Updated: September 09, 2026, 10:04 PM IST
| Srinagar
جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ایک فیصلےمیں کہتے ہوئے کہ کتابیں مجرم نہیں بناتیں، ایک کشمیری اسکالر کی نظر بندی ختم کردی، یہ مشاہدہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے۲۵؍ کتابوں پر پابندی عائد کیے جانے کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جن میں بیشتر کشمیر کی تاریخ سے متعلق تھیں۔
جموں، کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
جموں، کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک اسکالر کے خلاف عوامی سلامتی ایکٹ (پی ایس اے) کے مقدمے کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ مایوس کن عنوانات والی کتابوں کا محض قبضہ کسی شخص کو مجرم نہیں بناتا۔ یہ مشاہدہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے۲۵؍ کتابوں پر پابندی عائد کیے جانے کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جن میں بیشتر کشمیر کی تاریخ سے متعلق تھیں۔شفاعت مقبول وانی، جو ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک اسکالر ہیں، کو گزشتہ سال عوامی سلامتی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔ نظربندی کے حکم میں ان کے والد کے سابقہ عسکریت پسند روابط، بین الاقوامی تعلیمی کانفرنسوں میں ان کی شرکت کی دعوتوں، ان کے قبضے سے ملنے والی کتابوں اور غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ،۱۹۶۷ء کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں انہیں ضمانت مل چکی تھی۔جسٹس مکشا کھجوریا کاظمی نے گزشتہ ہفتے اپنے حکم میں کہا، ’’یہاں اس بات پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے کہ جواب دہندگان نے درخواست گزار کے خلاف کوئی تخریبی سرگرمی نہیں دکھائی، جس نے انہیں احتیاطی نظربندی کا سہارا لینے پر مجبور کیا ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم کی تقریب سے ایک روز قبل مسلح شخص جعلی کارڈ دکھا کر جیو مال میں داخل
حکم کے مطابق، درخواست گزاروں نے نظربندی کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ یو اے پی اے مقدمے کے علاوہ، نظربند کرنے والے حکام نے ریاست کے خلاف کوئی مخصوص سرگرمی کا ذکر نہیں کیا جو نقصان دہ ہو۔حکم میں مزید کہا گیا، ’’اگرچہ جواب دہندگان نے جوابی حلف نامے اور نظربندی کی وجوہات میں عکاسی کی ہے کہ نظربند کو ضمانت مل چکی ہے، لہٰذا وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہیں۔
بعد ازاںاحتیاطی نظربندی کی وجوہات میں، جموں و کشمیر پولیس نے وانی کے والد کےعلاحدگی پسند نظریے اور بین الاقوامی تعلیمی کانفرنسوں کی دعوتوں کا حوالہ دیا تھا۔ پولیس نے اپنے نظربندی حکم میں کہا، ’’(انہیں) ایک علیحدگی پسند نظریے والے خاندان میں پالا گیا ہے اور اس طرح، بچپن سے ہی وانی میں ہندوستان مخالف اورعلاحدگی پسند جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کے والد۱۹۹۰ء میں ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسند تنظیم البرق سے منسلک سابق عسکریت پسند تھے۔
مزید برآں نظربندی کی وجوہات میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’نظربند کو بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بہت سی دعوتیں موصول ہوئیں، جیسے کولمبیا یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیائی اور افریقی اسٹڈیز گریجویٹ طلبی کانفرنس اور ڈبلن سٹی یونیورسٹی میں آٹھویں سالانہ جنوبی ایشیا کانفرنس۔‘‘ نظربندی کی وجوہات میں مزید کہا گیا کہ وانی کے قبضے سے وطن مخالف ادب برآمد ہوا، جس میں خود درخواست گزار کی تصنیف کردہ ایک کتاب بھی شامل تھی۔عدالت نے کہا، نظربند سے برآمد ہونے والا مبینہ وطن مخالف ادب بھی غالباً جواب دہندگان کو نظربند کو وطن مخالف قرار دینے میں معاون رہا ہے۔ تاہم، یہ ادب غلط طور پر نظربند کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ اس نے اسے تصنیف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مظفرنگر فسادات کے ۱۳؍ سال بعد پراسرار پوسٹر، چسپاں کرنے والوں کی تلاش جاری
درخواست گزار کے وکیل کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ درخواست گزار، ایک علمی اسکالر ہونے کے ناطے، مختلف قسم کے ادبی وسائل ان کے قبضے میں ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ لہٰذا، کتابوں کا محض قبضہ بذات خود درخواست گزار/نظربند کو مجرم نہیں بناتا جس کے خلاف احتیاطی نظربندی کا اطلاق مطلوب تھا۔‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں، جموں و کشمیر انتظامیہ نے۲۵؍ کتابوں کو’’علاحدگی پسندانہ جذبات اور جھوٹے بیانیوں کو فروغ دینے‘‘ کے طور پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس سال، حکومت نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ سنٹروں اور عوامی لائبریریوں کو ہدایت کی کہ وہ تمام کتابوں اور جرائد کو نامناسب یا قابل اعتراض موادکے لیے جانچیں۔