Inquilab Logo Happiest Places to Work

پبّر ویلی: ہماچل کا سیب کے باغ، دریا اور برف پوش چوٹیوں سے پرخطہ

Updated: August 26, 2026, 12:36 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

دریائے پبّر کے گرد پھیلا ہوا ایک حسین پہاڑی خطہ ، جہاں گھنے دیودار کے جنگلات، سیب کے باغات، چھوٹے پہاڑی گاؤں یکجا ہیں۔

The accompanying images showcase some of the captivating scenery of the Pabbar Valley; a mere glance at them reveals just how beautiful this place must be. Picture: INN
زیر نظر تصاویر میں پبّر ویلی کےچند دلکش مناظر دیکھے جاسکتے ہیں جنہیں دیکھنے سے ہی محسوس ہوتاہے کہ یہ جگہ کتنی خوبصورت ہوگی۔ تصویر: آئی این این

ہماچل پردیش کا نام آتے ہی عام طور پر شملہ، منالی، کُلّو، دھرم شالہ یا کَسول جیسے مقامات ذہن میں آتے ہیں۔ یہ وہ پہاڑی شہر ہیں جہاں سال بھر سیاحوں کی بھیڑ رہتی ہے، سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں اور ہر طرف ہوٹل، کیفے اور سیاحتی سرگرمیوں کاشور سنائی دیتا ہے۔ لیکن ہماچل کے پہاڑوں میں اب بھی کچھ ایسے خطے موجود ہیں جہاں قدرت نے اپنی اصل خاموشی کو محفوظ رکھا ہے۔پبّر ویلی انہی مقامات میں سے ایک ہے۔ شملہ ضلع میں واقع پبّر ویلی دریائے پبّر کے گرد پھیلا ہوا ایک حسین پہاڑی خطہ ہے، جہاں گھنے دیودار کے جنگلات، سیب کے باغات، چھوٹے پہاڑی گاؤں، قدیم مندر، سبز ڈھلوانیں، برف پوش پہاڑ اور تیز رفتار پہاڑی ندی اس علاقے کو ایک الگ شناخت دیتے ہیں۔

دریائے پبّر 

پبّر ویلی کی زندگی کا مرکز دریائے پبّر ہے۔ پہاڑوں کے درمیان بہتا یہ دریا وادی کو نہ صرف قدرتی حسن عطا کرتا ہے بلکہ یہاں کی آبادی، زراعت اور روزمرہ زندگی کا بھی اہم حصہ ہے۔ روہڑو کے آس پاس دریا کئی مقامات پر نسبتاً پرسکون انداز میں بہتا ہے، جبکہ وادی کے دوسرے حصوں میں اس کا بہاؤ زیادہ تیز اور پہاڑی ہوجاتا ہے۔روہڑو کے منصوبہ بندی کے سرکاری دستاویز کے مطابق شہر کے اطراف دریائے پبّر کا تقریباً ۱۰؍کلومیٹر حصہ موجود ہے،جس میں متعدد موڑ اور خوب صورت قدرتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس علاقے میں دریا سے وابستہ مہم جوئی اور تفریحی سرگرمیوں کے بھی امکانات موجود ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈلہوزی: پہاڑوں، آبشاروں اور نوآبادیاتی حسن کے درمیان ایک دلکش سفر

روہڑو

پبّر ویلی کی سیر کے لیے روہڑو کو بہترین اڈہ سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقی پہاڑی قصبہ ہے جہاں سیاحتی چمک دمک کے بجائے مقامی زندگی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ بازار، ہوٹل، بنیادی سہولتیں اور سفر کے ذرائع یہاں نسبتاً آسانی سے دستیاب ہیں۔روہڑو کے آس پاس پھیلے ہوئے سیب کے باغات اس خطے کی معیشت اور شناخت دونوں کا اہم حصہ ہیں۔ موسم کے لحاظ سے جب درختوں پر سیب آتےہیں تو پوری وادی کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔ سبز پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان قطار در قطار سیب کے درخت اور ان کے درمیان چھوٹے مکانات پبّر ویلی کو ایک خوب صورت دیہی منظرنامہ عطا کرتے ہیں۔

ہٹکوٹی

پبّر ویلی کے اہم ترین مقامات میں ہٹکوٹی کا نام نمایاں ہے۔ دریائے پبّر کے کنارے واقع یہ مقام قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ مذہبی اور تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ہماچل پردیش حکومت کے مطابق ہٹکوٹی شملہ سے تقریباً ۹۷؍ کلومیٹر اور کُفری سے تقریباً ۸۴؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں قدیم مندروں کا ایک خوب صورت مجموعہ موجود ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تاریخی شہر حیدر آباد میں سیاحتی مقامات کی کوئی کمی نہیں

جُبّل

پبّر ویلی کی سیر میں جُبّل کو نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ یہ خطہ اپنی قدرتی خوب صورتی کے ساتھ پرانی پہاڑی تہذیب اور روایتی طرز تعمیر کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں کے پرانے مکانات اور عمارتوں میں لکڑی، پتھر اور ڈھلوان دار چھتوں کا استعمال اس پہاڑی ماحول کے ساتھ ایک خوب صورت ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ جُبّل اور اس کے آس پاس کا علاقہ خاص طور پر ان مسافروں کے لیے دلچسپ ہے جو صرف برف یا پہاڑ دیکھنے کے بجائے ہماچل کی تاریخ، مقامی ثقافت اور پرانے طرز زندگی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

چرگاؤں

روہڑو سے آگے بڑھتے ہوئے چرگاؤں پبّر ویلی کے اہم مقامات میں شامل ہوتا ہے۔ یہ علاقہ سیب کے باغات اوربلند پہاڑی مناظر کے لیے جانا جاتا ہے۔ سڑک جیسے جیسے بلندی کی طرف بڑھتی ہے، منظر بھی تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ آبادی کم ہونے لگتی ہے، جنگلات گھنےہوتے جاتے ہیں اور پہاڑ زیادہ وسیع اور خاموش دکھائی دینے لگتے ہیں۔یہی راستہ آگے چل کر لاروٹ اور چانشل کی طرف جاتا ہے، اس لیے چرگاؤں پبّر ویلی کے بلند علاقوں کی طرف جانے والے مسافروں کے لیے ایک اہم پڑاؤ ہے۔

لاروٹ

لاروٹ ان لوگوں کے لیے زیادہ دلچسپ ہے جو پہاڑی سفر میںبھیڑ سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ یہاں سیاحتی ہنگامہ کم ہے اور قدرتی ماحول زیادہ نمایاں۔ لکڑی اور پتھر سے بنے روایتی مکانات، کھلے پہاڑی میدان اور اردگرد پھیلے جنگلات اسے ایک پرسکون مقام بناتے ہیں۔

لاروٹ سے آگے چانشل کی طرف جانے والا راستہ آہستہ آہستہ زیادہ دشوار اور خوب صورت ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پبّر ویلی کا اصل پہاڑی مزاج نمایاں ہونے لگتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK