پرانے محلوں کے علاوہ دھولپور اپنی قدرتی خوبصورتی اور گھنے جنگلات کیلئے بھی مشہور ہے،مغل حکمراں اسے اپنی راجدھانی بنانے والے تھے۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 10:58 AM IST | Mohammed Habeeb | New Delhi
پرانے محلوں کے علاوہ دھولپور اپنی قدرتی خوبصورتی اور گھنے جنگلات کیلئے بھی مشہور ہے،مغل حکمراں اسے اپنی راجدھانی بنانے والے تھے۔
راجستھان ایک ایسی ریاست ہےجہاں کئی شہر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے ہی شہروں میں ایک نام دھولپور شہر کا بھی آتا ہے۔ دھولپور دراصل راجستھان کا ایک اہم شہر ہے جو اپنے سرخ رنگ کے سینڈ اسٹون (بلوا پتھر)کیلئے مشہور ہے۔دھولپور اپنی قدرتی خوبصورتی اور گھنے جنگلات کیلئےمشہورہے۔
تاریخی اہمیت
دھولپور۱۹۸۲ءمیںباقاعدہ طور پر راجستھان کا ایک ضلع بنا، اس سے قبل اسے دھول گیری اوربعد ازاں دھولاگیری کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ آٹھویں سے دسویں صدی کے درمیان دھولپور چوہانوں کے زیرِ اقتدار رہا اور ۱۱۹۴ءتک یہ محمدغوری کے زیر قیادت میں رہا۔ پانی پت کی جنگ کے بعد یہ علاقہ مغلوں کے قبضے میں آ گیا۔کہا جاتا ہے کہ مغل حکمراں دھولپور کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوئےکہ انہوں نے یہاں اپنی راجدھانی بنانےکے ارادے سے کئی محل تعمیر کروائے، لیکن بعد میں مقامی افراد کی ناراضگی کے باعث یہ مقام چھوڑ دیا اور فتح پور سیکری کی بنیاد رکھی۔
رام ساگر سینکچری
رام ساگر سینکچری دھولپور کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جو آبی حیات کی بے شمار اقسام کے لیے مشہور ہے۔ یہ سینکچری رام ساگر جھیل کے ارد گرد واقع ہے،جہاں سانپوں، مگرمچھوں اور نایاب مچھلیوں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہاں اسٹِلٹ، کارمورینٹ، سفید سینے والاواٹر ہین، ڈارٹر، ہیرون، رنگڈ پلوور، ریور ٹرن، موریَن، آئیبس، سینڈپائپر اور جیکانا جیسے آبی پرندے دیکھے جا سکتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں یہاں مہاجر بطخوں اور ہنسوں کی بڑی تعداد بھی نظر آتی ہے۔ اگر آپ دھولپور جائیں تو رام ساگر سینکچری کی سیر ضرور کریں۔
شیرگڑھ کا قلعہ
شیرگڑھ کا قلعہ دھولپور کا ایک نمایاں تاریخی مقام ہے،جو قومی شاہراہ نمبر۲؍کے قریب دریائے چمبل کے کنارے، شہر سے تقریباً ۷؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس قلعے کی تعمیر ۱۵۴۰ءمیں شیر شاہ سوری نے کروائی تھی۔ یہ قلعہ مالوہ اور گوالیار پر قبضے کے خواہش مند حملہ آوروں کیلئے ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوا۔ قلعے میں چار دروازے ہیں، جن میں مشرقی دروازہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اندر ایک ہنومان مندر، ایک مقبرہ، محل کی عمارت اور دیگر کھنڈر موجود ہیں۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مقام خاص کشش رکھتا ہے۔
تالابِ شاہی
تالابِ شاہی دھولپور شہرسےتقریباً ۲۷؍کلومیٹر اور شہر کے مضافات سے۵؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک دلکش جھیل ہے۔ اس کی تعمیر۱۶۱۷ءعیسوی میں شہزادہ شاہجہاں کے لیے شکار گاہ کے طور پرکی گئی تھی۔ یہاں مختلف اقسام کے مہاجر پرندے دیکھے جا سکتے ہیں، جو اس مقام کو قدرتی حسن سے بھر دیتے ہیں۔
خانپور محل
تالابِ شاہی کے قریب ہی خانپور محل واقع ہے، جسے بھی شاہجہاں کیلئےتعمیر کروایا گیا تھا۔ یہ ایک نہایت خوبصورت محل ہے، اگرچہ اسے کبھی استعمال میں نہیں لایا گیا۔ جھیل اور محل دونوں کی دیکھ بھال دھولپور کے مقامی حکمرانوں کے زیرِ نگرانی ہوتی رہی۔ دھولپور کے سفر میں ان دونوں مقامات کو ضرور شامل کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:کنیڈا کے صوبے کولمبیا میں فائرنگ، ۱۰؍ افراد ہلاک، ۲۵؍ زخمی
ون وہار وائلڈ لائف سینکچری
ون وہار وائلڈ لائف سینکچری ون دھیہ پہاڑی سلسلے پر واقع ہے اور تقریباً ۶۰؍مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں چیتل، سانبھر(ہرن)، تیندوا، نیل گائے،جنگلی ریچھ اور ہائینا جیسے جانور پائے جاتے ہیں۔ یہ سینکچری اپنی فطری خوبصورتی اور دھوک کے درختوں سے گھری فضا کے لیے مشہور ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیا پرینکا چوپڑہ ’’ڈان ۳‘‘ اور ’’کرش ۴‘‘ کی تیاری کررہی ہیں؟
دھولپور محل
دھولپور پیلس، جسے راج نواس پیلس بھی کہا جاتا ہے، راجستھان کا ایک تاریخی ورثہ ہے جس کی بنیاد انیسویں صدی کے بعد رکھی گئی تھی۔ سرخ رنگ کے بلوا پتھر سے تعمیر کیا گیا یہ محل دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ اب اسے ایک ورثہ ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں قیام کر کے سیاح شاہانہ زندگی کا تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔