یہاں قدرتی حسن، نوآبادیاتی دور کی یادگاریں، گھنے دیودار کے جنگلات، آبشار، چشمے اور برف پوش پہاڑ ایک دوسرے میںگھل مل جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 12:58 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہاں قدرتی حسن، نوآبادیاتی دور کی یادگاریں، گھنے دیودار کے جنگلات، آبشار، چشمے اور برف پوش پہاڑ ایک دوسرے میںگھل مل جاتے ہیں۔
ہماچل پردیش کے چمباضلع میں واقع ڈلہوزی ان پہاڑی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، نوآبادیاتی دور کی یادگاریں،گھنے دیودار کے جنگلات، آبشار، چشمے اور برف پوش پہاڑ ایک دوسرے میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ پورا شہر ایک خوب صورت تصویری البم محسوس ہوتا ہے۔تقریباً ۱۹۷۰؍میٹر کی بلندی پر آباد یہ پہاڑی شہر ۵؍پہاڑیوںکیتھلوگ، پوٹریں، ٹیرہ، بکرُوٹہ اور بھنگورا—پرپھیلا ہوا ہے۔ اسے ۱۸۵۰ء میں برطانوی دور میں موسمِ گرما کے قیام گاہ کے طورپربسایا گیا تھا۔ آج بھی اس کی سڑکوں، چرچوں اور عمارتوں میں اس نوآبادیاتی ماضی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیک اینڈ جونز: نوجوانوں کے فیشن سے عالمی شناخت تک کا سفر
ڈین کنڈ چوٹی
ڈلہوزی کے گرد موجود پہاڑیوں میں ڈین کنڈ سب سے بلند چوٹی ہے، جو تقریباً ۲؍ہزار ۷۵۵؍میٹرکی بلندی پرواقع ہے۔یہاں پہنچنے کے لیے پہاڑی راستہ اختیار کرنا پڑتاہے اور راستے میں دیودار کے بلند درخت، گھنے جنگلات اور دور تک پھیلی وادیاں مسافر کا ساتھ دیتی ہیں۔ چوٹی سے اردگرد کے پہاڑوں اور وادیوں کا وسیع منظر دکھائی دیتا ہے اور صاف موسم میں خجیار کی سمت کا نظارہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
کھجیار
ڈلہوزی کے سفر میں اگر کسی ایک مقام کو لازماً شامل کیا جائے تو وہ کھجیار ہے۔ ڈلہوزی سے تقریباً ۲۲؍کلومیٹر دور واقع کھجیار اپنے وسیع سبز میدان، دیودار کے جنگلات اور خوب صورت جھیل کے باعث بے حد مقبول ہے۔ ہماچل پردیش ٹورزم کے مطابق کھجیار کے سبز میدان کے درمیان ایک تالاب نما جھیل ہے اور اس کے قریب ۱۲؍ ویں صدی کاکھجیار ناگ مندر واقع ہے۔ کھجیارکو عام طور پر ’منی سوئٹزرلینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی مقام کو دوسرے ملک کے مشہور سیاحتی مقام سے تشبیہ دینا محض ایک علامتی انداز ہے، لیکن کھجیار کی ہری بھری چراگاہیں، گھنے دیودار اور پہاڑوں سے گھرا ہوا منظر واقعی دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہاں گھڑ سواری، پیراگلائیڈنگ اور زوربنگ جیسی سرگرمیاں بھی کی جاتی ہیں، جبکہ کھجیار سے ڈلہوزی، چمبا اور کالٹوپ کی سمت ٹریکنگ کے راستے بھی نکلتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تاریخی شہر حیدر آباد میں سیاحتی مقامات کی کوئی کمی نہیں
پنج پُلا
ڈلہوزی سے تقریباً۶؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پنج پُلا شہر کے مشہورتفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔یہاں کئی پہاڑی ندی نالے ایک دوسرےسےملتے ہیں اور ان پر بنے۵؍ پل اس مقام کو’پنج پُلا‘ کا نام دیتے ہیں۔ پانی کی روانی، آس پاس کی ہریالی اور پہاڑی ماحول اسے پکنک اور مختصر سیر کے لیے موزوں بناتے ہیں۔ پنج پُلا کا تعلق آزادی کی تحریک سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہاں مجاہدِآزادی سردار اجیت سنگھ کی یادگار موجود ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ڈلہوزی میں گزارا تھا۔
کالٹوپ وائلڈ لائف سینکچری
کھجیار کے قریب واقع کالٹوپ-کھجیار وائلڈ لائف سینکچری فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ علاقہ گھنے دیودار، بلوط، بلیو پائن اور روڈوڈینڈرون کے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ ہماچل پردیش ٹورازم کے مطابق یہ محفوظ علاقہ تقریباً ۱۷ء۱۷؍مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں مغربی ہمالیائی خطے کی مختلف اقسام کی نباتات اور حیوانات پائے جاتے ہیں۔ کالٹوپ میں ہمالیائی کالا ریچھ، تیندوا، گورال، سیرو اور مختلف اقسام کے فیزنٹ جیسے پرندے پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ جنگلی جانوروں کو دیکھنا قسمت کی بات ہے، لیکن گھنے جنگلات، پرندوں کی آوازیں اور پہاڑی خاموشی خود ایک مکمل تجربہ ہیں۔ یہاں ٹریکنگ کیلئے بھی راستے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سیمسنگ گلیکسی زیڈ فولڈ۸ : ایک نئے انداز کا فولڈیبل فون
ست دھارا
پنج پُلا جاتے ہوئے ست دھارا آتا ہے۔ نام ہی اس کی خاصیت بیان کرتا ہے یعنی ۷؍قدرتی چشموں کا پانی ایک جگہ جمع ہوکر آبشارکی شکل اختیار کرتا ہے۔ ہماچل پردیش ٹورازم کے مطابق ان چشموںکے پانی کے بارے میں مقامی طور پر یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس میں بعض طبی خصوصیات ہیں۔ خاص طور پر برسات کے موسم، جولائی اور اگست میں، جب پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، یہ مقام زیادہ دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ست دھارا کے آس پاس کا ماحول بہت پرسکون ہے۔ پانی کی آواز، درختوں سے ٹکراتی ہوا اور پہاڑی دھند ایک ایسا منظر بناتی ہے ۔
بکرُوٹہ ہلز
بکرُوٹہ ہلز ڈلہوزی کے ان مقامات میں شامل ہےجہاں قدرتی حسن کو محسوس کرنے کے لیے کسی بڑی سرگرمی کی ضرورت نہیں۔ تقریباً ۵؍کلومیٹر کی چڑھائی کے دوران دیودار، چیڑ اور بلوط کے گھنے جنگلات مسافرکے ساتھ چلتے ہیں۔ صبح کے وقت دھند درختوں کے درمیان پھیلی ہو تو منظر اور بھی پراسرار ہوجاتا ہے۔