Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانڈو: مدھیہ پردیش میں تاریخ، فن تعمیر اور فطری حسن کا دلکش امتزاج

Updated: July 01, 2026, 12:13 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

ونڈھیا پہاڑی سلسلے پر تقریباً ۲؍ ہزار فٹ کی بلندی پر آباد یہ قدیم شہر اپنے محلات، مساجد، دروازوں، جھیلوں اور باغات سے سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

The picture shows a magnificent view of the ship. Photo: INN
تصویر میں جہاز محل شاندار نظارہ موجود ہے۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع مانڈو، جسے منڈو گڑھ یا مانڈوگڑھ بھی کہا جاتا ہے، ہندوستان کے ان تاریخی شہروں میں شامل ہےجہاں تاریخ، فنِ تعمیر، فطری حسن اور عشقیہ داستانیں ایک دوسرے میںگھل مل جاتی ہیں۔ ونڈھیا پہاڑی سلسلے پر تقریباً۲؍ہزار فٹ کی بلندی پر آباد یہ قدیم شہر اپنے محلات، مساجد، دروازوں، جھیلوں اور باغات کی وجہ سے سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔ بارش کے موسم میں جب بادل ان کھنڈرات کو اپنے حصار میںلے لیتے ہیں تو مانڈو کا حسن کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔ 

جہاز محل

مانڈو کا سب سے مشہور اور دلکش تاریخی مقام جہاز محل ہے، جو ۲؍مصنوعی جھیلوں، منج تالاب اور کپور تالاب کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً ۱۲۰؍میٹر ہے اور دور سے دیکھنے پر یہ پانی میں تیرتے ہوئے کسی عظیم جہاز کا منظر پیش کرتا ہے، اسی وجہ سے اسے جہاز محل کہا جاتا ہے۔ پندرہویں صدی میں سلطان غیاث الدین خلجی کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ محل شاہی تفریح گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ محل کی بالکونیاں، کھلے برآمدے اور چھت سے نظر آنے والے مناظر سیاحوں کو ماضی کی شاہانہ زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: شیلانگ: بادلوں کے آنگن میں آباد مشرقی ہندوستان کا دلکش پہاڑی شہر

روپ متی محل

مانڈو کا نام آتے ہی رانی روپ متی اور باز بہادر کی لازوال محبت کی داستان ذہن میں ابھر آتی ہے۔ روپ متی محل اسی داستان کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یہ عمارت پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے، جہاں سے دریائے نرمدا کے میدانوں کا حسین منظر دکھائی دیتا ہے۔ روایت ہےکہ رانی روپ متی روزانہ صبح نرمدا کے درشن کیے بغیر اناج کا ایک دانہ بھی نہیں کھاتی تھیں، اس لیے سلطان باز بہادر نے ان کے لیے یہ عظیم الشان محل تعمیرکروایا تھا۔ آج بھی یہاں سے غروبِ آفتاب کا منظر انتہائی دلکش محسوس ہوتا ہے۔

ہنڈولا محل

ہنڈولا محل، جسے جھولتا ہوا محل بھی کہا جاتا ہے، اپنی منفرد طرز تعمیرکی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کی دیواریں اندر کی جانب جھکی ہوئی ہیں، جس سے یہ عمارت جھولے کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ یہ دراصل شاہی درباریا عوامی ملاقاتوں کے لیے استعمال ہونے والا ہال تھا۔ پتھروں پر کی گئی نفیس نقش و نگاری اور بلند محرابیں اس دور کے معماروں کی مہارت کا ثبوت ہیں۔ 

جامع مسجد

مانڈو کی جامع مسجد افغان طرزِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر دمشق کی عظیم مساجد سے متاثر ہو کر کی گئی تھی۔ وسیع صحن، گنبدوں کی خوبصورتی اور محرابوں کا حسن اس مسجد کو مانڈو کے اہم ترین مذہبی اور تاریخی مقامات میں شامل کرتا ہے۔ یہاں کا پُرسکون ماحول سیاحوں کو ماضی کے اسلامی عہد کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔

ہوشنگ شاہ کا مقبرہ

ہوشنگ شاہ کا مقبرہ ہندوستان کے اولین مکمل سنگِ مرمر کے مقبروںمیں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تاج محل کے معماروں نے بھی اس مقبرے کے طرزِ تعمیر سے متاثر ہو کر اپنی منصوبہ بندی کی تھی۔سنگِ مرمر سے بنی یہ عمارت اسلامی فنِ تعمیر کی بہترین مثال پیش کرتی ہے اور آج بھی تاریخ اور فنِ تعمیر کے طلبہ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لدھیانہ: پنجاب میں صنعت، تاریخ، ثقافت اور سیاحت کا دلکش سنگم

اشرفی محل

جامع مسجد کے سامنے واقع اشرفی محل کبھی ایک عظیم مدرسہ تھا، جسے بعد میں شاہی یادگار میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج اگرچہ اس کے بیشتر حصے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن باقی ماندہ ستون اور بنیادیں اس کی سابقہ شان و شوکت کا پتہ دیتی ہیں۔ روایت ہے کہ اس کا نام اشرفی محل اس لیے پڑا کہ یہاں سونے کی اشرفیاں تقسیم کی جاتی تھیں۔

باز بہادر کا محل

بازبہادر کا محل مانڈو کی سب سے رومانوی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔ سولہویں صدی میں تعمیر ہونے والا یہ محل اپنی موسیقی دوست فضا اور خوبصورت صحنوں کے لیے مشہور ہے۔ محل کی تعمیر میں راجپوت اور اسلامی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر سیاح آسانی سے تصور کر سکتے ہیں کہ کبھی یہی مقام باز بہادر اور روپ متی کی محبت کی داستان کا مرکز رہا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: بھیوانی: تاریخی مقامات، باغات اور قدرتی حسن کا دلکش امتزاج

ریوا کنڈ

ریوا کنڈ ایک مقدس تالاب ہے جسے باز بہادر نے رانی روپ متی کے لیے تعمیر کروایا تھا تاکہ نرمدا کا پانی ان تک پہنچایا جا سکے۔ مقامی لوگوں کے نزدیک اس تالاب کا پانی مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ آج بھی سیاح اس تاریخی مقام کو عقیدت اور دلچسپی کے ساتھ دیکھنے آتے ہیں اور یہاںبھیڑ رہتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK