مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے بڑی راحت،اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کو بڑی کامیابی۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 11:28 AM IST | New Delhi
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے بڑی راحت،اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کو بڑی کامیابی۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں کے اُن درجنوں متاثرہ خاندانوں کو بڑی قانونی راحت دلائی ہے جن کے مکانات کو بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا خدشہ تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اے پی سی آر کی قانونی پیروی پر اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مجموعی طور پر ۳۸؍ مکانات کے انہدام پر فوری طور پر روک لگا دی ہے۔
بدھیاتولا گاؤں، ضلع کھنڈوا کی ایتوا تحصیل میں واقع ہے، جہاں مبینہ طور پر مویشی ذبح کیے جانے کے ایک مقدمے میں ۹؍افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ مرکزی ملزم پر قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نوآبادیاتی دور کے جیل نظام کا خاتمہ، ریاستی حکومت نے تمام ۱۱۶؍ ذیلی جیلوں کو بند کیا
۲۰؍جون ۲۰۲۶ءکو چند ہندوتو تنظیموں کے اراکین نے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے منڈی ہائی وے کو بند کر دیا۔ اس کے بعد ضلع انتظامیہ نے مبینہ طور پر گاؤں میں چند مکانات کو ’غیر مجاز تعمیرات‘ قرار دے کر منہدم کیا اور متعدد دیگر خاندانوں کو بھی انہدام کے نوٹس جاری کر دیئے۔متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر اے پی سی آر نے فوری قانونی مداخلت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ، جبل پور سے رجوع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں عدالت عالیہ نے چار مکانات کے انہدام پر عبوری روک عائد کی۔ بعد ازاں مزید ۴۷؍ خاندانوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جس کے بعد اے پی سی آر نے ۳۴؍مزید خاندانوں کی جانب سے بھی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر بھی سماعت کرتے ہوئے عبوری تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں اب تک ۳۸؍ مکانات کے انہدام پر عدالتی پابندی عائد ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’پربھنی میں کبھی کوئی غدار کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکے گا‘‘
اے پی سی آر کی جانب سے عدالت میں یہ مقدمات سینئر ایڈوکیٹ کبیر پال، ایڈوکیٹ آریان اُرمالیہ اور ان کی قانونی ٹیم نے مؤثر انداز میں پیش کیے۔اس موقع پر اے پی سی آر نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کسی بھی فوجداری مقدمے کی تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھنی چاہئیں، تاہم آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر رہائشی مکانات کو منہدم کرنا نہ صرف شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ اے پی سی آر نے واضح کیا کہ بلڈوزر کارروائیاں عدالتی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی انہیں اجتماعی سزا کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اور آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن عدالتی چارہ جوئی جاری رکھے گی۔