دور کسی ایسی دنیا میں آگیا ہو جہاں درختوں، پرندوں اور جنگلی حیات کی اپنی الگ زندگی ہے۔
پانڈیکوزھی
پانڈیکوزھی تھیکاڈی کے آس پاس کا ایک قدرتی مقام ہے جہاں ہری بھری پہاڑیاں، چھوٹے آبی راستے اور سرسبز وادیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فطرت کے درمیان کچھ وقت گزارنے اور تصاویر لینے کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہ پسندیدہ ہوسکتی ہے۔