• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دریشیم: دی کنکلوژن اپنی کہانی سے تاثر قائم کرنے میں کامیاب

Updated: October 03, 2026, 1:01 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

سیریز کی دوسری فلم سے کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے لیکن اس کی کہانی موہن لال کی اصل ملیالم فلم سے مختلف بنائی گئی ہے، اداکاری بہت عمدہ ہے۔

Ajay Devgn, Jaideep Ahlawat, and others can be seen in a scene from the film `Drishyam: The Conclusion`. Photo: INN
فلم’دریشیم:دی کنکلوژن‘کےایک منظر میں اجے دیوگن، جے دیپ اہلاوت اور دیگرکو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

دریشیم: دی کنکلوژن (Drishyam: The Conclusion)
اسٹارکاسٹ: اجے دیوگن، تبو،جےدیپ اہلاوت، پرکاش راج، رجت کپور،سوربھ شکلا،شریا سرن، اشیتا دتا،مرنال جادھو
ڈائریکٹر : ابھیشیک پاٹھک 
 رائٹر: جیتو جوزف، عامل کیان خان، ابھیشیک پاٹھک، پرویز شیخ 
 پروڈیوسر: اجیت اندھارے، آلوک جین، ابھیشیک پاٹھک،کمار منگت پاٹھک،سنجیو جوشی
موسیقار: روی بسرور، کرم، روچک کوہلی
سنیماٹو گرافر: سدھیر چودھری 
ایڈیٹر: سندیپ فرانسس
پروڈکشن ڈیزائن: پریا سہاس
 ریٹنگ: ***

یہ بھی پڑھئے:ریتی تیواری’’بگ باس ۲۰‘‘ سے باہر، ’مڈ ویک ایوکشن‘ میں سفرختم ہوا

کہا جاتا ہے کہ الفاظ میں جھوٹ چھپانے کی جگہ مل جاتی ہے، لیکن مناظر کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ عام طور پر لوگوں کا بھی یہی ماننا ہےکہ جو چیز آنکھوں دیکھی ہو، وہ جھوٹ نہیں ہوسکتی۔ اسی سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۰۱۵ءمیںگوا کے وجے سلگاؤنکر نے ’دریشیم‘ میں ایسا کھیل کھیلا تھا کہ پولیس اور پورے نظام کی حقیقت اس کے سامنے بے بس نظر آئی۔ چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے وجے کے اس کھیل کے ناظرین بھی زبردست مداح ہوگئے تھے۔ اب ’دریشیم‘ کی اسی بھول بھلیاں کے ساتھ وجے آخری مرتبہ پردے پر آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کے تعلق سےشائقین کا جوش عروج پر ہے۔ سچ کہیں تو اس مرتبہ بھی وجے کئی بار گرتے پڑتے، بال بال بچتے ہوئے آخرکار بازی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وائب: کنال کھیمو کی لکھی اور ہدایت کاری والی ایک عمدہ کامیڈی فلم

فلم کی کہانی

کہانی۲۰۲۲ءمیںریلیز ہونے والی ’دریشیم۲؍‘ کے واقعات کوآگےبڑھاتی ہے۔اس لیے ’دریشیم۳؍‘دیکھنے سے پہلے پہلی دونوںفلمیں دیکھنا ضروری ہے، ورنہ کہانی کے کئی حصے سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔فلم کا آغاز سابق آئی جی میرا دیشمکھ (تبو) سے ہوتا ہے، جو اپنے بیٹے سمیر کو کھونے کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہوکر خودکشی کی کوشش کرتی ہے۔ اپنی بیوی کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے شوہر مہیش دیشمکھ (رجت کپور) کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست کرتے ہیں۔اس کے بعدکرائم برانچ کے ایس پی راج ویر سنگھ تومر (جے دیپ اہلاوت) کی کہانی میں انٹری ہوتی ہے۔ خود کو ’شنی‘ کہنے والا راج ویر وجے سلگاؤںکر (اجے دیوگن) اور اس کے خاندان پر اپنی نظریں گاڑ دیتا ہے۔ایک بار پھر وجے اور اس کا خاندان پولیس، مقدمے اور عدالت کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مرتبہ پولیس کے پاس وجے کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے نئے ثبوت بھی ہیں، گواہ بھی ہیں اور ایسا وکیل بھی ہے جس نے آج تک کوئی مقدمہ نہیں ہارا۔ اس وکیل کا نام اندر جیت شیٹی ہے، جس کا کردار پرکاش راج نے ادا کیا ہے۔پہلی دونوں فلموں میں سوال تھا کہ ’۲؍اکتوبر کو کیا ہواتھا؟‘ لیکن اب سوال بدل گیا ہے۔ اس مرتبہ سوال ہے کہ ’۲۳؍ جولائی کو کیا ہوا تھا؟‘ اور اس سوال کا جواب جاننے کیلئے آپ کو فلم دیکھنا ہوگی۔

ہدایت کاری

سنیما کے شائقین جانتے ہیں کہ ’دریشیم‘ فرنچائز دراصل موہن لال کی اداکاری سے سجی ملیالم فلم سیریز کا ہندی ری میک ہے، لیکن اس مرتبہ ہندی فلم کی کہانی کو اصل فلم سےمختلف رکھا گیا ہے۔ شریک مصنف اور ہدایت کار ابھیشیک پاٹھک نے کہانی کو نئے سرے سے تحریر کیا ہے۔فلم میں مقدمے کو مضبوط بنانے میں خاصا وقت لگایا گیا ہے۔ایک مرحلے پر اسکرین پلے ایک ہی انداز میں آگے بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں انسپکٹر گائےتونڈے (کملیش ساونت) کی مزاحیہ اداکاری اور امیل کیتن خان کے کچھ برجستہ مکالمے فلم کی رفتار کو برقرار رکھتے ہیں۔اس کےباوجود ’اب کیا ہوگا؟‘ والا تجسس مسلسل قائم رہتا ہے۔ تاہم اصل سنسنی انٹروَل کے بعد شروع ہوتی ہے، جب کہانی عدالت میں پہنچتی ہے اور کورٹ روم ڈراما شروع ہوتا ہے۔ خود وجے کے الفاظ میں، ’فلم سچی ہونی ضروری نہیں، سچی لگنی چاہیے۔‘ لیکن یہاں مقدمہ جس آسانی سے وجے کے حق میں جاتا دکھائی دیتا ہے، اسے مکمل طور پر قابلِ یقین ماننا مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سپریم ریسٹورنٹ: ساکی ناکہ میٹرو کے نیچےمنفرد ڈشیز کا اسٹیشن

اداکاری

اداکاری کی بات کی جائے تو اجے دیوگن نے ہمیشہ کی طرح اس فلم میں بھی زیادہ مکالموں کے بجائے اپنے سنجیدہ انداز اور آنکھوں کے تاثرات سے زبردست اداکاری کی ہے۔ انہوں نے وجے سلگاؤنکر کے کردار کو ایسی شناخت دے دی ہے جو اب ’دریشیم‘ فرنچائزکا لازمی حصہ بن چکی ہے۔جے دیپ اہلاوت نے ایس پی راج ویر کے کردار میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا ہے، جبکہ پرکاش راج بھی وکیل اندر جیت شیٹی کے کردار میں اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔وجے کی بیوی نندنی کے کردار میں شریا سرن کے حصے میں ایک مضبوط منظر آیا ہے، جسے انہوں نے اچھی طرح نبھایا ہے۔ تبو اور رجت کپور بھی اپنے کرداروں میں مناسب نظر آتے ہیں۔

کیوں دیکھیں؟

اگر آپ ’دریشیم‘ فرنچائز کے مداح ہیں تو اجے دیوگن کی مضبوط اداکاری اور وجے سلگاؤنکر کے ایک بار پھر پولیس کے سامنے بچھائے گئے شطرنج کے کھیل کیلئے فلم ایک مرتبہ ضرور دیکھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK