یہ محض جنگل کی سیر کا مقام نہیں، بلکہ ایسا خطہ ہے جہاں قدرتی ماحول کے ساتھ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار اور کئی قسم کے جانور اور پرندے دیکھنے کوملتے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 1:32 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ محض جنگل کی سیر کا مقام نہیں، بلکہ ایسا خطہ ہے جہاں قدرتی ماحول کے ساتھ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار اور کئی قسم کے جانور اور پرندے دیکھنے کوملتے ہیں۔
مہاراشٹر میں کئی ایسے قدرتی مقامات ہیں جو مشہور سیاحتی مراکز کےمقابلے میں کم توجہ حاصل کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر فطرت، تاریخ اور جنگلی حیات کا ایک پورا جہان آباد ہے۔گوتالا اوترم گھاٹ وائلڈ لائف سینکچری بھی انہی میں سے ایک ہے۔سطح مرتفع دکن کے علاقےمیں ست مالا اور اجنتا کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع یہ محفوظ جنگلاتی خطہ گھنے درختوں، کھلے میدانوں، موسمی آبشاروں، قدیم بدھ غاروں اور تاریخی عمارتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہ محض جنگل کی سیرکامقام نہیں، بلکہ ایسا خطہ ہے جہاں قدرتی ماحول کے ساتھ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار بھی ملتے ہیں۔ ایک طرف جنگل میںپرندوں کی آوازیں اور پہاڑی نالوں کا بہاؤ ہے تو دوسری طرف پتھروں کو تراش کر بنائے گئے قدیم غارہیں۔ فطرت، تاریخ، فوٹوگرافی اور ہلکی پھلکی مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مقام ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔
محل وقوع
یہ اورنگ آباد اورجلگاؤں کے درمیان پھیلا ہوا ایک محفوظ جنگلاتی علاقہ ہے۔ اس کے اہم حصے کنڑ اور چالیس گاؤں کے اطراف میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ ست مالا اور اجنتا کی پہاڑیوں کے مشرقی حصے میں آتا ہے۔اس پناہ گاہ کو ۲۵ فروری ۱۹۸۶ء کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا رقبہ تقریباً۲۶۰ء۶۱؍ مربع کلومیٹر، یعنی ۲۶ ہزار ہیکٹر سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شری وردھن بیچ: کوکن کے ساحل پر قدرتی حسن، سکون اور تاریخی اہمیت کا امتزاج
یہاں کی اہمیت
یہاںکی سب سے بڑی اہمیت اس کی جنگلی حیات ہے۔ اس علاقےمیں چیتے، سست رفتار ریچھ، بھیڑیے، جنگلی سور، نیل گائے، چنکارا، کالے ہرن، بھونکنے والے ہرن، لومڑی اور جنگلی بلی سمیت متعدد جانور پائے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ یہاں پرندوں کا مشاہدہ بھی دلچسپی کا باعث ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے میں ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۲ء کے دوران اس محفوظ علاقے اور اس کے ملحقہ حصوں میں پرندوں کی ۲۱۰ اقسام ریکارڈ کی گئیں۔ مور، شکاری پرندے اور دیگر مقامی و موسمی پرندے اس خطے کے قدرتی تنوع کا حصہ ہیں۔
قدرت کا سبز خزانہ
یہاںساگوان، کھیر، دھاوڑا اور ارجن سمیت مختلف اقسام کے درخت پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کئی اقسام کی جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں اور جنگلی پودے بھی یہاں موجودہیں۔اس علاقے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر جگہ ایک جیسی گھنی ہریالی نہیں ملتی۔ وادیوں میں خشک پت جھڑ والےجنگلات ہیں، جب کہ بلند سطح مرتفع اورکھلے حصوں میں گھاس کے میدان اور جھاڑیوں والے علاقے بھی موجود ہیں۔ اسی تنوع کے سبب مختلف جانوروں اور پرندوں کو الگ الگ نوعیت کی رہائش اور خوراک میسر آتی ہے۔
گرمیوں میں کئی درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور جنگل کا رنگ بدل جاتا ہے، جب کہ بارش کے بعد یہی خطہ نئی کونپلوں، گھاس اور سرسبز ڈھلوانوں سے بھرجاتاہے۔ فطرت کی اس تبدیلی کو دیکھنا ان سیاحوں کیلئے خاص تجربہ ہےجو صرف خوب صورت مقامات کی سیر نہیں بلکہ جنگلاتی ماحول کو سمجھنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے گوتالا اوترم گھاٹ کا سفر سڑک یا ریل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے چالیس گاؤں اور کنڑ اہم پڑاؤ ہیں۔ ممبئی سے چالیس گاؤں تک ٹرین کے ذریعے پہنچنے کے بعد وہاں سے ٹیکسی یا مقامی گاڑی کے ذریعے جنگل کے داخلی مقام اور آس پاس کے سیاحتی مقامات تک پہنچا جاسکتا ہے۔ کنڑ کی سمت سے بھی اس محفوظ جنگلاتی علاقے تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔اورنگ آباد سے بھی سڑک کے راستے کنڑ کی جانب سفر کیا جاسکتا ہے۔ اس علاقے کے مختلف مقامات ایک دوسرے سے فاصلے پر ہیں، اس لیے اپنی گاڑی یا پہلے سے طے شدہ مقامی ٹرانسپورٹ کے ساتھ جانا زیادہ سہولت بخش رہتا ہے۔