Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہیلو بچوں: فزکس والا کے سفرکی مشکلات پیش کرنےوالی سیریز

Updated: March 08, 2026, 10:26 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

حالانکہ الگ پانڈے کے اتار چڑھائو سے متعلق ایک اور ویب سیریز بنائی جاچکی ہے، یہ سیریز اس سے کچھ مختلف اور بچوں پر مرکوز ہے۔

Vineet Kumar Singh can be seen in a scene from the web series `Hello bachhon`. Photo: INN
ویب سیریز’ہیلو بچوں ‘ کےایک منظر میں ونیت کمار سنگھ کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

ہیلو بچوں (Hello Bachhon)
اسٹریمنگ ایپ: نیٹ فلکس(۵؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: ونیت کمار سنگھ، وکرم کوچر، انومیہا جین، پنکج کشیپ، چترانش راج، گرجا اوک، پرشانت سیٹھی
ڈائریکٹر: پرتیش مہتا
رائٹر: ابھیشیک یادو، ورنالی، انکت یادو، سندیپ سنگھ
پروڈیوسر: کارتک بھٹ، اکشت گروور، وجے کوشی
سنیماٹوگرافر: اموگھ دیشپانڈے
موسیقار: آنند باجپائی
ایڈیٹر: آکاش بندھو
کاسٹنگ ڈائریکٹر: مکیش چھابڑا
ریٹنگ:***
’’تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ اس کی معاشی حالت اس کے پڑھنے اور کچھ بننے کے خواب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ ‘‘ اسی نیک سوچ کے ساتھ ایجوکیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنےوالے بچوں کے محبوب استاد الکھ پانڈےاور ان کے خواب، جدوجہد اورکامیابی کی کہانی پیش کرتی ہے ویب سیریز’ہیلو بچوں‘۔ اگرچہ الکھ پانڈے اور ان کے آن لائن کوچنگ ادارے کے سفر پر اس سےپہلے بھی ایک سیریز فزکس والابن چکی ہے، مگر’ہیلو بچوں‘ میں صرف الکھ پانڈے ہی نہیں بلکہ ان بچوں کی کہانیاں بھی دکھائی گئی ہیں جن کی زندگیاں اس ایک استاد نے بدل دیں۔ 
کہانی 
کہانی فزکس والا کی بنیاد رکھنے والے الکھ پانڈے (ونیت کمار سنگھ)اور ان کے ساتھی پرتیک مہیشوری (وکرم کوچر)سے شروع ہوتی ہے، جو اپنے ادارے کو وسعت دینے کے لیے فنڈ جمع کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مالی تنگی کے باعث ادارہ نہ تو اپنا نیٹ ورک سسٹم بہتر بنا پاتا ہے اور نہ ہی اچھے اساتذہ کو برقرار رکھ پاتا ہے۔ سرمایہ کار فنڈ دینے پر آمادہ تو ہو جاتے ہیں، مگر زیادہ منافع کے لیے کورس کی فیس بڑھانے کی شرط رکھتے ہیں۔ الکھ پانڈے ان سرمایہ کاروں کی اس بات کیلئے بالکل تیار نہیں ہوتے، کیونکہ ان کا مقصد ہی ہر بچے تک سستی تعلیم پہنچانا ہے۔ 
ادھر ہر قسط میں ایک ایسے بچے کی کہانی بھی دکھائی جاتی ہے جس کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا خواب ہی بہت بڑا تھا۔ این ای ای ٹی یا اے آئی ای ای ای جیسے مسابقتی امتحانات کی مہنگی کوچنگ فیس ادا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان میں کوئی بہار کے کسی گاؤں کے سرکاری اسکول میں پڑھنے والا اور ایک مزدور کا بیٹا ہے، کوئی ممبئی کی چال میں رہنے والا اورنشے کی لت میں پھنس چکا مزدوری کرنے والا لڑکا، تو کوئی ہریانہ کی وہ لڑکی ہے جس کے گھر والوں کے لیے اس کی تعلیم سے زیادہ اس کی شادی اہم ہے۔ ایسے میں فزکس والا ان سب کے خوابوں کو حقیقت بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے سیریز دیکھنا پڑے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: سائیکو سیاں: نفسیاتی اتارچڑھائو سے بھرپور محبت کی کہانی

ہدایت کاری
ہدایت کار پرتیش مہتاکی یہ سیریز یقیناً حوصلہ افزا ہے اور شاعر دشینت کمارکے اس شعر کو سچ ثابت کرتی ہے:
کون کہتا ہے کہ آسمان میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو
سیریز دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک انسان کی نیک نیتی، واضح وژن اور اپنے نظریے پر ڈٹے رہنے کی ضد لاکھوں بچوں کا مستقبل سنوارسکتی ہے۔ تاہم اس کے مصنفین اسکرین پلے کے لحاظ سے بچوں کی کہانیوں کو اتنا دلچسپ نہیں بنا سکے۔ یہ قصے کہیں کہیں حد سے زیادہ ڈرامائی نظر آتے ہیں تو کہیں پہلے سنے سنائے اور قابلِ پیش گوئی محسوس ہوتے ہیں۔ 
اسی طرح الکھ پانڈے کی اپنی کہانی بھی زیادہ تر فنڈ کی کمی، اس کےباعث اساتذہ کے استعفوں اور سمجھوتہ نہ کرنے کی ان کی ضد تک محدود رہ جاتی ہے۔ اگر اسے زیادہ گہرائی اور وسعت دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ معاون کرداروں کو بھی زیادہ پھیلاؤ نہیں دیا گیا ہے۔ 
اداکاری
اداکاری کے اعتبارسے ونیت کمار سنگھ نےاپنے کردار کے ساتھ پوری دیانت داری برتی ہے۔ وہ الکھ پانڈے کی الجھن، کشمکش اور اندرونی کیفیت کو اچھی طرح پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وکرم کوچر اور گرجا اوک نے بھی اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کیا ہے، مگر کرداروں کی گہرائی اور تہہ داری کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ 
نتیجہ
حالانکہ اس سیریز میں بھی دیگر کی طرح کچھ کوتاہیاں ہیں۔ کہانی کی رفتار بعض اوقات سست پڑ جاتی ہے۔ کچھ ایپی سوڈطویل محسوس ہوتےہیں لیکن مجموعی طور پر’ہیلو بچوں ‘ ایک ایماندار اور دل کو چھو لینے والی سیریزہے۔ کہانی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے اور دکھاوا نہیں کرتی۔ اگر آپ کو سادگی اور حقیقی جذبات کے ساتھ کہانیاں دیکھنا پسند ہیں تو یہ سیریز آخر تک آپ کے ساتھ رہے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK