یہاں نیلگوں بحیرۂ عرب، دریائے شراوتی، سرسبز پہاڑیاں، گھنے جنگلات، آبشار اور سنسان ساحل مل کر ایک یادگار منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 12:42 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہاں نیلگوں بحیرۂ عرب، دریائے شراوتی، سرسبز پہاڑیاں، گھنے جنگلات، آبشار اور سنسان ساحل مل کر ایک یادگار منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔
ملک کے مغربی ساحل پر واقع ریاست کرناٹک اپنے تاریخی ورثے،سرسبز مغربی گھاٹ اور طویل ساحلی پٹی کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ہمیشہ کشش کا مرکز رہی ہے۔ اسی ساحلی حسن میں ایک نسبتاً پرسکون اور دلکش نام ہوناورکا ہے۔ ضلع اتر کنڑ میں واقع ہوناور قدرت کی ایسی خوبصورت تصویر پیش کرتاہے جہاں نیلگوں بحیرۂ عرب، دریائے شراوتی، سرسبز پہاڑیاں، گھنے جنگلات، آبشاراور سنسان ساحل مل کر ایک یادگار منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔
ہوناور ان مسافروں کے لیے خاص طور پر موزوںمقام ہے جو بڑے اور ہجوم بھرے سیاحتی مراکز سے ہٹ کر فطرت کے قریب کچھ پُرسکون لمحات گزارنا چاہتے ہیں۔ یہاں کی فضا میں ساحل کی نمکین خوشبو بھی ہے، جنگلوں کی تازگی بھی اور دریا کی خاموش روانی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہوناور کو کرناٹک کے ساحلی علاقے کا ایک پوشیدہ خزانہ کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور ضلع سے ۴۳ء۱۴؍ لاکھ ووٹر خارج، ۶۵ء۸؍ لاکھ ووٹروں کو نوٹس بھیجے جائینگے
کاسرکوڈ بیچ
ہوناور کے قریب واقع کاسرکوڈ بیچ اس علاقے کی سب سے معروف سیاحتی مقامات میںشمار کیا جاتا ہے۔ یہ ساحل اپنی لمبی ریتلی پٹی، صاف ماحول اور نسبتاًکم ہجوم کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بڑے سیاحتی ساحلوں کے برعکس یہاں شور شرابہ کم اور فطرت کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے۔صبح کے وقت سورج کی پہلی کرنیںجب سمندر کی سطح پر پھیلتی ہیں تو ساحل کا منظر نہایت دلکش ہو جاتا ہے۔ شام کے وقت سورج غروب ہونے کا منظر بھی سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے دور تک پھیلی ریت، لہروں کی آواز اور ہوا کی ٹھنڈی سرسراہٹ انسان کو شہری زندگی کی تھکن سے آزاد کر دیتی ہے۔
شراوتی ریور بیک واٹرز
ہوناور کی سیاحت کا ذکر دریائے شراوتی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ مغربی گھاٹ سے نکلنے والا یہ دریا اپنی طویل مسافت کے بعد اس علاقے میں بحیرۂ عرب کی جانب بڑھتا ہے۔ دریا کے آس پاس بننےوالے بیک واٹرز اور قدرتی آبی راستے ہوناور کے سب سے خوبصورت مناظر میں شامل ہیں۔شراوتی کے بیک واٹرز میں کشتی رانی کا تجربہ سیاحوں کے لیے نہایت دلکش ہو سکتا ہے۔ پانی کے دونوں کناروں پر پھیلی سبزیاں، درخت، چھوٹے جزیرے اور پرندوں کی مختلف آوازیں ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو کسی مصور کے کینوس کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان کے تعلق سےغلط دعویٰ پیش کرنے والی طالبہ پر جرمانہ
بسوراج جزیرہ
ہوناور کے علاقے میں واقع بسوراج جزیرہ بھی قدرتی حسن سےمالا مال مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ دریا اور بیک واٹرز کے درمیان واقع چھوٹے چھوٹے جزیرے اس پورے علاقے کے جغرافیائی حسن کو منفرد بناتے ہیں۔کشتی کے ذریعے ان علاقوں کی سیر کرتے ہوئے مسافر کو ایک مختلف دنیا میں پہنچ جانے کا احساس ہوتا ہے۔ پانی کی خاموش سطح، سبز درخت اور انسانی آبادی سے نسبتاً دور قدرتی ماحول یہاں کی سب سے بڑی کشش ہیں۔
اَپسَرکونڈا
ہوناور کے قریب واقع اَپسَرکونڈا یا اپسرکنڈا اس علاقے کے مشہور قدرتی مقامات میں شامل ہے۔اس جگہ کا نام ہی اپنی طرف توجہ کھینچتاہے۔ مقامی روایات میں اسے اپسراؤں سے منسوب کیا جاتا ہے،گویا یہ مقام اتنا خوبصورت تھا کہ دیومالائی حسن رکھنے والی ہستیاں بھی یہاں قیام کرتی ہوں۔یہاں آبشار، قدرتی سبزہ اور چٹانی ماحول سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ بارش کے موسم اور اس کے فوراً بعد آبشار اپنے بھرپور حسن کے ساتھ نظر آتے ہیں۔پانی کی تیز دھار جب بلندی سے گرتی ہے تو اس کی آواز پورے ماحول میں گونجتی ہے۔
جوگ فالس
ہوناور کے اطراف سیاحت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں سے کرناٹک کے بعض بڑے قدرتی مقامات تک پہنچنا ممکن ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام جوگ فالس کا ہے۔ شراوتی ندی پر واقع یہ آبشار ملک کے معروف آبشاروں میں شمار ہوتاہے۔بارش کے موسم میں جوگ فالس کی شان دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ پانی کی عظیم مقدار جب بلند چٹانوں سے نیچے گرتی ہے تو ایک عظیم الشان قدرتی منظر پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاح ہوناور کا تفصیلی سفر کر رہا ہو تو اپنے پروگرام میں جوگ فالس کو شامل کرنا ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔
ماونگنجے اور دیہی زندگی کی جھلک
ہوناور کی اصل خوبصورتی صرف اس کے مشہور سیاحتی مقامات میں نہیںبلکہ اس کے دیہی ماحول میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہاں کے چھوٹےگاؤں، ناریل کے درخت، روایتی مکانات اور مقامی زندگی جنوبی ہند کی ساحلی تہذیب کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں جو خصوصی طور پر دیکھنے سےتعلق رکھتےہیں۔