Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہجومی تشدد کے مجرموں کوعمر قید کی سزا سنانے والی مسلم جج کو گالیاں، قتل کی دھمکی

Updated: June 28, 2026, 4:04 PM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش کی ضلع عدالت کی مسلم جج کوہجومی تشدد کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنانے کے خلاف قتل ، اور منظم مہم چلانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ مجرموں کو دس دنوں میں رہا نہ کرنے کی صورت میں پورے ملک میں خوں ریزی کی دھکیاں دی جارہی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 مدھیہ پردیش کے نرمداپورم ضلع  میں۲۰۲۲ء کے ایکہجومی تشدد  کے واقعے میں ایک مسلم ٹرک ڈرائیور کو قتل کرنے کے جرم میں۱۴؍ مبینہ گئورکھشکوں  کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد ایک مسلم خاتون جج کو ہندوتوا گروپوں کی جانب سے فرقہ وارانہ گالیاں، آن لائن دھمکیاں اور ایک منظم مہم کا سامنا کرنا پڑا۔واضح رہے کہ ۲۲؍ جون کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے۱۴؍ افراد کو مجرم قرار دیا، حملے کو ’’انتہائی سفاکانہ‘‘ قرار دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ملزمان نے ٹرک میں سوار افراد پر حملہ کرنے کے مشترکہ مقصد کے تحت غیر قانونی اجتماع تشکیل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یوگی کا دورۂ علی گڑھ: اے ایم یو میں لاؤڈ اسپیکر پراذان کی مبینہ معطلی، طلبہ برہم

دراصل یہ مقدمہ اگست ۲؍ اور ۳؍ اگست ۲۰۲۲ء کی رات سے متعلق ہے، جب نذیر احمد، جو مدھیہ پردیش سے مہاراشٹر مویشی لے جا رہے تھے، مبینہ طور پر سیونی مالوا کے گاؤں بارکھر کے قریب ایک بھیڑ نے انہیں روکا اور جان لیوا تشدد کیا۔دریں اثنا، عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جہاں سزا یافتہ افراد کے اہل خانہ رو پڑے اور احتجاج کیا، بعض نے مبینہ طور پر پولیس گاڑیوں کے سامنے لیٹ کر۱۴؍ قیدیوں کو جیل لے جانے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے صورتحال پر قابو پا لیا۔ بعد ازاں فیصلے کے بعد، متعدد ہندوتوا تنظیموں اور خود ساختہ گائے کی حفاظت کرنے والے گروپوں نے سزا کے خلاف احتجاج شروع کر دیا، بعض نے اسے ہندومسلم مسئلہ قرار دیا کیونکہ جج مسلم ہیں۔ مظاہرین نے جج  تبسم خان کے پُتلے جلائے، انہیں ’’ہندو مخالف‘‘ قرار دیا اور ان کی مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹس گردش کیں۔ایک وائرل ویڈیو میں، ایک ہندوتوا شخص نے مبینہ طور پر جج تبسم خان کو ’’ملی ‘‘( mulli)(مسلم خواتین کے لیے توہین آمیز فرقہ وارانہ لفظ) کہا، اور خبردار کیا کہ اگر ۱۰؍ دنوں میں مجرموں کو رہا نہ کیا گیا تو پوری ریاست اور ملک میں ’’خون ریزی‘‘ ہوگی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK