پال گھر ضلع کی جوہار تحصیل میں واقع یہ آبشار اپنی بلندی، قدرتی حسن اور مہم جوئی کی سرگرمیوں کے سبب سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہے۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 1:53 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
پال گھر ضلع کی جوہار تحصیل میں واقع یہ آبشار اپنی بلندی، قدرتی حسن اور مہم جوئی کی سرگرمیوں کے سبب سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہے۔
مہاراشٹر میں ممبئی سے زیادہ دور نہ جانے کے باوجود اگر کوئی ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں پہاڑ، گھنے جنگلات، قبائلی ثقافت اور آبشار سب ایک ساتھ نظر آئیں تو دابھوسا آبشار کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔پال گھر ضلع کی جوہار تحصیل میں واقع یہ آبشار اپنی بلندی، قدرتی حسن اور مہم جوئی کی سرگرمیوں کے سبب سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہے۔ دابھوسا کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہےکہ یہ ان چند آبشاروں میںشمار ہوتا ہے جن میں سال کے بیشتر حصے میں پانی موجود رہتا ہے، جبکہ برسات کے موسم میں اس کی شان کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے مطابق یہ ریاست کے بلند ترین آبشاروں میں سے ایک ہے اور تقریباً ۳۰۰؍فٹ کی بلندی سے گرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنجل گڑھ: سہیادری کی چوٹی پر بسا ایک خاموش تاریخی قلع
تقریباً۳۰۰؍ فٹ کی بلندی سے گرتا پانی
دابھوسا آبشار جوہارسےتقریباً ۱۹؍کلومیٹر کے فاصلے پر دابھوسا گاؤں کے قریب واقع ہے۔ یہ آبشار لینڈی ندی سے تشکیل پاتا ہے اور تقریباً۳۰۰؍فٹ کی بلندی سے نیچے گرتا ہے۔ آبشار کا پانی چٹانوں کے درمیان ایک گہرے، پیالہ نما حوض میں گرتا ہے، جس کے چاروں طرف بلند پہاڑی چٹانیں اور گھنے جنگلات کا منظر اسے غیر معمولی بنا دیتےہیں۔ برسات کے دنوں میں جب مغربی گھاٹ کے پہاڑ بارش سےبھیگ کر گہرے سبز رنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اس وقت دابھوسا کا منظر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔بلندی سے تیزی کے ساتھ نیچے آتا ہوا سفیدپانی، اس سے پیدا ہونے والی دھند اور پھوار، اردگرد کی سبز پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شہر کی مصروف زندگی سے بہت دور کسی قدرتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔
بارہ مہینے دیکھنے کا موقع
دابھوسا کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے صرف موسمی آبشار نہیںسمجھا جاتا۔ پال گھر ضلع انتظامیہ کے مطابق یہ ان چند آبشاروں میں شامل ہے جو سال بھر بہتے ہیں۔ البتہ برسات کے دوران پانی کا بہاؤ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اس وقت آبشار اپنی پوری شان کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اولی: برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں اور دلکش وادیوں کی سرزمین
قدرت کے ساتھ مہم جوئی
دابھوسا صرف آبشار دیکھنےکی جگہ نہیں بلکہ مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے بھی کشش رکھتا ہے۔ یہاں مختلف مقامات پر ریپلنگ، ویلی کراسنگ، کیاکنگ، ٹریکنگ، برما برج اور دیگر ایڈونچر سرگرمیاں دستیاب ہیں۔دابھوسا کا سفر دراصل صرف ایک آبشار کا سفر نہیں بلکہ جوہار کی قدرتی اور ثقافتی دنیا سے ملاقات بھی ہے۔ جوہار مغربی گھاٹ کےعلاقے میں واقع ایک خوب صورت پہاڑی مقام ہے جو تقریباً ۵۱۸؍میٹرکی بلندی پر ہے۔ یہاں آبشاروں، گھنے جنگلات، پہاڑی وادیوں اور قبائلی ثقافت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے دابھوسا جانے کے لیے سڑک کا راستہ سب سے آسان ہے۔ مہاراشٹر ٹورزم کے مطابق ممبئی سےجوہار تقریباً ۱۸۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جبکہ دابھوسا جوہارسےتقریباً ۱۹؍کلومیٹر دور ہے۔ممبئی سے عام طور پر ممبئی-نشیگ ہائی وے کی سمت سفر کرتے ہوئے آگے جوہار کی طرف جایا جاسکتا ہے۔ جو لوگ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل سے سفر کرتے ہیں، ان کے لیے یہ راستہ خاصا خوب صورت ہے، کیونکہ شہری علاقے سے نکلنے کے بعد مغربی گھاٹ کا پہاڑی منظر آہستہ آہستہ سامنے آنے لگتا ہے۔جوہار پہنچنے کے بعد دابھوسا گاؤں کی طرف جانا ہوتا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق دابھوسا جوہار سے تقریباً ۱۹؍کلومیٹر دور ہے۔ ممبئی اور تھانے سے ٹیکسی یا نجی گاڑی کے ذریعے بھی یہاں پہنچا جاسکتا ہے۔ریل سے سفر کرنے والوں کے لیے اگت پوری ریلوے اسٹیشن جوہار کا قریب ترین اہم ریلوے اسٹیشن بتایا گیا ہے، جو تقریباً۶۰؍کلومیٹر دور ہے۔ اگت پوری سے جوہار کے لیے ٹیکسی یا بس کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔