• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وائب: کنال کھیمو کی لکھی اور ہدایت کاری والی ایک عمدہ کامیڈی فلم

Updated: September 19, 2026, 12:28 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

تفریح کیلئے بنائی گئی فلم میں کوئی سنجیدہ موضوع اختیار نہیں کیا گیا، فلم میں جاسوسی جیسا موضوع ہونے کے باوجود اس کیلئے مزاحیہ انداز اختیار کیا گیا۔

Kunal Khemu and Sparsh Shrivastava can be seen in a scene from the film `Vibe`. Photo: INN
فلم’وائب‘کےایک منظر میںکنال کھیمو اوراسپرش شریواستوکو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

وائب (Vibe)
اسٹارکاسٹ: کنال کھیمو، پریتی زنٹا، اسپرش شریواستو، ونشیکا دھیر، سلیم کالی، دنیش لال یادو، یشپال شرما، عرفی جاوید
ڈائریکٹر اور رائٹر: کنال کھیمو
پروڈیوسر: کنال کھیمو، چراغ نہلانی
موسیقار: اشوتوش آنند، بھرت،کنال کھیمو، کنشکا پال
سنیماٹو گرافر: کوشل شاہ
ایڈیٹر: سنجے انگلے،آنند سوبایا
کاسٹنگ: مکیش چھابڑا،واسن سکونگپونگ
پروڈکشن ڈیزائن: پراچی دیشپانڈے
ریٹنگ: ***

بطور مصنف اور ہدایت کار کنال کھیمو نے اس بار بھی کسی گہرے موضوع یا سنجیدہ مسئلے کا انتخاب کرنے کے بجائے کامیڈی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اپنی پچھلی فلم ’مڈگاؤں ایکسپریس‘ میں کامیڈی کا خوب تڑکا لگانے کے بعد ’وائب‘ میں بھی وہ کسی سماجی مسئلے یا سنجیدہ موضوع کی تلاش کے بجائے خالص تفریح پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ ماننا پڑے گا کہ ناظرین کو ہنسانے، گدگدانے اور مسلسل محظوظ کرنے کے معاملے میں وہ اس بار بھی کافی حد تک کامیاب رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لاسٹ مین اِن ٹاور: ممبئی میں بڑے ٹاوروں کے لالچ پر مبنی فلم

فلم کی کہانی

کہانی دو جگری دوستوں ہاردک(کنال کھیمو) اور بگس (اسپرش شری واستو) سے شروع ہوتی ہے۔ بگس ایک بڑی کمپنی میں کام کرتا ہے جو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سافٹ ویئر تیار کرتی ہے، جبکہ ہاردک حال ہی میں ری ہیب سینٹر سے باہر آیا ہے۔ منشیات کی لت میں اپنی زندگی برباد کرچکے ہاردک کو اس دلدل سے نکالنے میں بگس کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ نہ صرف اپنے دوست کا ساتھ دیتا ہے بلکہ اسے اپنی کمپنی میں ملازمت بھی دلوا دیتا ہے۔لاپروا اور بے فکری کی زندگی گزارنے والے ہاردک کی زندگی میں اس وقت نیا موڑ آتا ہے جب کمپنی کی انٹرن کرینہ اس کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ کرینہ کے آنے سے اسے زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے کی امید بندھتی ہے، لیکن اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ یہی کمپنی جلد ہی اسے اور بگس کو ایک ایسے معاملے میں الجھانے والی ہے جس کا براہ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے۔عام زندگی گزارنے والے یہ دونوں دوست اچانک ایک انتہائی اہم اور خطرناک مشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس آپریشن کی کمان سخت مزاج اور پراعتماد میڈم ایچ (پریتی زنٹا) کے ہاتھ میں ہے۔ وہ دونوں کو مشن کی سنگینی سمجھاتی ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ ہاردک اور نہ ہی بگس کو جاسوسی مشن کا کوئی تجربہ ہے۔

ہدایت کاری

فلم کے آغاز ہی میں اس کا انداز واضح ہوجاتا ہے اور اوپننگ کریڈٹس سے ناظرین کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آگے فلم کا مزاج کیسا رہنے والا ہے۔ ایک دلچسپ وائس اوور بھی فلم شروع ہونے سے پہلے ہی کہانی کو آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ بطور مصنف کنال کھیمو نے کئی دلچسپ اور قدرے سنکی خیالات کو کہانی کا حصہ بنایا ہے۔پہلے نصف میں دونوں دوستوں کی کیمسٹری کے درمیان مزاح کے کئی دلچسپ لمحات آتے ہیں۔ اسکرین پلے مسلسل نئے مزاحیہ حالات اور حیرت انگیز موڑ پیش کرتا رہتا ہے۔ تاہم دوسرے نصف میں کہانی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے اور قومی سلامتی سے جڑے اپنے بنیادی مسئلے کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔ اس حصے میں کامیڈی قدرے کم ہوجاتی ہے اور ایکشن نمایاں ہوجاتا ہے۔دہشت گردی کا پہلو شامل ہونے کے بعد کچھ دیر کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی اپنے اصل راستے سے بھٹک گئی ہے، لیکن کلائمکس میں فلم دوبارہ اپنے ابتدائی مزاحیہ انداز کی طرف لوٹ آتی ہے۔امیت تریویدی کی موسیقی فلم کے بے تکلف اور جدید مزاج سے خوب میل کھاتی ہے۔ وہیں جان اسٹیورٹ ایڈوری کا بیک گراؤنڈ اسکور کہانی کی رفتار برقرار رکھنے کے ساتھ ایکشن مناظر میں جوش اور مزاحیہ لمحات میں تفریح کا عنصر بڑھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:چارلس ٹر ِٹ: برطانوی معیار اور کلاسیکی انداز پر مبنی فیشن برانڈ

اداکاری

اداکاری کے معاملے میں کنال کھیمو ایک بار پھر ناظرین کو متاثر کرتےہیں۔ ’گو گووا گون‘، ’کنجوس مکھی چوس‘ اور ’لوٹ کیس‘ جیسی فلموں میں اپنے مزاحیہ انداز کی جھلک دکھانے کے بعد، اپنے ہی لکھے اور ہدایت کردہ کردار ہاردک کو بھی وہ پردے پر خاصا دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یہاں وہ روایتی فلمی ہیرو بننے کے بجائے ایک بے وقوف اور ڈرپوک شخص کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسے پوری ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہیں۔اسپرش شری واستو کی سادہ اور بے ساختہ اداکاری بھی فلم کی تفریح میں اضافہ کرتی ہے۔ کنال اور اسپرش کی کیمسٹری، ان کی نوک جھونک اور باہمی تال میل فلم کے سب سے دلچسپ پہلوؤں میں شامل ہیں۔پریتی زنٹا نے میڈم ایچ کے کردار میں اپنے رعب اور اعتمادسے ایک الگ رنگ بھرا ہے۔ ’بٹوارا ۱۹۴۷ء‘ کے بعد انہیں اس طرح کے مختلف انداز میں دیکھنا دلچسپ تجربہ ہے۔

کیوں دیکھیں؟

اگر آپ کامیڈی فلموں کے شوقین ہیں تو کنال کھیمو اور اسپرش شری واستو کی دلچسپ کیمسٹری اور فلم کے مسلسل مزاحیہ لمحات کے لیے ’وائب‘ دیکھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK