اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ سائیکلون (Cyclon) نے ایسا فون تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا پورا آپریٹنگ سسٹم مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) پر مبنی ہوگا۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi
اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ سائیکلون (Cyclon) نے ایسا فون تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا پورا آپریٹنگ سسٹم مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) پر مبنی ہوگا۔
اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ سائیکلون (Cyclon) نے ایسا فون تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا پورا آپریٹنگ سسٹم مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) پر مبنی ہوگا۔ اس فون کا مقصد صارفین کو بار بار مختلف ایپس کھولنے، ان میں معلومات تلاش کرنے اور ایک ایپ سے دوسری ایپ میں جانے کی زحمت سے بچانا ہے۔ کمپنی کا تصور ہے کہ صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور فون میں موجود اے آئی ایجنٹ خود مختلف ایپس استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ کام مکمل کردے گا۔ اس طرح سائیکلون روایتی اسمارٹ فون کے بجائے ایک ایسے ذہین معاون کی شکل اختیار کرنا چاہتا ہے جو صارف کی ہدایات پر عملی طور پر کام بھی کرسکے۔
سائیکلون کو وائی کومبینیٹر (Y Combinator) کی حمایت حاصل ہے۔ اس اسٹارٹ اَپ کی بنیاد ۲۰۲۶ء میں ایڈم زینبی اور تھامس کیفَر نے رکھی۔ ایڈم زینبی کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیں، جبکہ تھامس کیفَر شریک بانی اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد فون کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو ایک ساتھ اس انداز میں تیار کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت محض کسی ایک ایپ کا فیچر نہ رہے بلکہ پورے فون کے استعمال کا بنیادی ذریعہ بن جائے۔
سائیکلون کے مجوزہ فون میں صارف ایک ہی ہدایت دے کر اے آئی ایجنٹ کو کئی کام سونپ سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی صارف کو گوگل ڈرائیو میں موجود کوئی معاہدہ تلاش کرکے اس کا لنک واٹس ایپ پر کسی دوست کو بھیجنا ہو اور اس کے بعد اسے فون بھی کرنا ہو تو اے آئی ایجنٹ یہ تمام مراحل خود انجام دے سکے گا۔ کمپنی کی ایک ڈیمو ویڈیو میں اسی نوعیت کا طریقہ دکھایا گیا ہے، جس میں اے آئی ایجنٹ ضرورت پڑنے پر صارف سے اضافی معلومات بھی طلب کرتا ہے اور جواب ملنے کے بعد وہیں سے کام دوبارہ شروع کردیتا ہے۔
اس فون کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ یہ پہلے سے موجود ایپس اور صارف کے لاگ اِن اکاؤنٹس کے ساتھ کام کرسکے گا۔ صارف کو ہر کام کے لیے الگ ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے فون کو بتا سکے گا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اگر کسی خاص ضرورت کے لیے متعلقہ ایپ موجود نہ ہو تو سائیکلون کا اے آئی سسٹم صارف کی ہدایت کے مطابق نئی ایپ یا ٹول تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ایپ الگ کلاؤڈ ماحول میں تیار کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق فون میں شامل کردی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے پُرتشدد فلموں پر کہا: میرا دماغ اتنے تشدد کو قبول نہیں کر پاتا
سائیکلون کا اپنا مخصوص فون ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ کمپنی ابتدائی صارفین اور آزمائشی استعمال کے لیے گوگل پکسل ۸؍ اے (Google Pixel 8a) کے ہارڈویئر پر اپنا آپریٹنگ سسٹم نصب کرکے فراہم کرے گی۔ یہ ابتدائی ماڈل دراصل ایک آزمائشی ڈیوائس ہوگا، نہ کہ سائیکلون کا حتمی تیار کردہ فون۔ کمپنی کے مطابق پہلے مرحلے کے اہل امریکی صارفین کو پیشگی بکنگ کے بعد ۳۰ ؍دن کے اندر یہ پروٹوٹائپ فراہم کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ سائیکلون کے اے آئی نظام کو استعمال کرکے اپنی رائے دے سکیں۔
کمپنی نے اپنے مخصوص ہارڈویئر والے فون کی ترسیل ۲۰۲۷ء کی دوسری سہ ماہی میں شروع ہونے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم اس کا انحصار متعلقہ امریکی ریگولیٹری منظوری، بشمول ایف سی سی (FCC) کی اجازت، پر ہوگا۔ سائیکلون کی ویب سائٹ پر اس فون کے لیے پیشگی بکنگ کا انتظام بھی موجود ہے۔ اس کے لیے ۱۹۹ ڈالر کی قابلِ واپسی رقم جمع کرانی ہوگی، جبکہ فون کی متوقع مکمل قیمت ۶۹۹؍ ڈالر بتائی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق حتمی ادائیگی سے پہلے خریدار کو قیمت کی تصدیق کی جائے گی اور اگر وہ خریداری مکمل نہیں کرنا چاہتا تو اپنی جمع شدہ رقم واپس لے سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی اس فون کے ساتھ صارفین کی ذاتی معلومات کی حفاظت بھی ایک اہم سوال ہے۔ سائیکلون کے مطابق صارف کی درخواست پوری کرنے کے لیے بعض معلومات، مثلاً پیغامات، فون کی اسکرین پر موجود مواد اور مقام سے متعلق تفصیلات، کلاؤڈ پر موجود اے آئی فراہم کنندگان کو بھیجی جاسکتی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی اسسٹنٹ کی یادداشت فون میں محفوظ رہے گی اور صارف سیٹنگز کے ذریعے یہ طے کرسکے گا کہ کون سی ایپ یا کس قسم کی معلومات تک اے آئی ایجنٹ کو رسائی دی جائے۔
یہ بھی پڑھئے:گلین میکسویل نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ صارفین کا ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم بعض معلومات حفاظتی نگرانی اور غلط استعمال کی روک تھام کے لیے محدود مدت تک فراہم کنندگان کے پاس رہ سکتی ہیں۔ سائیکلون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صارف کسی بھی ایپ تک اے آئی ایجنٹ کی رسائی بند کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بینکنگ، ادائیگی اور بعض ایسے ایپس جو گوگل کی مخصوص سرٹیفکیشن کے تقاضے پورے کرتے ہیں، ممکن ہے اس نظام کے ساتھ مکمل طور پر کام نہ کرسکیں۔ سائیکلون کا یہ منصوبہ اس وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں روایتی ایپ پر مبنی اسمارٹ فون کے بجائے اے آئی ایجنٹس کو صارفین اور ڈیجیٹل خدمات کے درمیان بنیادی رابطہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ گوگل بھی اپنے جیمنیائی انٹیلی جنس نظام کے ذریعے اینڈرائیڈ فونز میں مختلف ایپس کے درمیان کام انجام دینے کی صلاحیت پر توجہ دے رہا ہے۔ اسی طرح آنر (Honor) اور دیگر کمپنیاں بھی اے آئی پر مبنی نئے فونز اور ڈیوائسز کے امکانات پر کام کررہی ہیں۔