یہ ان خوبصورت ساحلوں میں شامل ہے جہاں سمندر کی لہریں، ناریل کے درختوں کی قطاریں، سرسبز پہاڑیاں مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 12:38 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ ان خوبصورت ساحلوں میں شامل ہے جہاں سمندر کی لہریں، ناریل کے درختوں کی قطاریں، سرسبز پہاڑیاں مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔
کوکن خطےمیں بحیرۂ عرب کے کنارے واقع شری وردھن بیچ ان خوبصورت ساحلی مقامات میں شامل ہے جہاں سمندر کی لہریں، ناریل کے درختوں کی قطاریں، سرسبز پہاڑیاں اور ماہی گیروں کی روایتی زندگی مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے مصروف شہروں کی بھاگ دوڑ سے دور چندپُرسکون لمحے گزارنے کے خواہش مند سیاحوں کیلئےیہ مقام ایک اچھا انتخاب ہے۔ رائے گڑھ ضلع میں واقع شری وردھن نہ صرف اپنے ساحل بلکہ مراٹھا تاریخ، پیشواؤں کے ورثے اور کوکنی تہذیب کے لیے بھی پہچانا جاتا ہے۔
اہم خصوصیت
شری وردھن بیچ بحر عرب کے ساحل پر پھیلا ہوا ایک طویل ساحل ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً۳؍کلومیٹرہے۔یہاں کی ریت بعض حصوںمیں سیاہی مائل دکھائی دیتی ہے، جبکہ ساحل کے اطراف ناریل اور آم کے درخت کوکن کے روایتی قدرتی مناظر کو مزید خوب صورت بناتے ہیں۔ صبح کے وقت ساحل پر ٹہلنا ایک خوش گوار تجربہ ہوسکتاہے۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا، لہروں کی آواز اور دورپانی میں مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں کی آمد و رفت اس مقام کو خاص کشش عطا کرتی ہے۔شام کے وقت سورج جب آہستہ آہستہ سمندر کی سمت ڈھلنے لگتا ہے تو آسمان کے بدلتے رنگ اور لہروں پر پڑتی روشنی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔یہ ساحل ان لوگوں کے لیے بھی موزوں ہے جو شور شرابے اور بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت کے درمیان وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ یہاں کسی خاص سرگرمی میں حصہ لینا ضروری نہیں، سمندر کے کنارے بیٹھ کر لہروں کو دیکھنا اور کوکن کی ہوا میں سانس لینا بھی سفر کا ایک یادگار حصہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کاشد بیچ: کوکن کے ساحل پر قدرت کا دلکش نظارہ
شری وردھن کی تاریخی اہمیت
شری وردھن کی اہمیت صرف اس کے ساحل تک محدود نہیں۔ اس قصبے کا نام مراٹھا تاریخ کے ایک اہم دور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسے پیشوا بالاجی وشوناتھ کی جائے پیدائش کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ بالاجی وشوناتھ اٹھارہویں صدی کے ابتدائی دور میں مراٹھا سلطنت کے اہم سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور پیشوا کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔
کونکنی کھانوں کا ذائقہ
شری وردھن کا سفر مقامی کھانوں کے بغیر ادھورا محسوس ہوسکتا ہے۔کوکن کے اس خطے میں ناریل، مقامی مصالحوں، چاول اور سمندری خوراک کا استعمال عام ہے۔ مقامی ہوٹلوں اور کھانے پینے کی جگہوں پر مالونی یا کوکنی طرز کی مچھلی کی سالن، تلی ہوئی مچھلی، جھینگے اور چاول پر مشتمل کھانے ملتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ سول کڑی بھی آزمانے کے قابل ہے۔ ناریل کے دودھ اور کوکم سے تیار ہونے والا یہ روایتی مشروب کوکن کے کھانوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔ مقامی بازاروں میں مچھلیوں کی خرید و فروخت دیکھ کر اس علاقے کی ساحلی معیشت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے شری وردھن جانے کے لیے سڑک کا سفر سب سے عملی انتخاب ہے۔ مہاراشٹر کے محکمۂ سیاحت کے مطابق شری وردھن ممبئی سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم اصل فاصلہ منتخب راستے اور سفر کے نقطۂ آغاز کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے۔
سڑک کے ذریعے: ممبئی سے پنویل اور مانگاؤں کی سمت سفر کرکے شری وردھن پہنچا جاسکتا ہے۔ روانگی سے پہلے نقشے پر موجودہ راستے اور سڑکوں کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ نجی گاڑی سے سفر کرنے والوں کے لیے راستے میں کوکن کے دیہی مناظر، سرسبز پہاڑیاں اور ساحلی علاقے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
ٹرین کے ذریعے: شری وردھن کااپنا ریلوے اسٹیشن نہیں ہے۔ مانگاؤں ریلوے اسٹیشن ایک اہم متبادل ہے، جہاں سے آگے بس یا ٹیکسی کے ذریعے سفر مکمل کیا جاسکتا ہے۔ ٹرین اور سڑک کے سفر کو ملا کر منصوبہ بنائیں اور روانگی سے پہلے کنیکٹیویٹی کی تصدیق کرلیں۔