• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۳۰ء تک ہندوستان کی ڈیٹا سینٹر کی گنجائش میں پانچ گنا اضافے کا امکان

Updated: November 03, 2026, 8:01 PM IST | New Delhi

ہندوستان کا ڈجیٹل انفراسٹرکچر آنے والے برسوں میں تیزی سے وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ ملک میں ڈیٹا سینٹرز کی نصب شدہ گنجائش مارچ ۲۰۳۰ء تک پانچ گنا بڑھ کر تقریباً ۷ء۵ ؍گیگاواٹ (GW) ہونے کا امکان ہے۔

Data Center.Photo:INN
ڈیٹا سینٹر۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کا ڈجیٹل انفراسٹرکچر آنے والے برسوں میں تیزی سے وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ ملک میں ڈیٹا سینٹرز کی نصب شدہ گنجائش مارچ ۲۰۳۰ء تک پانچ گنا بڑھ کر تقریباً ۷ء۵ ؍گیگاواٹ (GW) ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس توسیع کے لیے آئندہ چار مالی برسوں کے دوران ۳؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کریسل ریٹنگز (CRISIL Ratings) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں تیزی کی بنیادی وجوہات مصنوعی ذہانت، خصوصاً جنریٹو اے آئی ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، کاروباری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور انٹرنیٹ پر ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ضروریات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان ڈیٹا سینٹر انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے ایک بڑے دور میں داخل ہورہا ہے، جس سے ملک کی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ 
ڈیٹا سینٹرز وہ خصوصی مراکز ہوتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں کمپیوٹر سرورز اور نیٹ ورکنگ آلات کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات محفوظ، منظم اور پراسیس کی جاتی ہیں۔ آن لائن بینکنگ، ڈجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس، ویڈیو اسٹریمنگ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کے لیے ان مراکز کا کردار انتہائی اہم ہے۔ کریسل کی رپورٹ کے مطابق جنریٹو اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کمپیوٹنگ کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی کمپنیوں کی جانب سے اپنے کاروباری نظام کو کلاؤڈ پر منتقل کرنے اور صارفین کے ڈجیٹل ڈیٹا میں مسلسل اضافے سے بھی ڈیٹا سینٹرز کی مانگ مضبوط ہورہی ہے۔ یہی عوامل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہندوستان میں نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی جانب راغب کررہے ہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق آئندہ قائم ہونے والی ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا تقریباً تین چوتھائی حصہ، یعنی لگ بھگ ۶؍ گیگاواٹ، وشاکھاپٹنم، ممبئی اور حیدرآباد میں قائم کیے جانے کا امکان ہے۔ ان شہروں میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع ملک کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔اندازے کے مطابق مالی سال ۲۰۳۰ء تک ان شہروں میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضرورت ان کی موجودہ زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب کے مقابلے میں بالترتیب تقریباً ۸۰؍ فیصد، ۶۰ ؍فیصد اور ۲۰ ؍فیصد کے مساوی ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال میں بجلی کی بروقت فراہمی، گرڈ کنکشن اور ٹرانسمیشن نظام کی صلاحیت میں اضافہ انتہائی ضروری ہوگا، کیونکہ بجلی کی کمی یا کنکشن میں تاخیر سے منصوبوں کی تکمیل متاثر ہوسکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی شاہ رخ خان کو سالگرہ پر خاص مبارکباد، ’ہمیشہ جوان رہو‘ کی دعا کی

کریسل ریٹنگز کے مطابق ہندوستان میں پہلے سے قائم ڈیٹا سینٹرز کی اوسط استعمال کی شرح تقریباً ۹۰ ؍فیصد ہے، جبکہ زیرِ تعمیر صلاحیت کا ۹۵ ؍فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی معاہدوں کے تحت مختص ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے منصوبوں کے لیے صارفین کی مانگ موجود ہے اور ان کے مکمل ہونے کے بعد آمدنی شروع ہونے کے امکانات بھی مضبوط ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جنہیں ہائپر اسکیلرز کہا جاتا ہے، کے ساتھ ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کے معاہدوں کی مدت بھی بڑھ رہی ہے۔ پہلے یہ معاہدے عموماً ۱۰ ؍سے ۱۲؍ سال کے ہوتے تھے، لیکن اب ان کی مدت ۱۵ ؍سے ۲۰ ؍سال تک پہنچ گئی ہے۔ طویل مدتی معاہدوں سے کمپنیوں کو آمدنی کا بہتر اندازہ لگانے اور سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 
کریسل کے مطابق ہندوستان میں زمین، تعمیرات اور مزدوری کی نسبتاً کم لاگت ملک کو ایشیا پیسیفک کے کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی بناتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیراتی لاگت بعض مقابل ممالک کے مقابلے میں تقریباً ۲۰ فیصد کم ہے، جبکہ بجلی کے نسبتاً کم نرخوں سمیت دیگر فوائد کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کے کرایے بھی کئی ہم عصر مارکیٹوں کے مقابلے میں ۳۰ ؍سے ۳۵ ؍فیصد کم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹر کیمپس قائم کرنے کی گنجائشبھی ہندوستان کے حق میں جاتی ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے ماحولیاتی اہداف کے تحت صاف توانائی کے استعمال کو اہمیت دے رہی ہیں، اس لیے ہندوستان میں ایسے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔  اگرچہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز کی مانگ اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم ہے، لیکن ان پر بڑھتا ہوا انحصار بعض خطرات بھی پیدا کرسکتا ہے۔ کریسل کے اندازے کے مطابق مالی سال ۲۰۲۶ء میں ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی لیز پر دی گئی صلاحیت میں ہائپر اسکیلرز کا حصہ ۶۰؍سے ۶۵ ؍فیصد تھا، جو مالی سال ۲۰۳۰ء تک بڑھ کر ۷۵؍ سے ۸۰ ؍فیصد ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں چند بڑے صارفین پر انحصار بڑھنے سے ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کی سودے بازی کی طاقت متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر نئے مراکز کی تعداد تیزی سے بڑھی اور بڑی کمپنیوں نے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا تو منصوبوں کی آمدنی اور منافع پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مکیش امبانی کی دولت میں ایک ہی دن میں ۸ء۵؍ ارب ڈالر کا اضافہ

ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے ابتدا ہی میں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جبکہ ان سے آمدنی حاصل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ کریسل کے مطابق عموماً منصوبے پر سرمایہ خرچ کرنے اور اس سے باقاعدہ نقد آمدنی شروع ہونے کے درمیان ۲۴؍ سے ۳۶ ؍ماہ کا وقفہ ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے درمیانی مدت میں کمپنیوں پر قرض کا بوجھ بلند رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نئے منصوبوں کی کامیابی کے لیے بجلی کی بروقت فراہمی، سرکاری منظوریوں کا حصول، تعمیراتی لاگت پر قابو اور مقررہ وقت میں منصوبوں کی تکمیل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئی نسل کی مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے سرورز اور جدید کولنگ سسٹم میں مسلسل سرمایہ کاری بھی ضروری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK