• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیوگڑھ قلعہ: سمندر کی نگرانی کرنے والا ایک اہم تاریخی قلعہ

Updated: October 08, 2026, 1:16 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

سمندر کی جانب ایک بلند قطعۂ زمین پر قائم یہ قلعہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جبکہ یہاں سے نظر آنے والا بحیرۂ عرب کا وسیع منظر اسے خاص بناتا ہے۔

The first image shows a view of Devgarh Fort from the sea; the second image shows the fort`s entrance gate. Photo: INN
پہلی تصویر میں سمندر سےدیو گڑھ قلعہ کا نظارہ ، دوسری تصویر میں قلعہ کا داخلی دروازہ۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کے کوکن ساحل کی خوبصورتی صرف اس کے سمندر، ساحلوں، آم کے باغات اور گھنے سبز مناظر تک محدود نہیں ہے۔ اس خطے میں جگہ جگہ ایسے قلعے بھی موجود ہیں جو کبھی سمندر کی حفاظت، بحری راستوں کی نگرانی اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ سندھودرگ ضلع کا دیوگڑھ قلعہ بھی اسی تاریخی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔سمندر کی جانب نکلے ہوئے ایک بلند قطعۂ زمین پر قائم یہ قلعہ ایک طرف تاریخ کے کئی ادوار کا گواہ ہے تو دوسری طرف یہاں سے نظر آنے والا بحیرۂ عرب کا وسیع منظر اسے سیاحوں کے لیے بھی خاص بنا دیتا ہے۔

دیوگڑھ قلعہ دیوگڑھ شہر کے قریب واقع ہے اور دیوگڑھ کریک جہاں بحیرۂ عرب سے ملتی ہے،یہ قلعہ اسی نہایت اہم ساحلی مقام پر قائم ہے۔۳؍جانب سمندر سے گھرا اور ایک جانب خشکی سے جڑا یہ محلِ وقوع اس قلعے کو قدرتی دفاع بھی فراہم کرتا تھا۔قلعہ تقریباً ۱۲۰؍ ایکڑکے علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور ماضی میں دیوگڑھ کی بندرگاہ کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: دابھوسا آبشار: پال گھر کے جنگلات میں گرتا ہوا شاندار آبشا

آنگرے بحری طاقت کا اہم مرکز

دیوگڑھ قلعے کی تاریخ کو مراٹھا بحری طاقت اور آنگرے خاندان سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ساحلی کوکن میں آنگرے خاندان نے بحری طاقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی دور میں دیوگڑھ کا ساحلی محلِ وقوع خاص اہمیت اختیار کر گیا۔اس قلعہ کو ۱۷۲۹ء میں دتا جی آنگرے نے تعمیر کیا تھا۔جبکہ یہ قلعہ طویل عرصے تک کانہوجی آنگرے کے زیر تسلط رہا۔

سمندر پر نظر رکھنے کی بہترین جگہ

قلعے کیلئےجگہ کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔ دیوگڑھ ایک ایسی قدرتی بندرگاہ کے قریب واقع تھا جہاں سمندر اور کریک کا ملاپ اسےبحری سرگرمیوں کے لیے موزوں بناتا تھا۔ بلند مقام پر موجود قلعے سے دور تک پھیلے سمندر پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔ کسی دشمن بحری بیڑے کی آمد یا کسی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں قلعہ ایک نگرانی مرکز کے طور پر کام کرسکتا تھا۔

قلعے کے اندر کیا دیکھیں؟

وقت کے ہاتھوں دیوگڑھ قلعے کی اصل عمارت کا بڑا حصہ متاثر ہوچکا ہے، لیکن یہاں پہنچنے والے سیاح آج بھی اس کے تاریخی آثار دیکھ سکتے ہیں۔ قلعے کے اندر پرانی توپیں اور فصیل کے باقی ماندہ حصے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔قلعے کے ایک سرے پر موجود لائٹ ہاؤس بھی اس مقام کی خاص پہچان ہے۔ یہاں تقریباً ۱۵؍میٹر بلند لائٹ ہاؤس موجود ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:منسیاری: پنچ چولی کی برف پوش چوٹیوں میں چھپی خوبصورت وادی

دیوگڑھ بیچ اور آس پاس کے مقامات

قلعے کے قریب دیوگڑھ بیچ موجود ہے، جہاں سمندر کے کنارےکچھ وقت گزارا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں کوکن کے کئی دوسرے خوبصورت ساحلی اور تاریخی مقامات بھی موجود ہیں۔دیوگڑھ کے قریب وجے دُرگ قلعہ، کنکیشور بیچ، دیوگڑھ بیچ، متھ ممبری بیچ اور دیوگڑھ کے ونڈ ملز قابلِ دید مقامات میں شامل ہیں۔ خاص طور پر وجے دُرگ کا سفر دیوگڑھ کے تاریخی دورے کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے، کیونکہ دونوں قلعے کوکن کے اسی ساحلی دفاعی ورثے کی مختلف جھلکیاں پیش کرتے ہیں۔

 کیسے پہنچیں؟

ممبئی سے دیوگڑھ کاسفر طویل ضرور ہے، لیکن کوکن کی خوبصورتی اسےدلچسپ بنا دیتی ہے۔ سڑک کے راستے ممبئی سے سفر کرتے ہوئے کوکن کے مختلف شہروں اور قصبوں سے گزر کر دیوگڑھ پہنچا جاسکتا ہے۔ممبئی سے دیوگڑھ کے علاقے کافاصلہ تقریباً ۴۰۰؍کلومیٹر کے آس پاس بتایا گیاہے،جبکہ سفر کا اصل وقت منتخب راستے اور ٹریفک پر منحصر ہوگا۔ریل سے آنے والے مسافر کنکولی ریلوے اسٹیشن تک پہنچ کر وہاں سے سڑک کے ذریعے دیوگڑھ جاسکتے ہیں۔ کنکولی کو اس خطے کیلئے اہم ریلوے رابطوں میں شمار کیاجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK