علی لاریجانی کے قتل کا انتقام لیتے ہوئے ایران نے رات بھر میں ۱۰۰؍ سے زائد میزائل داغے ، کلسٹر بموں کا استعمال ،تل ابیب کی کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 12:57 AM IST | Tel Aviv
علی لاریجانی کے قتل کا انتقام لیتے ہوئے ایران نے رات بھر میں ۱۰۰؍ سے زائد میزائل داغے ، کلسٹر بموں کا استعمال ،تل ابیب کی کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے۱۹؍ ویں روز صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جبکہ ایران نے اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد انتقام لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران نے اپنے سیکوریٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اسرائیل پر زبردست میزائل حملے کئے ہیں، جس کے نتیجے میں تل ابیب میںسنگین جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ’آپریشن وعدۂ صادق‘ کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی ۶۱؍ویں لہر شروع کی گئی، جس میں مختلف قسم کے میزائل داغے گئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ۱۰۰؍سے زائد فوجی اور سیکوریٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیاہے کہ تازہ حملوں میں ۱۰۰؍سے زائدمیزائل اہداف پر لگے ہیں اور ان حملوں میں ۲۰۰؍ اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں کلسٹر بموںسے لیس میزائل بھی استعمال کئے گئے۔ رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں، کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور عمارتوں کو بھی شدیدنقصان پہنچا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط ہے۔ وہ ان حملوں کا بھرپور جواب دیگا۔ایران کے میزائل حملے میں تل ابیب کے مضافات میں واقع رمات گن میں ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایرانی میزائل اسرائیلی شہر بیت شیمش میں فوجی تنصیبات تک پہنچ گئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی ایرانی میزائلوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیت شیمش پر میزائل حملے سے متعدد عمارتیں نشانہ بنیں اور کئی اہم فوجی عمارتیں تباہ ہو گئیں، ان حملوں میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیت شیمش میں میڈیکل کور اور فوجی بھرتی مراکز بھی حملے کی زد میں آئے ہیں۔، ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی سامان اور لاجسٹک سائٹس بھی بیت شیمش کے اس علاقے میں ہیں۔ایران کے ان حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں ہنگامی صورتِ حال اور سیکوریٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ملٹری نے ۳؍ ایرانی میزائلوں کے بین گوریاں ایئر پورٹ تک پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہےکہ ان کی وجہ سے ایئر پورٹ کے ایک حصہ کو نقصان پہنچا ہے اور وہاں قریب ہی کھڑے ۳؍ ہوائی جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دریں اثناء ایرانی وزارت صحت کے مطابق ۲۸؍فروری سے جاری حملوں میں اب تک ایک ہزار ۴۰۰؍سے زائد افراد جاں بحق اور ۱۸؍ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جزوی طور پر جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے تاہم تیل کی ترسیل اور پیداوار شدید متاثر ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں اہم فوجی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس سے کتنا نقصان ہوا ہے اس کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔