یہاں ساحل پر چہل قدمی، سمندر کی لہروں کا نظارہ، قدرتی مناظر کی عکاسی اور تاریخی مقامات کی سیر ایک یادگار تجربہ ثابت ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 1:04 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہاں ساحل پر چہل قدمی، سمندر کی لہروں کا نظارہ، قدرتی مناظر کی عکاسی اور تاریخی مقامات کی سیر ایک یادگار تجربہ ثابت ہوتی ہے۔
مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ میں واقع ہری ہریشور ایک ایسا خوبصورت ساحلی مقام ہے جہاں سمندر کی نیلگوں لہریں، ناریل اور سپاری کے درختوں سے گھرا ماحول، پہاڑی سلسلے اور قدیم مذہبی مقامات سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ کوکن کے ساحلی خطے میں واقع یہ مقام نہ صرف قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے بلکہ مذہبی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ایک طرف بحیرۂ عرب کا وسیع و عریض منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
سیاہ ریت اورسرسبز پہاڑیاں
ہری ہریشورکاساحل اپنی قدرتی خوبصورتی اور پُرسکون ماحول کےلیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کی ریت کا رنگ عام ساحلوں کے مقابلے میں قدرے سیاہ دکھائی دیتا ہے۔ ساحل کے بعض حصوں میں چٹانی ساخت بھی نظر آتی ہے، جہاں سمندر کی لہریں چٹانوں سے ٹکرا کر خوب صورت منظر پیش کرتی ہیں۔ ساحل کے اطراف سرسبز پہاڑیاں اور درخت اس مقام کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
دو حصوں میں منقسم ساحل
ہری ہریشور کے ساحل کو دو حصوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ کال بھیرَو مندر کے شمال میں اور دوسرا جنوب کی جانب واقع ہے۔ دونوں حصوں کا قدرتی ماحول قدرے مختلف ہے۔ جنوبی ساحل نسبتاً پُرسکون ہے، جبکہ شمالی حصےمیں مقامی آبادی اور سیاحوںکی آمدورفت زیادہ نظر آتی ہے۔ ہفتے کے عام دنوں میں یہاں سیاحوں کی بھیڑ کم ہوتی ہے، اس لیے قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کا اچھا موقع ملتا ہے۔یہاں آنے والے سیاح ساحل پر چہل قدمی کرسکتے ہیں، سمندر کے کنارے بیٹھ کر لہروں کی آواز سن سکتے ہیں اور طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ البتہ ایک بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہری ہریشور کا سمندر بظاہر پُرسکون دکھائی دینے کے باوجود بعض مقامات پر خطرناک ہوسکتا ہے۔
چار پہاڑیوں میں گھرا خوبصورت مقام
ہری ہریشور کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ چار پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ ان کے نام ہری ہریشور، ہرشیناچل، برہمدری اور پشپادری بتائے جاتے ہیں۔ ان پہاڑیوں اور سمندر کے امتزاج سے یہاں کا قدرتی منظر نہایت دلکش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام قدرتی مناظر کی عکاسی کرنے والوں اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں کو خاص طور پر پسند آتا ہے۔
ہری ہریشور کی سیر کا ایک اہم حصہ کوکن کے روایتی کھانوں کا ذائقہ چکھنا بھی ہے۔ یہاں کے مقامی کھانوں میں ناریل، کوکم، مصالحوں اور تازہ مچھلی کا استعمال عام ہے۔سمندری غذا پسند کرنے والے افراد کو یہاں مچھلی کی مختلف ڈشیں مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کے روایتی کھانے، چاول، دال اور سبزیوں سے تیار ہونے والے پکوان بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے ہری ہریشور بذریعہ سڑک تقریباً ۲۰۰؍تا۲۱۵؍ کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ سفر میں راستے اور ٹریفک کے لحاظ سے تقریباً ۵؍ تا۶؍گھنٹےلگ سکتے ہیں۔ ممبئی سے پین، وڈکھل، مانگاؤں اور شری وردھن کے راستے ہری ہریشور پہنچا جاسکتا ہے۔ ذاتی گاڑی یا کرائے کی ٹیکسی سے سفر کرنے والوں کے لیے یہ ایک اچھا راستہ ہے۔ راستے میں کوکن کے سرسبز پہاڑ، چھوٹے گاؤں اور قدرتی مناظر سفر کو خوش گوار بناتے ہیں۔
ریل کے ذریعے: ہری ہریشور کا قریب ترین اہم ریلوے اسٹیشن مانگاؤں ہے، جو تقریباً ۵۹؍تا۶۰؍ کلومیٹر دور واقع ہے۔ ممبئی سے مانگاؤں تک ٹرین کے ذریعے پہنچنے کے بعد وہاں سے بس یا ٹیکسی کے ذریعے ہری ہریشور جاسکتے ہیں۔
بس کے ذریعے: ممبئی اور پونے سے شری وردھن اور ہری ہریشور کے لیے بس خدمات دستیاب ہوتی ہیں۔