یہ خوبصورت پہاڑی قصبہ برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، گھنے جنگلات، بلند چراگاہوں اور قدیم روایات کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 12:53 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ خوبصورت پہاڑی قصبہ برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، گھنے جنگلات، بلند چراگاہوں اور قدیم روایات کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اترکھنڈمیں کئی ایسے پہاڑی مقامات ہیں جہاں قدرت نے اپنےحسن کو بڑی خاموشی سےمحفوظ رکھا ہے۔ انہی میں ایک نام منسیاری کا ہے۔ کماؤں کے پِتھورا گڑھ ضلع میں واقع یہ خوب صورت پہاڑی قصبہ برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، گھنے جنگلات، بلند چراگاہوں اور قدیم روایات کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سمندر کی سطح سے تقریباً۲؍ہزار ۲۹۸؍میٹر کی بلندی پر واقع منسیاری کو عام طور پر’لٹل کشمیر‘ بھی کہا جاتا ہے۔
پنچ چولی
منسیاری میںسیاحوں کیلئے پنچ چولی سب سے اہم قدرتی کشش ہے۔ یہ ۵؍برف پوش ہمالیائی چوٹیوں کا سلسلہ ہے جو مشرقی کماؤں کے علاقے میں واقع ہے۔ صاف موسم میں منسیاری سے ان کا شاندار نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ ان پہاڑوں کو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت دیکھنا خاص تجربہ ہے۔ فوٹوگرافی کا شوق رکھنے والوں کے لیے بھی یہ علاقہ بے حد موزوں ہے۔ صبح کے وقت صاف آسمان اور برف سے ڈھکی چوٹیوں کا منظراور شام کو بدلتے رنگ منسیاری کی خوب صورتی کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اولی: برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں اور دلکش وادیوں کی سرزمین
برتھی آبشار
منسیاری کے سفر میں برتھی آبشار کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ منسیاری سے تقریباً ۳۳؍تا ۳۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور تہل/ منسیاری روٹ پر واقع ہے۔ آبشار تقریباً ۴۰۰؍ فٹ کی بلندی سے گرتا ہے اور گھنے جنگلات کے درمیان واقع ہے۔ پہاڑی چٹانوں سے تیزی سے گرتا ہوا پانی اور اس کے گرد پھیلی ہریالی اسے خاص طور پر مانسون اور اس کے بعد کے موسم میں خوبصورت بناتی ہے۔ آبشار کے قریب جانے کیلئے مختصر پیدل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
کھلیا ٹاپ
اگر آپ کو پہاڑوں پر پیدل چلنے کا شوق ہے تو کھلیا ٹاپ کو منسیاری کے سفر میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ یہ خطے کے معروف ٹریکنگ مقامات میں سے ایک ہے۔ اس ٹریک کا آغاز منسیاری سے تقریباً۹؍کلومیٹر دور بالاتی بینڈ سے ہوتا ہے۔ راستے میں روڈو ڈینڈرون کے درخت اور پہاڑی مناظر مسافر کا ساتھ دیتے ہیں۔ کھلیا ٹاپ پہنچنے کے بعد ہمالیہ کا وسیع منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں سے پنچ چولی، نندا دیوی، ہاردیول، راج رمبھا اور مِلم وادی کے پہاڑی مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ مزید آگے بڑھنے پرتقریباً۴؍ہزارمیٹر کی بلندی پرواقع زیرو پوائنٹ تک بھی پہنچا جاسکتا ہے، جہاں وسیع ہمالیائی منظرنامہ نظرآتا ہے۔
تھمری کنڈ
قدرتی حسن کے شائقین کیلئے تھمری کنڈ ایک پُرسکون مقام ہے۔ منسیاری کے آس پاس موجود بلند پہاڑی جھیلوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ پِتھورا گڑھ ضلع کی سرکاری ویب سائٹ بھی منسیاری کے آس پاس مہیشوری کنڈ اور تھمری کنڈ جیسی الپائن جھیلوں کا ذکر کرتی ہے۔ تھمری کنڈ تک پہنچنے کیلئےپیدل سفر کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ جگہ محض گاڑی سے گھومنے والوں کے مقابلے میں ٹریکنگ پسند کرنے والوں کیلئےزیادہ دلچسپ ہے۔ جھیل کے گرد پہاڑی خاموشی اور قدرتی ماحول اسے چند گھنٹے سکون سے گزارنےکیلئے بہترین بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کولمبیا اسپورٹس ویئر: موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنے والا برانڈ
مِلم گلیشیئر
منسیاری کو صرف ایک خوب صورت ہل اسٹیشن سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ہمالیائی ٹریکنگ کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق منسیاری مِلم، رالَم اور نامک گلیشیئرز کے ٹریکس کا بیس کیمپ ہے۔مِلم گلیشیئر کی طرف جانے والا راستہ سنجیدہ ٹریکنگ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ عام سیاحوں کے لیے ایک دن کیلئے پکنک کا مقام نہیں بلکہ کئی دنوں کی تیاری، جسمانی صلاحیت، مناسب سامان اور مقامی رہنمائی کا متقاضی سفر ہے۔
سرمولی گاؤں
منسیاری کے آس پاس سرمولی بھی ایک اہم گاؤں ہے، جو قدرتی مناظر اور دیہی سیاحت کیلئے جانا جاتا ہے۔ یہاں ہوم اسٹے میں قیام کرکے مقامی طرز زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔شہر کے بڑے ہوٹل کی بجائے کسی اچھے مقامی ہوم اسٹے میں رہنے کا اپنا لطف ہے۔ صبح پہاڑوں کے درمیان بیدار ہونا، مقامی کھانا کھانا اور گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلنا منسیاری کے سفر کو زیادہ حقیقی بنا دیتا ہے۔
قبائلی ورثہ میوزیم
اگرسفر میں تاریخ اور مقامی ثقافت کو بھی شامل کرنا ہو تو ٹرائبل ہیریٹیج میوزیم قابل دید مقام ہے۔ یہاں خطے کے قبائلی معاشرے، روایتی طرز زندگی، لباس، دست کاری اور ثقافتی ورثے سے متعلق چیزوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔منسیاری کی اصل روح یہاں رہنے والوں کی زندگی میں بھی پوشیدہ ہے۔ ان کے روایتی گھر، اون سے بنی مصنوعات اور دست کاری کو دیکھنا اس سفر کوثقافتی تجربہ بنا دیتا ہے۔