بہتر بیٹری، نیا پروسیسر اور عمدہ کیمرا اس فون کی نمایاں خوبیاں ہیں، لیکن ڈیزائن اور ڈسپلے میں بڑی تبدیلی نہیں،صارفین کو اپ گریڈ کرنے سے قبل سوچنا ہوگا۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 12:59 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
بہتر بیٹری، نیا پروسیسر اور عمدہ کیمرا اس فون کی نمایاں خوبیاں ہیں، لیکن ڈیزائن اور ڈسپلے میں بڑی تبدیلی نہیں،صارفین کو اپ گریڈ کرنے سے قبل سوچنا ہوگا۔
کئی برسوں تک ایپل کے آئی فون میں’پرو میکس‘ ماڈل سب سےنمایاں اور اہم فون سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اس سال آئی فون ڈیو نےاس صورت حال کو کسی حد تک بدل دیا ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ماڈل بھی اگلے سال کے اوائل تک دستیاب نہیں ہوگا۔ ایسے میں اس سال آئی فون کی پوری رینج کی ذمہ داری بڑی حد تک آئی فون ۱۸؍ پرو میکس پر آتی ہے، کیونکہ آئی فون ڈیو ہر صارف کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔آئی فون ۱۸؍پرو میکس کو بازار میں آئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کی لانچنگ کے موقع پر پیدا ہونے والا جوش بھی اب قدرے کم ہو گیا ہے۔ یہی مناسب وقت ہے کہ اس فون کو صرف اس کے فیچرز اور تکنیکی خصوصیات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ روزمرہ استعمال کے تجربے کی روشنی میں بھی پرکھا جائے۔
ڈیزائن: ایپل نے اس بار فون کی مجموعی ظاہری ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی ہے۔دونوں فونز کے ڈیزائن یکساں ہیں۔ ایلومینیم سے تیار کردہ باڈی اور پشت پر نمایاں کیمرا ماڈیول اس بار بھی موجود ہیں۔ دونوں فونز کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ان کے رنگوں اور فنشنگ کے علاوہ فرق تلاش کرنا مشکل ہے۔
قیمت: ہندوستان میںاس کے۲۵۶؍جی بی اسٹوریج والے بنیادی ماڈل کی قیمت ایک لاکھ۸۰؍ہزارروپے ہے، جب کہ ۵۱۲؍جی بی والے ماڈل کی قیمت۲؍ لاکھ۴؍ہزار۹۰۰؍روپے ہے۔
ڈسپلے: ڈسپلے کے معاملے میں بھی آئی فون ۱۸؍پرو میکس اپنےپیش رو سے کافی مشابہ ہے۔ اس میں۶ء۹؍انچ کاسپر ریٹینا ایکس ڈی آر او ایل ای ڈی پینل دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ۱۲۰؍ ہرٹزتک کی ایڈاپٹو ریفریش ریٹ اور باہراستعمال کے دوران ۳؍ہزار نٹس تک کی دعویٰ کردہ زیادہ سے زیادہ برائٹ نیس ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اوپو ایف ۳۵؍ پرو۵؍ جی: سیلفی کے شوقین افراد کیلئے نیا اسمارٹ فون
سافٹ ویئر: اس میں آئی او ایس۲۷؍ پہلےسے انسٹال ملتا ہے۔ اس میں ایپل نے اپنے لیکوئڈگلاس انٹرفیس کو مزید بہتر بنایا ہے۔ آئیکنز کے ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ہے،لاک اسکرین کو اپنی پسند کے مطابق ترتیب دینے کے مزید اختیارات دیے گئے ہیں اور بڑے سائزکے ویجٹس کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔
ہارڈ ویئر: ایپل کےپروسیسر اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں روزمرہ استعمال میںکارکردگی کے حوالے سے کسی بڑی شکایت کی گنجائش کم ہی رہ جاتی ہے۔ آئی فون ۱۸؍پرو میکس میں نیا اے ۲۰؍پرو چپ سیٹ دیا گیا ہے، جس میں۶؍کور سی پی یو، ۷؍کور جی پی یو اور ۱۶؍ کور کے۲؍نیورل انجن شامل ہیں۔ کاغذ پر دیکھا جائے تو اے ۲۰؍پرو اپنے پیش رو اے ۱۹؍ پرو کے مقابلے میں خاصی بہتر کارکردگی کا وعدہ کرتا ہے۔
کیمرہ: اس میں بیٹری کے بعد سب سے دلچسپ ہارڈویئر اپ گریڈ اس کا کیمرا ہے۔ تاہم بیٹری کے برعکس کیمرے کی نئی سہولتوں سے حاصل ہونے والا فائدہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسمارٹ فون سے کس نوعیت کی تصاویر کھینچتے ہیں۔فون کی پشت پر۴۸؍ میگا پکسل کے۳؍کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے، جس میں مین کیمرا، الٹرا وائیڈ کیمرا اور ٹیلی فوٹو کیمرا شامل ہیں۔ اس بار سب سے بڑی تبدیلی مین کیمرے میں متغیر اپرچر (ویری ایبل اپرچر) کی شمولیت ہے۔
بیٹری: اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی بیٹری ہے۔اس فون میں۵۳۹۱؍ایم اے ایچ کی بیٹری دی گئی ہے، جب کہ آئی فون ۱۷؍ پرو میکس میں۴۸۲۳؍ایم اے ایچ کی بیٹری تھی۔ اس طرح نئی بیٹری کی گنجائش میں تقریباً ۱۲؍فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ایپل کے معیار کے لحاظ سے خاصا اہم ہے۔یہاں ایک اور بات قابلِ توجہ ہے۔ ہندوستان میں فروخت ہونے والے ماڈل میں فزیکل نینو سم سلاٹ موجود ہے، اس لیے اس کی بیٹری کی گنجائش ان ماڈلز سے کم ہے جن میں صرف ای سم کی سہولت دی گئی ہے۔