۷؍ سال بعد جیفری ایپسٹین کا سوسائڈ نوٹ جاری کیا گیا، جو مبینہ طور پر اس نے نیویارک جیل میں اپنی موت سے چند ہفتے قبل لکھا تھا۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 7:51 PM IST | Washington
۷؍ سال بعد جیفری ایپسٹین کا سوسائڈ نوٹ جاری کیا گیا، جو مبینہ طور پر اس نے نیویارک جیل میں اپنی موت سے چند ہفتے قبل لکھا تھا۔
ایک امریکی جج نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا مبینہ خودکشی نوٹ عوام کے لیے جاری کر دیا ہے، جو مبینہ طور پر اس نے نیویارک جیل میں اپنی موت سے چند ہفتے قبل لکھا تھا۔یہ نوٹ ایپسٹین کے ساتھی قیدی کو ایک کتاب میں ملا تھا، جب ایپسٹین نے خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ نوٹ میں لکھا تھا: ’’انہوں نے مہینوں میری تحقیقات کی کچھ نہیں ملا، اور الوداع کہنے کے لیے اپنا وقت خود منتخب کرنا ایک خوشی کی بات ہے۔‘‘نوٹ کے اختتام پر تھا، ’’تم چاہتے ہو کہ میں کیا کروں، زور سے روؤں،کوئی مزہ نہیں، اس کے قابل نہیں۔‘‘واضح رہے کہ یہ نوٹ برسوں تک ساتھی قیدی کی قانونی کارروائی کے تحت مہر بند رکھا گیا تھا، لیکن اب نیویارک ٹائمز کی درخواست پر جج کینتھ کاراس نے اسے جاری کردیا۔ گرچہ اس دستاویز کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس کی اشاعت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایپسٹین کی موت کے بارے میں سوالات باقی ہیں۔ اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، لیکن جیل میں سیکیورٹی کی کمی اور غائب سی سی ٹی وی فوٹیج نے اس کی موت کی اصل وجہ کے تعلق سے شکوک کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سے جڑے معاملات نے ازدواجی زندگی پر اثر ڈالا: اوبامہ کا اعتراف
دراصل ۲۰۱۹ء جولائی کے آخر میں ایپسٹین اپنے قید خانے میں زخمی حالت میں پایا گیا تھا، اس وقت حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی، اور اسی کوشش میں وہ زخمی ہوگیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ یہ خط اس واقع سے قبل لکھا گیا تھا، جسے گرافک ناول میں دبا دیا گیا تھا۔ذہن نشین رہے کہ جیفری ایپسٹین ایک جنسی مجرم تھا، جس کے تعلقات امریکہ اور برطانیہ کے سرکردہ لیڈروں اور تاجروں کے ساتھ تھے، اس کے تعلقات کی خبروں نے دونوں ممالک کی سیاست کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ تاہم اس کے لاکھوں دستاویزات کی تحقیق ابھی جاری ہے، ان دستاویز میں تصاویر، ویڈیو، اور ای میل شامل ہیں۔ جبکہ ان میں سے کچھ تصاویر اور ای میل اس سے قبل جاری کئے جاچکے ہیں۔