یورپی یونین کے ۴۰۰؍ سے زائد سابق وزراء، سفیروں اور سینئر افسران نے یورپی اداروں اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیر قانونی آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 6:07 PM IST | Jerusalem
یورپی یونین کے ۴۰۰؍ سے زائد سابق وزراء، سفیروں اور سینئر افسران نے یورپی اداروں اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیر قانونی آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
یورپی یونین کے ۴۰۰؍ سے زائد سابق وزراء، سفیروں اور سینئر افسران نے یورپی اداروں اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیر قانونی آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے تجویز دی کہ یورپی یونین آبادکاری سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرے، جن میں سیاستدان، آبادکار لیڈر ،اسرائیلی زمینی اور بلدیاتی حکام، منصوبہ ساز، وکیل، معمار، انجینئر، ڈویلپر، ٹھیکیدار، بینک اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بین گویر اور اُس کی بیوی کو فوری طور پر ماہرِ نفسیات کی ضرورت: عرب کنیسٹ رکن
تجویز کردہ پابندیوں میں ویزا پر پابندی اور یورپی یونین کے اندر کاروبار کرنے پر روک شامل ہے۔خاص طور پر ای ونمنصوبے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقائی تسلسل کو نقصان پہنچائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے۱۹۹۹ء میں قبضہ کی گئی تقریباً۱۲۰۰۰؍ ڈونم فلسطینی زمین پر یہ منصوبہ منظور کیا تھا۔جس میں غیر قانونی یہودی بستیاں، تجارتی زون، ہوٹل اور عوامی پارک کی تعمیر شامل تھی۔ حالانکہ بین الاقوامی دباؤ کے سبب اسرائیل نے ۳۵۰۰؍ آبادیاتی اکائیوں کے تعمیری منصوبوں کو منجمد کردیا تھا، تاہم خفیہ طور پر وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق بیلجیئم کے وزیر اعظم گائے ویرہوفسٹڈ اور سابق سویڈش وزیر اعظم اسٹیفن لوفون جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں کی سفارتی کوششوں کے کی بجائے یورپی یونین کو اب فوری عملی کارروائی کرنی چاہیے۔