• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شموگّا: آبشاروں، سرسبز پہاڑوں اور تاریخی ورثے کی دلکش سرزمین

Updated: October 14, 2026, 12:07 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

مغربی گھاٹ کے سرسبز خطے میں واقع یہ علاقہ ان سیاحوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت کے قریب چند دن گزارنا چاہتے ہیں۔

Some tourists enjoying Jog Falls. Photo: INN
چند سیاحوں کو جوگ آبشار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں واقع شموگّا، جسے شیو موگّابھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن،گھنے جنگلات، بلند پہاڑیوں، آبشاروں، دریاؤں اور قدیم مندروں کے لیے مشہور ہے۔ مغربی گھاٹ کےسرسبزخطے میں واقع یہ علاقہ ان سیاحوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت کے قریب چند دن گزارناچاہتے ہیں۔ یہاں کہیں پہاڑوں سے گرتا پانی دھند کی چادر بناتاہے، کہیں جنگلوں کے درمیان بہتے دریا دل کو سکون دیتے ہیں اور کہیں صدیوں پرانے قلعےماضی کی کہانیاں سناتے ہیں۔

جوگ آبشار

شموگّا کے سفر کا ذکر جوگ آبشار کے بغیر ادھورا ہے۔جوگ آبشار کی بلندی تقریباً ۲۵۳؍ میٹر، یعنی ۸۳۰ فٹ ہے۔ اس کے چار نمایاں دھاروں کے نام راجا، رانی، روئرر اور راکٹ ہیں۔ ان چاروں کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ راجا نسبتاً سیدھی اور بلند دھار کی صورت میں گرتا ہے، رانی کا بہاؤ نرم دکھائی دیتا ہے، روئرر تیزی اور شور کے ساتھ نیچے اترتا ہے، جب کہ راکٹ کا پانی کئی تیز دھاروں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ ان چاروں دھاروں کا مجموعی منظر اس آبشار کو غیر معمولی دلکشی عطا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: منسیاری: پنچ چولی کی برف پوش چوٹیوں میں چھپی خوبصورت وادی

اگومبے

اگومبے شموگّا ضلع کے تیرتھ ہلّی علاقے میں واقع ایک معروف پہاڑی مقام ہے۔ اسے مغربی گھاٹ کے بارانی جنگلات، گھنے درختوں، دھند میں لپٹی سڑکوں اور غروبِ آفتاب کے نظاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ فطرت نے سبز رنگ کے ہر ممکن روپ کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے۔یہاں کا سن سیٹ ویو پوائنٹ خاص طور پر مشہور ہے، جہاں صاف موسم میں ڈھلتے سورج اور دور تک پھیلی پہاڑیوں کا دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔ فطرت کی فوٹوگرافی کرنے والوں کیلئے یہ جگہ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگومبے کے قریب جوگی گنڈی آبشار بھی قابلِ دید ہے۔ یہ جنگلات کے درمیان واقع ایک قدرتی آبشار ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے مختصر پیدل راستہ اختیار کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ واناکے اَبّے آبشار بھی یہاں کی معروف  پرکشش مقامات میں شامل ہے۔

کوڈاچادری پہاڑیاں

کوڈاچادری مغربی گھاٹ کی خوب صورت پہاڑی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ شموگّا ضلع کے ہونا ساگرتعلقے کے پہاڑی خطے میں واقع ہے اور قدرتی حسن کے ساتھ مذہبی اہمیت بھی رکھتاہے۔ اس کے اطراف گھنے جنگلات، سبز ڈھلوانیں اور دور تک پھیلی وادیاں نظر آتی ہیں۔کوڈاچادری ٹریکنگ کے شوقین افراد میں خاصا مقبول ہے۔ پہاڑ پر چڑھتےہوئے راستے میں جنگلات، کھلے میدانوں اور دھند میں چھپتی پہاڑیوں کے دلکش مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 

سکرے بیلو ہاتھی کیمپ

شموگّا شہر سے تقریباً۱۴ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سکرے بیلو  ہاتھی کیمپ ان سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے جو جنگلی حیات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ تُنگا ندی کے قریب واقع ہاتھیوں کا تربیتی اور نگہداشت کا مرکز ہے، جہاں ہاتھیوں کو تربیت دینے اور ان کی دیکھ بھال کا کام کیا جاتا ہے۔یہاں ہاتھیوں کو دیکھنے کے لیے صبح کا وقت زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات انہیں پانی میں نہاتے، پانی پیتے یا اپنے نگہبانوں کے ساتھ معمول کی سرگرمیاں انجام دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے بڑے جسم، پرسکون چال اور پانی میں کھیلنے کے انداز بچوں اور بڑوں، دونوں کیلئے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دیوگڑھ قلعہ: سمندر کی نگرانی کرنے والا ایک اہم تاریخی قلعہ

تیورے کوپّا شیر اور ٹائیگر سفاری

شموگّا شہر سے تقریباً ۱۰؍کلومیٹرکے فاصلے پر واقع تیورے کوپّا  شیر اور ٹائیگر سفاری جنگلی حیات دیکھنے کا ایک معروف مقام ہے۔ یہ علاقہ ساگر کی سمت جانے والی سڑک کے قریب واقع ہے اور جنگلاتی ماحول میں جانوروں کو دیکھنے کے لیے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔اس سفاری اور حیوانات کے مرکز کا آغاز ۱۹۸۸ء میں ہوا تھا۔ سرکاری ضلعی معلومات کے مطابق یہ تقریباً ۲۰۰؍ ہیکٹر جنگلاتی رقبے پرپھیلا ہوا ہے۔ یہاں شیروں، بنگال ٹائیگرز اور دیگر جانوروں کو دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

شیوپّا نائیک محل

شموگّا کی سیر صرف آبشاروں اور پہاڑیوں تک محدود نہیں۔ شہر میں واقع شیوپّا نائیک محل تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ یہ محل کیلاڈی نائیک حکمرانوں کی تاریخ اور علاقے کے قدیم طرزِ تعمیر کی یاد دلاتا ہے۔شیوپّا نائیک کا تعلق کیلاڈی نائیک سلطنت سے تھا، جس نے کرناٹک کے مغربی حصے میں اپنی حکمرانی کے دوران سیاسی اور ثقافتی اثرات مرتب کیے۔ محل کی عمارت میں پتھرکے ستون، روایتی تعمیراتی انداز اور تاریخی ماحول نمایاں ہیں۔ آج یہ مقام میوزیم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK