• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ہنکار: دی رور‘ کے ذریعہ خواتین پر لگائی جانیوالی پابندیوں پر سوال اٹھایا گیا ہے

Updated: October 18, 2026, 11:23 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

سوال اٹھایا گیا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کو ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنےپر کیوں مجبور کیا جاتا ہے اور ہر فیصلے پر معاشرہ سوال کیوں اٹھاتا ہے۔

Aneet Padda can be seen in a scene from the web series `Hunkkaar: The Roar`. Photo: INN
ویب سیریز’ہنکار:دی رور‘ کےایک منظر میں انیت پڈاکو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ہنکار: دی رور
(Hunkkaar: The Roar)
اسٹریمنگ ایپ: جیو ہاٹ اسٹار(۶؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: انیت پڈا، فاطمہ ثنا شیخ، رگھوبیر یادو، بھوپیش سنگھ، ذیشان ایوب، زویا حسین، ارجن ماتھر، راجیش شرما
ڈائریکٹر: کرن کپاڈیا، نتیہ مہرا
رائٹر: ہیراز مرفتیا، نکھل نائر، رویندر رندھاوا، سوربھ رتنو، کرن کپاڈیا، نتیہ مہرا
پروڈیوسر: اشی دواسارا، دیپک سیگل، کرن کپاڈیا، نتیہ مہرا
ایڈیٹر: دپیکا کالرا، زینب شکیل
کاسٹیوم ڈیزائنر: گوپیکا گلواڈی
ریٹنگ:***
’’بند کمرے میں غلط کام وہ آدمی کرے اور پوری دنیا کو جواب میں دوں، کیوں ؟ دوپٹہ باندھ کر مجھے گھر سے نکلنا پڑتا ہے، کیوں؟ میں کیوں بتاؤں کہ کس نے کتنی بار ہاتھ لگایا اور کتنی دیر تک ہاتھ لگایا؟‘‘یہ الفاظ اس درد کی ترجمانی کرتے ہیں جس سے جسمانی استحصال یا عصمت دری کا شکار ہونے والی ہر اس لڑکی کو گزرنا پڑتا ہے جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ معاشرہ اس کی بات سننے کے بجائےاسی کو کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے۔ رات میں باہرکیوں نکلی؟ ایسے کپڑے کیوں پہنے؟ اس طرح کے بے شمار سوالات اور تنگ نظری کے درمیان انیت پڈا اور فاطمہ ثنا شیخ کی مؤثر اداکاری سے سجی ویب سیریز ’ہنکار: دی رور‘ آج کے دور میں خاص اہمیت اختیار کرلیتی ہے۔ اگرچہ کمزور اسکرپٹ کی وجہ سے۶؍اقساط پر مشتمل یہ ویب سیریز پوری قوت سے اپنی بات نہیں کہہ پاتی، لیکن بہار کے جموئی سے لے کر ملک کے دارالحکومت دہلی تک لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے کئی اہم سوال ضرور اٹھاتی ہے۔ 
کہانی 
کہانی میں مدھیہ پردیش کا ایک مشہور مذہبی پیشوا سنیل چوکسی عرف باپ جی (رگھوبیر یادو) ہے، جو لوگوں کی عقیدت کا فائدہ اٹھا کر آشرم میں رہنے والی لڑکیوں کا استحصال کرتا ہے۔ ویب سیریز کا آغاز ۱۷؍ سالہ طالبہ مینو راوت (انیت پڈا) کی جانب سے باپ جی پر عصمت دری کا الزام لگانے سے ہوتا ہے۔ ایک قابل احترام مذہبی پیشوا پر اس سنگین الزام کے بعد پورا شہر اور انتظامی نظام ہل کر رہ جاتا ہے۔ لیکن متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کی حمایت کرنے کے بجائے لوگ ان ہی پر انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں۔ اندھی عقیدت میں مبتلا افراد مینو کے گھر تک کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں نئی نئی تعینات ہونے والی اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس جسلین سنگھ (فاطمہ ثناشیخ)اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتی اور انصاف کی راہ پر ڈٹی رہتی ہے۔ مینو کو انصاف دلانے کی جدوجہد میں صحافی امیتابھ سنہا (ارجن ماتھر)بھی سچائی کا ساتھ دیتاہے۔ ناتجربہ کار وکیل بھالیراؤ (محمد ذیشان ایوب)بھی اسے انصاف دلانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ لیکن باپ جی جیسے بااثر شخص کے خلاف مٹھی بھر لوگوں کی یہ لڑائی کیا رخ اختیار کرتی ہے؟ اس کا جواب جاننے کیلئے آپ کو یہ ویب سیریز دیکھنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: ’شک: ٹرسٹ نو ون‘ میں اپنی بچی کے کھو جانے کا درد پیش کیا گیا ہے

ہدایت کاری
نتیا مہرا اور کرن کپاڈیہ کی ہدایت کاری میں بنی اس ویب سیریز کی شروعات خاصی معمولی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہب اور عقیدت کی آڑمیں مذہبی پیشواؤں کے ہاتھوں کم عمر لڑکیوں کے استحصال کی کہانی نئی نہیں ہے۔ اس موضوع پر ’آشرم‘ جیسی مقبول ویب سیریز اور ’صرف ایک بندہ کافی ہے‘ جیسی مؤثر فلم پہلے ہی بنائی جاچکی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس ویب سیریز کا اسکرین پلے بھی زیادہ مربوط نہیں ہے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران کوئی ایسے بڑے انکشافات سامنے نہیں آتے جو ناظرین کو حیران کردیں۔ کہانی بعض مقامات پر طویل محسوس ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے یہ عدالت میں ہونے والی کارروائی کی طرف بڑھتی ہے، اس کا موضوع زیادہ اہم اور حساس بن جاتا ہے۔ ذیشان ایوب کے کردار کی جانب سے نربھیا کیس کا حوالہ ہو یا دفاعی وکیل کا کردار ادا کرنے والے رام کپور کی قانونی چالیں، عدالت میں ہونے والی بحث کے کئی حصے مضبوط ہیں۔ ویب سیریز کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والی لڑکی کے معمول کی زندگی گزارنے کے حق کی حمایت کرتی ہے۔ 
اداکاری
اداکاری کے معاملے میں یہ ویب سیریز خاصی مضبوط ثابت ہوتی ہے۔ فلم ’سیارہ‘ سے شہرت حاصل کرنے والی انیت پڈا نے مینو کےکردار میں عمدہ اداکاری کی ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، جذبات اور خاموشی متاثر کرتے ہیں۔ ویب سیریز کے اختتام پر ان کا مکالماتی منظر دل کو چھو لیتا ہے اور آنکھیں نم کردیتا ہے۔ 
فاطمہ ثنا شیخ نے اے سی پی جسلین سنگھ کے کردار میں بھی متاثر کیا ہے۔ ان کی اداکاری میں ٹھہراؤ اور سنجیدگی ہے۔ وہ ایک ایسی پولیس افسر کے کردار کو بخوبی پیش کرتی ہیں جو دباؤ اور مخالفت کے باوجود اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ 
نتیجہ
انیت پڈا اور فاطمہ ثنا شیخ کی عمدہ اداکاری، حساس موضوع اور عدالت میں ہونے والی بحث کیلئے یہ ویب سیریز دیکھی جاسکتی ہے۔ ۶؍ اقساط پر مشتمل ’ہنکار: دی رور‘ جیو ہاٹ اسٹار پر دستیاب ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK