Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاٹان: وجے سیتوپتی کی اداکاری سے سجی سنسنی خیز مرڈرمسٹری

Updated: April 12, 2026, 12:42 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

تمل زبان کی اس ویب سیریز کو ہندی کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں دیکھا جاسکتاہے،وجے کی اداکاری کے علاوہ منظر کشی اس کا سب سے اہم پہلو ہے۔

Vijay Sethupathi can be seen in a scene from the web series `Kaattaan`. Photo: INN
ویب سیریز’کاٹان ‘ کےایک منظر میںوجے سیتوپتی کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

کاٹان  (Kaattaan)
اسٹریمنگ ایپ :جیو ہاٹ اسٹار(۱۰؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ:وجے سیتوپتی ،کلائیوانی بھاسکر،ملند سومن، ویٹائی متھوکمار، ریشا جیکب مونیکا، وادیول مروگن
ڈائریکٹر:بی اجیت کمار،ایم منی کندن
رائٹر:ایم منی کندن
پروڈیوسر:وجے سیتوپتی
موسیقار:راجیش مروگیسن
سنیماٹوگرافر:مدھونیلاکندن
ایڈیٹر:بی اجیت کمار
آرٹ ڈائریکٹر:سابو موہن
ریٹنگ:***

جرم، راز اور انسانی فطرت کی پیچیدگی یہ تینوں عناصر جب ایک ہی دھار میں بہنے لگیں تو کہانی محض تفریح نہیں رہتی، ایک تجربہ بن جاتی ہے۔وجے سیتوپتی کی کرائم تھرلر ویب سیریز کاٹان بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ پیش کرتی ہے۔ اصل میں تمل زبان میں تیار کی گئی اس ۱۰؍اقساط پر مشتمل سیریز کو ہندی، تیلگو، ملیالم اور کنڑ میں بھی دیکھاجا سکتا ہے۔ہدایتکارایم منی کندن اوراجیت بی کمارنے اس کہانی کو ایک ایسے پلاٹ کے گرد بُنا ہے، جس کی بنیاد ایک کٹے ہوئے سر کی دریافت پر رکھی گئی ہےاور اسی سر کے پیچھے چھپی ایک پوری زندگی کو سمجھنے کی کوشش اس سیریز کا مرکزی نکتہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چریّا: خواتین کے حقوق پر جھنجھوڑنے والی ایک اور ویب سیریز

کہانی 

کہانی مدورئی کے قریب ایک گاؤں کے سنسان پولیس اسٹیشن سے شروع ہوتی ہے، جہاں۳؍برسوں سے کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ تھانے کے بند ہونے کی تیاری جاری ہے، مگر اسی بیچ ایک ٹیلے پر ایک کٹا ہوا سر ملتا ہےاور یوں خاموشی کے اس تالاب میں ایک پتھر گرتا ہے۔ کانسٹیبل کالائی پانڈیان (واڈیول مروگن)کسی ذاتی وجہ سے اس کیس کو اپنے دائرۂ اختیار میں لے آتا ہے۔ جلد ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سر متھو عرف کاتّن کا ہے،ایک ایسا شخص جس کے بارے میں ہر زبان پر الگ کہانی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سیریز اپنی اصل روح دکھاتی ہے۔ متھو کون تھا؟ ایک مسیحا یا ایک درندہ؟ کسی کے لیے وہ ہیرو ہے، جو بے قابو ہاتھی کو رام کر کے ایک اغوا شدہ لیڈر کو بچاتا ہے، تو کسی کے لیے وہ ایسا خطرناک شخص ہے، جو انڈرورلڈ کی تاریکیوں میں اپنی مرضی سے قدم رکھتا ہے۔ اس کی زندگی گھڑیوں کی دکان سے شروع ہو کر ممبئی اور کیرالا کے جرائم پیشہ نیٹ ورک تک جا پہنچتی ہے۔ کبھی وہ ہاتھیوں کا ٹرینر بنتا ہے، کبھی ڈانس گروپ کا محافظ اور ہر موڑ پر اس کی کہانی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔

 ہدایت کاری

سیریز کا بیانیہ سیدھا نہیں بلکہ وقت کے مختلف دائروں میں گھومتا ہے،۱۹۹۰ءکی دہائی کے اواخر سے لے کر ۲۰۱۷ءتک۔یہی نان-لینیئر انداز اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ ایک طرف یہ متھو کے کردار کو پرت در پرت کھولتا ہے، دوسری طرف ناظر کو بار بار الجھن میں بھی ڈالتا ہے۔ ہر ٹائم لائن ایک نئی پہیلی لے کر آتی ہے، مگر ان سب کو جوڑنے کے لیے جتنی رہنمائی درکار ہے، وہ سیریز ہمیشہ فراہم نہیں کرتی۔تکنیکی سطح پرکاٹان ایک جیتی جاگتی دنیا تخلیق کرتی ہے۔ مدھو نیلکانتن اور این شنموگا سندرم کی سنیماٹوگرافی دیہی زندگی کی سادگی، اس کی مٹی کی خوشبو، سڑک کنارے کے ہوٹلوں کی رونق اور میلوں ٹھیلوں کی چہل پہل کو اس انداز میں قید کرتی ہے کہ ناظر خود کو اسی فضا کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ سیریز اپنے ماحول کو کہانی کا مرکزی کردار بنا دیتی ہےاور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایسپیرینٹس۳: اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کیلئے ہونے والی جدوجہد کی کہانی

اداکاری

جہاں تک اداکاری کا سوال ہے، وجے سیتوپتی اپنی اسکرین پر موجودگی سےپوری سیریز کو تھامے رکھتے ہیں۔ وہ ایک خاموش، سنجیدہ اوراپنے اصولوں پر چلنے والے کردار میں نظر آتے ہیںایک ایسا کردار جو کمزوروں کے لیے نرم دل ہے، مگر اشتعال دلانے پرخطرناک بھی ہو سکتاہے۔تاہم، ان کے کردار میں وہ گہرائی نہیں آ پاتی، جس کی توقع اس پیچیدہ بیانیے سے کی جا سکتی تھی۔دیگرکرداروں کی بات کریں توملند سومن بطور شِوِٹّن ایک ایسے کاروباری شخص کے روپ میں سامنے آتےہیں، جس کے تعلقات انڈرورلڈ سے جڑے ہیں اورجو سونےکی اینٹوں کے سودے میں ملوث ہے۔ خواتین کردار بھی محض سجاوٹ نہیں بلکہ کہانی کا مضبوط حصہ ہیں چاہے وہ ڈانسر مینا(ریشا جیکب)ہوں یا چٹّو(ابی نکشترا)اور متھو کی پرانی محبت سندھو (کلائیونی)،  یہ سب اپنے اپنے انداز میں کہانی کو گہرائی دیتے ہیں۔

نتیجہ

آخر میں، کاٹان کوئی بہترین تخلیق نہیں ہے، مگر اس میں وہ کشش ضرور ہے جو آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو شور نہیں مچاتی، بلکہ آہستہ آہستہ دل و دماغ میں اترتی ہےاور پھر دیر تک وہیں بسی رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK