Inquilab Logo Happiest Places to Work

داتے گڑھ قلعہ: سہیادری کی چوٹی پر ایستادہ تاریخ کا نگہبان

Updated: June 04, 2026, 11:13 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

ستارا سے ۷۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر یہ قلعہ سطح سمندر سے۳؍ہزار۴۰۰؍فٹ کی بلندی پر واقع ہونے سے آس پاس کا وسیع علاقہ نظرآتا ہے۔

The Surface Of The Fort Is Visible.Photo:INN
قلعہ کی سطح نظر آرہی ہے۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کی سرزمین قلعوں کی سرزمین کہلاتی ہے۔ یہاں سہیادری کے بلند و بالا پہاڑوں پر ایسے بے شمار قلعے موجود ہیں جو صدیوںپرمحیط تاریخ، جنگی حکمت عملی اورمراٹھا سلطنت کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں۔ انہی تاریخی قلعوں میں ایک اہم نام داتے گڑھ قلعہ کا ہے، جسے مقامی طور پر’سندرگڑ‘بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ قلعہ رائے گڑھ قلعہ یا پرتاپ گڑھ قلعہ کی طرح زیادہ مشہور نہیں، لیکن اس کی تاریخی اہمیت، قدرتی حسن اور منفرد تعمیرات اسے مہاراشٹر کے دلچسپ قلعوں میں شامل کرتی ہیں۔
محل وقوع
داتے گڑھ قلعہ مہاراشٹرکے پاٹن تعلقہ میں واقع ہے۔ یہ قلعہ ستاراسےتقریباً ۷۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً ۳؍ہزار ۴۰۰؍فٹ کی بلندی پر قائم یہ قلعہ آس پاس کے وسیع علاقے پر نظر رکھتا ہے۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ قلعے کے گرد سہیادری کے سرسبز پہاڑ، گہری وادیاں اور دور تک پھیلے ہوئے جنگلات ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔
نام کی وجہ
مؤرخین کے مطابق قلعے کا نام داتےخاندان سے منسوب ہے،جو اس علاقے کے بااثر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بعض تاریخی حوالوں میں اسے’سندرگڑ‘کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ’داتے گڑھ‘ نام زیادہ مشہور ہو گیا۔
تاریخی پس منظر
داتے گڑھ کی تعمیر کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ اس کی بنیاد بہمنی یا عادل شاہی دور میں رکھی گئی ہونگی۔ بعد میں یہ قلعہ مراٹھوں کے قبضے میں آیا اور اس نے سہیادری کے دفاعی نظام میں اہم کردار ادا کیا۔سترہویں صدی میں جب چھترپتی شیواجی مہاراج نےمراٹھا سلطنت کی بنیاد رکھی تو سہیادری کے بیشتر قلعوں کی طرح داتے گڑھ بھی ان کے فوجی نظام کا حصہ بن گیا۔ اگرچہ اس قلعے کا ذکر بڑی جنگوں میں کم ملتا ہے، لیکن یہ ایک نگراں اور حفاظتی قلعے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔
قلعے کی ساخت
داتے گڑھ کا رقبہ نسبتاً چھوٹا ہے، مگر اس کی تعمیر نہایت دلچسپ ہے۔قلعے کی چوٹی زیادہ وسیع نہیں، لیکن یہاں موجود چند تاریخی آثار سیاحوں اور تاریخ کے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ قلعے تک پہنچنے کے لیے پتھروں کو تراش کر بنائی گئی سیڑھیاں موجود ہیں۔ یہ سیڑھیاں صدیوں پرانی انجینئرنگ کا ایک عمدہ نمونہ سمجھی جاتی ہیں۔ پہاڑی چٹانوں کو کاٹ کر راستہ بنانا اس زمانے کے معماروں کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
 
 
ٹریکنگ کا تجربہ
داتے گڑھ ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے ایک بہترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ قلعے تک پہنچنے کا راستہ زیادہ مشکل نہیں، اس لیے نئے ٹریکرز بھی آسانی سے یہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔
راستے میں سہیادری کے خوبصورت مناظر سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ صبح سویرے یا شام کے وقت چوٹی سے سورج کے طلوع اور غروب کا منظر خاص طور پر دل موہ لینے والا ہوتا ہے۔
توپ اور قلعہ بندیاں
قلعے پر ایک قدیم توپ بھی موجود ہے جو اس کے فوجی ماضی کی یاد دلاتی ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ قلعے کی بیشتر فصیلیں اور عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں، لیکن باقی ماندہ آثار آج بھی اس کے دفاعی کردار کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
 
 
یہاں کیسے پہنچیں؟
داتے گڑھ پہنچنے کے لیے سب سے پہلےستارا یا کراڈپہنچا جا سکتا ہے۔ وہاں سے سڑک کے ذریعے پاٹن اور پھر قلعے کے دامن تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ذاتی گاڑی کے ذریعے سفر سب سے زیادہ آسان ہے، کیونکہ عوامی ٹرانسپورٹ محدود ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK