ہندوستان کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ہندوستان کو ممکنہ فل اسٹیک اے آئی لیڈر قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 10:07 PM IST | Mumbai
ہندوستان کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ہندوستان کو ممکنہ فل اسٹیک اے آئی لیڈر قرار دیا ہے۔
ہندوستان کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ہندوستان کو ممکنہ فل اسٹیک اے آئی لیڈر قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک میں کمپنی کی موجودگی اور شراکت داریوں کو مزید بڑھانے کی منصوبہ بندی کی بھی اعلان کیا ہے۔ یہ بیان ۱۶؍ فروری سے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں شروع ہونے والے گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء سے قبل سامنے آیا ہے۔
ایک میڈیا مضمون میں آلٹ مین نے کہا کہ ہندوستان امریکہ کے بعد اوپن اے آئی کا دوسرا سب سے بڑا صارف بیس بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں اب چیٹ جی پی ٹی کے۱۰؍ کروڑ ہفتہ وار فعال صارفین ہیں۔ ساتھ ہی، طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے بھی ہندوستان دنیا میں سرِ فہرست ہے۔ ہندوستان اوپن اے آئی کے مفت سائنسی تحقیق اور لیکس بیسڈ تعاون ٹول پریزِم کے استعمال میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دو دیوانے شہر میں‘‘کی روشنی مجھ سے کافی ملتی جلتی ہے: مرونال ٹھاکُر
آلٹ مین نے کہا کہ اوپن اے آئی کا مقصد ہندوستان میں، ہندوستان کے ساتھ اور ہندوستان کے لیے اے آئی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے اپنے کئی ٹولز مفت میں فراہم کیے ہیں تاکہ آمدنی، تعلیم یا تکنیکی معلومات کی کمی کسی کے لیے بھی رکاوٹ نہ بنے۔ پچھلے سال اوپن اے آئی نے دہلی میں اپنا پہلا دفتر کھولا تھا اور اس سال اپنی موجودگی کو مزید بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈکپ:’کالی آندھی‘ کا طوفان برقرار، نیپال بھی بہہ گیا
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں ہندوستان کے چار شہروں میں ۲۰۰؍ سے زائد غیر منافع بخش تنظیموں کے لیڈروں کو چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی تربیت دی گئی تاکہ وہ اپنے کام میں زیادہ اثر اور کارکردگی لاسکیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کریں گے اور حکومت کے ساتھ نئی شراکت داریوں کا اعلان کر سکتے ہیں، جس سے اے آئی تک رسائی اور اس کے فوائد کو وسیع کیا جا سکے۔ انہوں نے اے آئی کو بنیادی سطح تک پہنچانے کے لیے تین سطحی حکمت عملی بیان کی۔