• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیلنگ: قدرتی حسن، برف پوش کنچن جنگا اور سکم کی دلکش وادیاں

Updated: October 28, 2026, 12:35 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یہاں پہاڑی راستے، تاریخی مقامات، قدیم عمارتیں، جھرنے، جھیلیں اور مقامی ثقافت سے روشناس ہونے کے متعدد مواقع موجود ہیں۔

Glass skywalk. Photo: INN
شیشے کااسکائی واک۔ تصویر: آئی این این

ہمالیہ کے دامن میں واقع سکم اپنی دل فریب وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، بدھ خانقاہوں، آبشاروں اورگھنے جنگلات کیلئے مشہور ہے۔ اسی خوب صورت ریاست کے مغربی حصے میں واقع پیلنگ  ایک ایسا سیاحتی مقام ہے جہاں قدرت نے اپنے حسن کو کھلے دل سے لٹایاہے۔ یہاں صبح کی پہلی کرن جب برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں پرپڑتی ہے تو پورا منظر سنہری روشنی میں نہا جاتا ہے۔ بادل کبھی پہاڑوں کو اپنی آغوش میں چھپا لیتے ہیں تو کبھی اچانک ہٹ کر ہمالیہ کی عظمت کو آشکار کر دیتے ہیں۔

کنچن جنگا 

پیلنگ کی سب سے بڑی کشش ہمالیہ کے بلند پہاڑوں کا نظارہ ہے۔ یہاں سےکنچن جنگا کے برف پوش سلسلے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کنچن جنگا دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی بلندی تقریباً ۸۵۸۶؍ میٹر ہے۔ 

صبح سویرے آسمان صاف ہو تو پہاڑوں پر سورج کی سنہری کرنیں ایک دل موہ لینے والا منظر پیش کرتی ہیں۔ فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ البتہ بادلوں اور دھند کی وجہ سے بعض اوقات پہاڑ دکھائی نہیں دیتے، اس لیے صبح کا وقت بہتر رہتا ہے۔ 

چنریزیگ اور گلاس اسکائی واک

پیلنگ کے نمایاں جدید سیاحتی مقامات میں چنریزیگ کا بلند مجسمہ اور اس کے قریب بنایاگیا شیشے کا اسکائی واک شامل ہیں۔ چنریزیگ بدھ مت کی روایت میں رحم و کرم کی علامت مانے جاتے ہیں۔ مجسمے کے احاطے سے پہاڑی وادیوں کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسکائی واک کی خاص بات اس کا شفاف شیشے کا فرش ہے، جس پر چلتے ہوئے نیچے کی گہرائی اور آس پاس کا قدرتی منظر دکھائی دیتا ہے۔ بلندی سے خوف محسوس کرنے والوں کیلئے یہ تجربہ قدرے سنسنی خیز ہو سکتا ہے۔ موسم، مرمت یا حفاظتی انتظامات کے سبب یہاں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے، اس لیے روانگی سے پہلے موجودہ صورت حال معلوم کرلیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تھیکاڈی: قدرتی حسن، گھنے جنگلات اور مسالوں سےمہکتا ہل اسٹیشن

ربڈینتسے کے تاریخی آثار

اگر آپ کو تاریخ اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی ہے تو ربڈینتسے کے آثار ضرور دیکھنے چاہئیں۔ یہ مقام سابق ریاستِ سکم کا دوسرا دارالحکومت تھا۔ یہاں ۱۶۷۰ء سے ۱۸۱۴ء تک حکمرانوں کامرکز رہا، جس کے بعد گورکھا فوج کے حملوں کے نتیجے میں یہ بستی تباہ ہوگئی۔آج یہاں شاہی عمارتوں کے باقیات، پتھر کی دیواریں اور مذہبی یادگاریں موجود ہیں۔ مرکزی سڑک سے آثار تک پہنچنے کے لیے جنگل کے درمیان پیدل راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ سرسبز درختوں کے درمیان قدیم عمارتوں کے آثار دیکھ کر سکم کی شاہی تاریخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ بلند مقام سے پہاڑوں کا نظارہ بھی اس مقام کی کشش بڑھاتا ہے۔ 

کھیچوپالری جھیل

کھیچوپالری جھیل مغربی سکم کی مشہور مقدس جھیلوں میں سے ایک ہے۔ گھنے جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان واقع اس جھیل کا ماحول نہایت پُرسکون ہے۔ بدھ مت کے ماننے والوں کے ساتھ ہندو عقیدت مند بھی اسے مقدس سمجھتے ہیں۔

مقامی عقیدے کے مطابق یہ خواہشات پوری کرنے والی جھیل ہے۔ اس کے پانی اور اطراف کی صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ جھیل کے گرد موجود جنگلات، خاموش فضا اور قدرتی مناظر سیاحوں کو دیر تک ٹھہرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

سنگشور معلق پل

سنگشور پل مغربی سکم کے معروف مقامات میں شامل ہے۔ یہ ایک گہری وادی کے اوپر بنایا گیا معلق پل ہے، جہاں سے نیچے پھیلے جنگلات اورپہاڑی ڈھلوانوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس پل کی ساخت اوربلندی انجینئرنگ میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئےبھی قابلِ توجہ ہے۔پل پر چلتے ہوئے وادی کی وسعت کا احساس ہوتا ہے اور قدرتی مناظر کی تصاویر لینے کے کئی مواقع ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شموگّا: آبشاروں، سرسبز پہاڑوں اور تاریخی ورثے کی دلکش سرزمین

کنچن جنگا آبشار

پیلنگ کے آس پاس آبشاروں کی سیر قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کنچن جنگا آبشار اپنے بلند پتھریلےحصے سے گرتے پانی اور اس کی گونج کے لیے مشہور ہے۔ سبز پہاڑوں کے درمیان بہتا پانی اس مقام کو دلکش بناتا ہے۔ 

رمبی آبشار اور اورنج گارڈن

رمبی آبشار اور اس کے آس پاس کا قدرتی علاقہ پیلنگ کے سیاحتی سفر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں بہتے پانی، پتھریلی زمین اور سرسبز درختوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ قریبی اورنج گارڈن میں مقامی پھلوں اور باغبانی کے ماحول سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK