چپلون کے قریب واقع یہ جھرنا اگرچہ ملک کے مشہور ترین آبشاروں میں شامل نہیں، لیکن یہی نسبتاً کم شہرت اسےمسافروں کے لیے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 12:48 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
چپلون کے قریب واقع یہ جھرنا اگرچہ ملک کے مشہور ترین آبشاروں میں شامل نہیں، لیکن یہی نسبتاً کم شہرت اسےمسافروں کے لیے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔
مہاراشٹر کا کوکن خطہ قدرت کے ان حسین خطوں میں شامل ہے جہاںسمندر، پہاڑ، گھنے جنگلات، ندی نالے اور بارش ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسا منظر بناتے ہیں کہ انسان کچھ دیر کے لیے روزمرہ زندگی کی ہلچل بھول جاتا ہے۔رتناگیری ضلع کا سَوَتسڑا آبشار (Sawatsada Waterfall) بھی کوکن کی اسی دل فریب قدرت کاایک خوب صورت نمونہ ہے۔
چپلون کے قریب واقع یہ آبشاراگرچہ ملک کے مشہور ترین آبشاروں میں شامل نہیں، لیکن یہی نسبتاًکم شہرت اسے ان مسافروں کے لیے زیادہ پرکشش بناتی ہے جو شور شرابے سے دور قدرت کو اس کی اصل شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ آبشار خصوصاً برسات کے موسم میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کھانڈی آبشار تک جانےکا راستہ آسان اور نہایت ہی دلکش ہے
محل و قوع
سوتسڑا آبشاررتناگیری ضلع میں چپلون کے قریب واقع ہے اور ممبئی۔گوا قومی شاہراہ کے قریب ہونےکی وجہ سے یہاں پہنچنا نسبتاً آسان ہے۔ مختلف سیاحتی ذرائع کے مطابق یہ چپلون شہر سے تقریباً ۴؍سے۵؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یہاں کی خصوصیت
اس آبشار کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی جغرافیائی ساخت میںپوشیدہ ہے۔ جس چٹانی سطح سے پانی نیچے گرتا ہے، وہ ایک طرح کی خم داریا اندر کی طرف مڑی ہوئی چٹان بناتی ہے، جس کے گرد گھنی سبزجھاڑیاں اور جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ درمیان میں سیاہ اور بھورے پتھروں کے بیچ سفید پانی کی ایک لمبی دھار نیچے گرتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہریالی نے اپنے درمیان چاندی کی ایک روشن لکیر سجا رکھی ہو۔ بارش کے دنوں میں جب پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے تو یہی دھار ایک زوردار آبشار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رندھا آبشار: سہیا دری کے دل میں گونجتا قدرت کا عظیم شاہکار
سڑک سے بھی دیکھا جاسکتا ہے
سوتسڑا آبشار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے ممبئی۔چپلون روڈسے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے قریب سے گزرنے والے مسافروں کے لیے یہ جگہ اچانک سامنے آنے والی ایک خوب صورت قدرتی تصویر کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ دور سے دیکھنے پر پہاڑ کی سبز سطح کے بیچ سفید پانی کی ایک پتلی لکیر دکھائی دیتی ہے، لیکن قریب پہنچنےپر اس کے اصل حجم اور چٹان کی ساخت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی دو مختلف زاویے اس آبشار کو فوٹوگرافروں کے لیے خاصا دلچسپ بناتے ہیں۔
آبشار تک پہنچنے کیلئےعام طور پر گاڑی سڑک کے قریب روک کر کچھ فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔ مختلف سیاحتی معلومات کے مطابق راستہ بہت دشوار نہیں، لیکن مانسون کے دوران زمین پھسلن بھری ہوسکتی ہے۔ اسی لیے یہاں آنے والے مسافروں کو مناسب جوتے پہننے چاہیے اور چٹانوں کے بہت قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے۔پانی بظاہر پرسکون محسوس ہو سکتا ہے، لیکن شدید بارش کے دوران اس کا بہاؤ اچانک خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈلہوزی: پہاڑوں، آبشاروں اور نوآبادیاتی حسن کے درمیان ایک دلکش سفر
پرسکون ماحول
یہاں کی ایک اور خوبی اس کی نسبتاً خاموش فضا ہے۔ بڑے سیاحتی مراکز کی طرح یہاں ہر لمحہ ہجوم نہیں رہتا۔ آبشار کی آواز، پتھروں پر گرتے پانی کی چھینٹیں، درختوں میں چلتی ہوا اور پرندوں کی آوازیں مل کر ایک ایسی قدرتی موسیقی پیدا کرتی ہیں جسے سننے کے لیے کسی مصنوعی تفریح کی ضرورت نہیں پڑتی۔
فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے سوتسڑا خاصا موزوں مقام ہے۔ آبشار کو دور سے پوری پہاڑی کے پس منظر میں لیا جاسکتا ہے، جب کہ قریب سے پانی کی سفید دھار، کالی چٹانیں اور سبز پتوں کا امتزاج ایک خوب صورت فریم بناتا ہے۔ برسات کے بادل جب پہاڑوں کے گرد ٹھہرے ہوں اور ہلکی دھند آبشار کے اطراف پھیلی ہو تو اس منظر میں مزید پراسراریت پیدا ہوجاتی ہے۔ صبح اور شام کی نرم روشنی میں یہاں کا قدرتی رنگ خاص طور پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔