بچی کی جدائی کا درد پرینیتی چوپڑا نے موثر انداز میں پیش کیا ہے، کہانی میں دیگر موضوعات شامل کر کے کہانی کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 11:28 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
بچی کی جدائی کا درد پرینیتی چوپڑا نے موثر انداز میں پیش کیا ہے، کہانی میں دیگر موضوعات شامل کر کے کہانی کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
شک: ٹرسٹ نو وَن
(Shaque: Trust No One)
اسٹریمنگ ایپ: نیٹ فلکس(۷؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: پرینیتی چوپڑا، جینیفر ونگیٹ، سونی رازداں، طاہر راج بھسین، انوپ سونی، سمیت ویاس، ہرلین سیٹھی
ڈائریکٹر: رینل ڈیسوزا
رائٹر: رینل ڈیسوزا، عباس دلال، حسین دلال، سدھارتھ ملہوترا، ریوا رازداں کپور، وینیکا مترا
پروڈیوسر: سپنا ملہوترا، سدھارتھ ملہوترا، چاندنی ڈی سلوا، محمد شکیل
موسیقار: راجو سنگھ
سنیماٹوگرافر: جشنو بھٹاچارجی
ایڈیٹر: شویتا وینکٹ
کاسٹنگ ڈائریکٹر: کاوش سنہا
ریٹنگ: ***
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا صدمہ کیا ہوگا کہ اس کی نومولود بچی اس سے دور ہوجائے؟ وہ نہ اپنی پہلی اولاد کو بھلا سکتی ہے اور نہ ہی اسے دوبارہ پانے کی امید اسے سکون سے جینے دیتی ہے۔ ماں کی ایسی ہی جذباتی کہانی پر مبنی ویب سیریز ’شک: ٹرسٹ نو ون‘ کے ذریعے پرینیتی چوپڑا نے او ٹی ٹی کی دنیا میں ویب سیریز کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ تاہم، میکرس نے ماں اور بیٹی کی اس جذباتی کہانی کے گرد شک اور سازشوں کے اتنے جال بن دیے ہیں کہ اس کا اصل لطف کچھ پھیکا پڑ جاتا ہے۔
کہانی
کہانی شملہ میں رہنے والی ایک ماں انویتا (پرینیتی چوپڑا) کی ہے، جس کی نومولود بیٹی اپیکشا پراسرار طور پر اسپتال سے غائب ہوجاتی ہے۔ انویتا کو یقین ہے کہ اس کی بیٹی زندہ ہے اور ایک دن اسے ضرور واپس ملے گی۔ اس کا یقین اس وقت مزید پختہ ہوجاتا ہے جب اغوا کار اس کی گم شدہ بیٹی کی سالگرہ پر اس کی تصویر بھیجتا ہے۔ یہ سلسلہ۹؍ سال تک جاری رہتا ہے۔
انویتا پر اپنی بیٹی اپیکشا کو تلاش کرنے کا جنون اس قدر سوار ہوجاتاہے کہ اسے اس کے سوا کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔ یہاں تک کہ پولیس انسپکٹر کھرانہ (انوپ سونی) کے علاوہ، اس کا شوہر آلوک (طاہر راج بھسین)، دوست شریا (ہرلین سیٹھی) اور ساس (سونی رازدان) سمیت سبھی اسے ذہنی طور پر بیمار سمجھنے لگتے ہیں۔
اسی دوران انویتا کے پڑوس میں ایک جوڑا ساکشی ماتھر (جینیفر ونگیٹ) اور اس کا شوہر (دھروو چودھری) اپنی بیٹی ریا کے ساتھ رہنے آتا ہے۔ انویتا کو لگتا ہے کہ ریا ہی اس کی کھوئی ہوئی بیٹی اپیکشا ہے۔ اب اس کا شک حقیقت ثابت ہوتا ہے یا یہ محض اس کا وہم ہے، یہ جاننے کے لیے سیریز دیکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ویٹنگ ہے: ریلوے ٹکٹ نہ ملنے کے مسئلے کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتی ہے
ہدایت کاری
رنجیل ڈی سلوا اور سدھارتھ پی ملہوترا کی تخلیق کردہ یہ سیریز ایک ایسی لڑکی کے واقعے سے متاثر ہے جو بچپن میں اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی اور کئی برس بعد دوبارہ اپنے گھر والوں سے ملی۔ اس واقعے کو ڈیلِمار ویرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سیریز کا بنیادی خیال اپنے آپ میں انتہائی مؤثر ہے۔
سیریز کی شروعات اچھی ہوتی ہے، لیکن آگے چل کر میکرس نے اس میں دھوکہ دہی، تنتر منتر، ناجائز تعلقات، ذہنی مغالطوں اور سروگیسی جیسے کئی موضوعات شامل کردیے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کہانی ایک ایسی کھچڑی بن جاتی ہے جس کا اصل ذائقہ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ اس سے نہ صرف کہانی کا تجسس کمزور پڑتا ہے بلکہ انویتا کے درد اور اس کی بے بسی کو بھی اس شدت سے محسوس نہیں کیا جاسکتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، کرداروں کو بھی گہرائی سے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ پرینیتی چوپڑا، جینیفر ونگیٹ اور انوپ سونی کے کرداروں کو چھوڑ دیا جائے تو باقی کرداروں کی شخصیت میں کوئی خاص تبدیلی یا گہرائی دکھائی نہیں دیتی۔
اداکاری
اداکاری کی بات کریں تو پرینیتی چوپڑا نے اپنی بچی کو کھونے والی ماں کی بے چینی، اذیت اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کو اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔ تاہم، ایک حد کے بعد ان کے تاثرات میں یکسانیت محسوس ہونے لگتی ہے۔
حساس دل رکھنے والے پولیس انسپکٹر کے کردار میں انوپ سونی سب سےزیادہ متاثر کرتے ہیں۔ وہ اپنے کردار کو حقیقت سے قریب رکھتے ہوئے اداکاری کرتے ہیں۔ وہیں ’بے حد‘ کے بعد جینیفر ونگیٹ ایک مرتبہ پھر اپنی اداکاری سے حیران کرتی ہیں۔
طاہر راج بھسین، ہرلین سیٹھی، سونی رازدان، سمیت ویاس اور دھروو چودھری بھی اپنے اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں، لیکن کرداروں میں گہرائی اور مختلف پہلوؤں کی کمی کے باعث وہ زیادہ اثر نہیں چھوڑ پاتے۔
شملہ کی سرد وادیاں اور پس منظر میں بجنے والی موسیقی سیریز کے پراسرار ماحول اور تناؤ کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ سیریز ناظرین کی توقعات پر پوری طرح کھری نہیں اترتی۔
نتیجہ
اگرآپ کسی کی بچی کھوجانے پر پیدا ہونے والی بیچی اور پرینیتی چوپڑا اور جینیفر ونگیٹ کی اداکاری دیکھنا چاہتےہیں تو یہ ویب سیریز ایک بار دیکھی جاسکتی ہے۔