کانگریس لیڈر سرجے والا کا تشویش کااظہار، کہا:اس معاہدے سے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر سنگین اثرات پڑیں گے، جےرام رمیش کا مرکزی وزیر پر ملک کوگمراہ کرنے کا الزام
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 11:00 PM IST | New Delhi
کانگریس لیڈر سرجے والا کا تشویش کااظہار، کہا:اس معاہدے سے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر سنگین اثرات پڑیں گے، جےرام رمیش کا مرکزی وزیر پر ملک کوگمراہ کرنے کا الزام
کانگریس نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں ہوئے تجارتی معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے ملک کے کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے یہ معاہدہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والانے کسانوں کو ہونے والے ممکنہ بڑے نقصان کی طرف توجہ دلائی توجے رام رمیش نے مرکزی وزیروں پر عوام کو گمراہ کرنے کاالزام عائد کیا ۔
کانگریس جنرل سیکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاںپارٹی ہیڈکوارٹرز میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اس معاہدے سے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر سنگین اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو’کھربوں روپے‘ تک کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جس سے کسانوں سے لے کر برآمد کنندگان تک پوری زنجیر متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی کپاس اور متعلقہ زرعی مصنوعات کی درآمدات ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی پر بڑھتی ہیں، تو اس سے ہندوستانی بازار میں خام مال کی قیمتوں پر دباؤ پڑے گا۔ امریکہ اپنے کسانوں کو بڑی سبسیڈی دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کی کپاس نسبتاً سستی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستانی کپاس پروڈیوسروں کی ’جننگ یونٹس‘ یعنی کپاس سے ریشوں کو بیج الگ کرنے والی یونٹوں اور اسپننگ ملوں یعنی کتائی ملیں جہاں کپاس کے ریشوں سے کتائی کرکے سوت تیار کرنے والی ملوں کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش جیسے ممالک کے تجارتی انتظامات مزید مضبوط ہوتے ہیں، تو ہندوستانی ملبوسات کی برآمدات کو اضافی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ مہاراشٹر، گجرات، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، آندھرا پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں کپاس کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور ان کی دیہی معیشت ٹیکسٹائل کی صنعت سے گہرائی تک جڑی ہوئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ درآمدات میں کسی بھی بڑے دھچکے سے ان ریاستوں میں کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کی آمدنی پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین بتاتے ہیں کہ غیر ملکی زرعی مصنوعات کی درآمد اور اس میں اضافے سے مقامی قیمتوں میں گراوٹ آنا فطری ہے اور اس سے برآمدی مسابقت کمزور ہوتی ہے۔ اس سے کسانوں اور مل مالکان کو کھربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے سے کسانوں کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے، سرجے والا نے کہا کہ یہ معاملہ اعداد و شمار کا نہیں بلکہ کسانوں کے مفاد کا ہے جسے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کیلئے ایم ایس پی کا اعلان تو کرتی ہے لیکن فراہم نہیں کرتی۔
اسی کے ساتھ کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ہند امریکی تجارتی معاہدے کے حوالے سے مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیر تجارت مسلسل اور دانستہ طور پر ملک کو گمراہ کر رہے ہیںجبکہ اس معاہدہ سے مختلف ریاستوں کے لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تجارت بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، جبکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کپاس کے کاشتکار اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوں گے اور ان کی معاشی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
جے رام رمیش نے جس خبر کا لنک شیئر کیا ہے اس میں بتایا گیا کہ پیوش گوئل نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان امریکہ سے خام کپاس خرید کر یہاں اس کی پروسیسنگ کرے اور تیار کپڑا دوبارہ امریکہ برآمد کرے تو ہندوستان کو بھی بنگلہ دیش کی طرح زیرو جوابی ٹیرف کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد مختلف کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ اور دیگر تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ سے خام کپاس زیرو ٹیرف پر درآمد کی گئی تو اس سے گھریلو بازار میں قیمتیں گر سکتی ہیں اور کپاس اگانے والے کسان شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔