جس طرح فلموں میں ہاررکامیڈی پسند کی جارہی ہے اسی مناسبت سے روایتی کہانی کو بھی اسی انداز میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 11:26 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
جس طرح فلموں میں ہاررکامیڈی پسند کی جارہی ہے اسی مناسبت سے روایتی کہانی کو بھی اسی انداز میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے۔
علی بابا اور ۴۰؍بھوت
(Ali Baba aur 40 Bhoot)
اسٹریمنگ ایپ: جیو ہاٹ اسٹار(۱۲؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: آشا نیگی، وشال وششٹھ، رمن دیپ یادوساگر وادھوانی، ابھئے مہاجن، مریدول داس، مانسی سہگل، اجول چوپڑا
ڈائریکٹر: ریشو اگروال، کونارک مکھرجی
رائٹر: بھوونیش شریواستو، پیوش شریواستو
پروڈیوسر: پیالی سکسینہ، بھووینش شریواستو، انشومن سنگھ جادون
سنیماٹوگرافر: راجن سوہانی، ولسن رنبھیسے، وشال سنگوائی
ایڈیٹر: آلوک راج سنگھ، جسکرن سنگھ
ریٹنگ:***
ہارر کامیڈی کی صنف بڑے پردے پر خاصی کامیاب رہی ہے۔ ’بھول بھلیاں ‘ سے لے کر ’استری‘ فرنچائز کی فلمیں اس کی مثال ہیں۔ اب او ٹی ٹی پر بھی ہدایت کار بھونیش شریواستو اسی صنف کی ویب سیریز ’علی بابا اور ۴۰؍بھوت‘ لے کر آئے ہیں۔ جمعہ۱۱؍ ستمبر کو جیوہاٹ اسٹار پر اس کی پہلی ۴؍اقساط ریلیز کی گئی تھیں، جبکہ اس کے بعدہر جمعہ کواس کے۴؍ایپی سوڈ نشر کئے جارہے ہیں۔ اس طرح اب تک اس کے ۱۲؍ایپی سوڈ نشر کئے جاچکے ہیں۔
کہانی
کہانی میں علیشا نگم (آشا نیگی) نامی ایک لڑکی ہے، جسے اس کے چاہنے والے علی کے نام سے پکارتے ہیں۔ علیشا منطق اور سائنس پر یقین رکھتی ہے اور پیشے کے اعتبار سے نیورو سائیکولوجسٹ ہے۔ وہ وسطی ہندوستان کے ایک فرضی شہر ’جھلیا‘ میں اپنے لاپتہ والد تپش نگم (اُجول چوپڑا) کو تلاش کرنے آتی ہے۔ تپش ماہر آثار قدیمہ ہیں اور لاپتہ ہونے سے قبل اپنی بیٹی کو ایک پراسرار پیغام بھیجتے ہیں۔
یہ پیغام علیشا کو ایک ایسی گتھی میں الجھا دیتا ہے جس کا تعلق ایک قدیم شے سےہے اور جس کے پیچھے خوفناک اور جادوئی طاقتوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اسی دوران سب انسپکٹر باباراؤ اپادھیائے عرف ’بابا‘ (وشال وششٹھ) کی کہانی میں انٹری ہوتی ہے۔ وہ ایک اناڑی لیکن نیک دل پولیس افسرہے۔ بابا کو بچپن سے ہی علی پسند ہے۔ وہ علی کے والد کی گمشدگی کا معاملہ حل کرنے سے زیادہ علی کو متاثر کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم اس تلاش میں اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ دونوں کرداروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ علی کو سائنس پر بھروسہ ہے، جبکہ بابا مافوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتا ہے۔ والدکی تلاش کے دوران دونوں ایک ایسی پراسرار دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں عجیب و غریب طاقتوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے سیریز دیکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: چمبک: ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر رہنے والے پڑوسیوں کی مزاحیہ کہانی
ہدایت کاری
یہ سیریز معروف لوک کہانی ’علی بابا اور۴۰؍چور‘ سے متاثر ہے اور اس میں ایک دلچسپ کہانی بننے کی کافی گنجائش تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسکرین پلے اس صلاحیت کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، مرکزی راز کی طرف بڑھنے کے بجائے چوری شدہ بکریوں کی تفتیش میں وقت ضائع کرتی نظر آتی ہے۔ اگرچہ بعد میں اس معاملے کا تعلق مافوق الفطرت واقعات سے جوڑ دیا جاتا ہے، لیکن یہ حصہ مرکزی کہانی کا فطری جزو محسوس ہونے کے بجائے ایک الگ مزاحیہ ٹریک معلوم ہوتا ہے۔
ہدایت کار بھونیش شریواستو کی اس سیریز میں کہانی کی رفتار بھی ایک بڑی خامی ہے۔ ’علی بابا اور ۴۰؍بھوت‘ بیک وقت خوفناک بھی بننا چاہتی ہے اور مزاحیہ بھی، لیکن یہ دونوں رنگ بہت کم مواقع پر ایک دوسرےکے ساتھ اچھی طرح گھل مل پاتے ہیں۔ خوف پیدا کرنے کیلئے وہی روایتی اچانک ڈرانے والے مناظر اور مافوق الفطرت چیزیں استعمال کی گئی ہیں، جن کی وجہ سے مسلسل خوف کا ماحول قائم نہیں ہو پاتا۔ دوسری طرف کامیڈی بھی کبھی اچھی لگتی ہے اور کبھی بالکل بے اثر محسوس ہوتی ہے۔ کئی ایسے مناظر ہیں جنہیں واضح طور پر ناظرین کو ہنسانے کے لیے شامل کیا گیا ہے، لیکن پردے پر یہ مزاح کئی مرتبہ زبردستی کا محسوس ہوتا ہے۔ نہ کرداروں کے مزاج اور نہ ہی حالات کے اعتبار سے یہ مناظر قدرتی دکھائی دیتے ہیں۔
اداکاری
اداکاری کے محاذپر وشال وششٹھ کہانی کی کمزوریوں کے باوجوداپنی موجودگی کا احساس کرانے میں کامیاب رہے ہیں۔ بابا کےکردار میں انہوں نے اناڑی پن اور سچی محبت کا دلچسپ امتزاج پیش کیاہے۔ پولیس افسر بننے کی کوششوں میں ان کے کردار کی ناکامی، ساتھ ہی اداکار بننے کی چھپی ہوئی خواہش اور علی کیلئے قوانین توڑنے کی عادت، سیریز میں چند اچھے مزاحیہ لمحات پیدا کرتی ہے۔
دوسری طرف آشا نیگی ابتدائی اقساط میں علی کے کردار میں مناسب نظر آتی ہیں، لیکن پہلے ۴؍ ایپیسوڈ میں ان کے کردار کو زیادہ گہرائی کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا۔ سب سے دلچسپ اداکاری جوی سین گپتا کی ہے، جو تپش کے ساتھی تلوار کاکردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے کردار کے برے ارادے کہانی میں راز کی ایک اچھی پرت کا اضافہ کرتے ہیں۔
نتیجہ
’علی بابا اور ۴۰؍ بھوت‘ دیکھنے میں مجموعی طور پر ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن اس کا پروڈکشن ڈیزائن اور سی جی آئی اوسط درجے کا ہے۔ اگر آپ وقت گزاری کیلئے دیکھنا چاہتے ہیں تو اسے دیکھ سکتے ہیں۔