بارش شروع ہوتے ہی سہیا دری کی چٹانوں اور جنگلات میں پانی کی روانی بڑھ جاتی ہے اور بیکرے آبشار کئی سطحوں سے نیچے گرتا ہوا ایک حسین منظر پیش کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 12:29 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
بارش شروع ہوتے ہی سہیا دری کی چٹانوں اور جنگلات میں پانی کی روانی بڑھ جاتی ہے اور بیکرے آبشار کئی سطحوں سے نیچے گرتا ہوا ایک حسین منظر پیش کرتا ہے۔
ممبئی کی تیز رفتار زندگی، ٹریفک کے شور اور ہر وقت بھاگتی دوڑتی شہری زندگی سے چند گھنٹوں کے لیے دور جانا ہو تو مہاراشٹر کے سہیا دری پہاڑ ایک بہترین پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں۔ مانسون کے دنوںمیں توان پہاڑوں کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ خشک اور بھورے دکھائی دینے والے پہاڑ اچانک سبز چادر اوڑھ لیتے ہیں، چھوٹی چھوٹی ندیاں بہنے لگتی ہیں اور جگہ جگہ چٹانوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ انہی حسین مقامات میں بیکرے آبشار بھی شامل ہے،جو کرجت کے قریب بھِوپوری علاقے میں واقع ایک نسبتاً کم معروف مگر دلکش آبشار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سَوَتسڑا آبشار: کونکن کی سبز وادیوں میں بہتا ہوا سفید دھارا
محل و قوع
بیکرے آبشار بیکرے گاؤں کے قریب، بھِوپوری اور کرجت کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ماتھیران کے پہاڑی سلسلے کے آس پاس پھیلے ہوئےسبز مناظر کا حصہ ہے۔ آبشار تک پہنچنے کیلئے گاؤں سے ایک مختصر پیدل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جگہ ان لوگوں کیلئےبھی موزوں ہے جو بہت مشکل ٹریک کے بجائے ہلکی پھلکی پہاڑی سیر پسند کرتے ہیں۔ مختلف ٹریکنگ ذرائع کے مطابق گاؤں سے آبشار تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کا راستہ ہے اور عام حالات میں اسے تقریباً ۲۰؍سے ۴۰؍منٹ میں طے کیا جاسکتا ہے۔
مون سون میں بدل جاتا ہے پورا منظر
بیکرے آبشار کی اصل خوب صورتی مانسون کے موسم میں سامنےآتی ہے۔ بارش شروع ہوتےہی سہیا دری کی چٹانوں اور جنگلات میں پانی کی روانی بڑھ جاتی ہے اور بیکرے آبشار کئی سطحوں سے نیچے گرتا ہوا ایک حسین منظر پیش کرتا ہے۔ آس پاس کا علاقہ گھنی ہریالی سے ڈھک جاتا ہے، پہاڑوں پر بادل اتر آتے ہیں اور فضا میں مٹی، پودوں اور بارش کی ملی جلی خوشبو پھیل جاتی ہے۔یہ آبشار ایک کثیر سطحی یعنی ملٹی اسٹیپ واٹر فال ہے۔ مختلف ذرائع اس کے مرکزی چٹانی حصے کی بلندی تقریباً۷۰؍ سے۰؍فٹ یا اس سے کچھ زیادہ بتاتےہیں، جبکہ بعض مقامی ٹریول ذرائع تقریباً ۳۰؍میٹرکے چٹانی حصے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی بلندی کے اعداد میں معمولی اختلاف ملتا ہے، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ آبشار کئی سطحوں میں نیچے گرتا ہے اورمانسون میں اس کی خوب صورتی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بِلس کلب: آرام، فٹنس اور فیشن کو ایک ساتھ جوڑنے والا ہندوستانی برانڈ
واٹر فال ریپلنگ کی وجہ سے بھی مشہور
بیکرے آبشار صرف قدرتی حسن کے لیے ہی مشہور نہیں بلکہ واٹر فال ریپلنگ کے شوقین افراد میں بھی اس کی خاص پہچان ہے۔ بارش کے موسم میں مختلف ایڈونچر گروپس یہاں ریپلنگ کی سرگرمیاں منعقدکرتے ہیں، جس میں تربیت یافتہ افراد حفاظتی رسّوں اور دیگر سامان کی مدد سے آبشار کی چٹانی سطح سے نیچے اترتے ہیں۔
یہ سرگرمی بلاشبہ سنسنی خیز ہے، لیکن اسے کسی تجربہ کار اور ذمہ دار ایڈونچر آپریٹر کی نگرانی میں ہی کرنا چاہیے۔ آبشار کی گیلی چٹانیں انتہائی پھسلن بھری ہوتی ہیں، اس لیے بغیر تربیت یا مناسب حفاظتی سامان کے ریپلنگ کی کوشش خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لاوا، وراٹ وی ون۵؍جی: ہندوستانی کمپنی کا قدرے کم قیمت فون
بیکرے میں منعقد ہونے والے بعض ریپلنگ پروگراموں میں بھِوپوری ریلوے اسٹیشن سے گروپ کے ساتھ سفر، بیکرے گاؤں تک پہنچنا، مختصر ٹریک، حفاظتی ہدایات اور اس کے بعد ریپلنگ شامل ہوتی ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں
ممبئی اور آس پاس کے علاقوں سے آنے والوں کے لیے بیکرے آبشار کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ بھِوپوری روڈ ریلوے اسٹیشن اس علاقے کے قریب واقع ہے۔ اسی وجہ سے ممبئی سے ٹرین کے ذریعے آنے والے سیاح بھی یہاں ایک روزہ سفر کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔بھِوپوری اسٹیشن سے بیکرے گاؤں کی طرف مقامی سواری یا پہلے سےطے شدہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے، جس کے بعد پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ کچھ ٹریکنگ پروگرام براہ راست بھِوپوری ریلوے اسٹیشن کو اپنا میٹنگ پوائنٹ رکھتے ہیں۔