یہ بھی ایک محبت کی کہانی ہے لیکن اس میں کئی موڑ آتے ہیں جو غیر متوقع ہیں، اسکرپٹ کی کمزوری اور منطقی کمزوریوں سے یہ عمدہ فلم نہیں بن سکی۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 11:07 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہ بھی ایک محبت کی کہانی ہے لیکن اس میں کئی موڑ آتے ہیں جو غیر متوقع ہیں، اسکرپٹ کی کمزوری اور منطقی کمزوریوں سے یہ عمدہ فلم نہیں بن سکی۔
ڈکیت: ایک پریم کتھا
(Dacoit: Ek Prem Katha)
اسٹارکاسٹ: ادیوی سیش، مرنال ٹھاکر، انوراگ کشیپ، پرکاش راج، اتل کلکرنی، زین میری خان، نیلش اہنکاری، ریساد عظیم
ڈائریکٹر: شنیل دیو
رائٹر: شنیل دیو، یش ایشوری، ابوری روی، ادیوی سیش
پروڈیوسر: سپریہ یرلگڈا، سنیل نارنگ، آنند ریڈی کرناتی
موسیقی: بھیمس سیسیرولیو، گیانی
سنیماٹو گرافر: دھنش بھاسکر
ایڈیٹر: کوڈاتی پون کلیان
پروڈکشن ڈیزائنر: شری ناگیندر تنگالا
ریٹنگ:**
کہاجاتا ہے کہ پیار کبھی آسان نہیں ہوتا، اس کی پیچیدگی ہی اسےمنفرد بناتی ہے۔ ہدایتکار شینل دیوکی فلم ’ڈکیت‘بھی ایک ایسی ہی سنجیدہ اور تہہ دار محبت کی کہانی پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، جہاں عشق ایک غلط موڑلے لیتا ہے اور پھر اس کے بعد انتقام، تشدد اور بربادی کی ایک طویل داستان شروع ہو جاتی ہے۔ خیال اپنی جگہ مضبوط ہے، لیکن افسوس کہ کمزور اسکرین پلے اور منطقی کمزوریوں کے باعث یہ فلم ایک یادگار داستانِ محبت بننے سے رہ جاتی ہے۔
فلم کی کہانی
کہانی کا آغاز جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے ہوتا ہے، جہاں ہری(ادیوی سیش)گزشتہ ۱۰؍برسوں سے قتل اور عصمت دری کے الزام میں سزا کاٹ رہا ہے۔ مگر اس کے دل میں جو آگ سلگ رہی ہے، اس کی جڑیں اس کی محبوبہ جولیٹ(مرنال ٹھاکر)کی اُس جھوٹی گواہی میں پیوست ہیں، جس نے اس کی زندگی کو برباد کر دیا۔ قید سےفرار کے بعد ہری کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے، جولیٹ کو تباہ کر کے اپنے دل کا انتقام پورا کرنا۔ لیکن جب قسمت ایک بار پھر ان دونوں کو آمنے سامنے لے آتی ہے تو نفرت کی دیواروں کے پیچھے دبے ہوئےجذبات سر اٹھانے لگتے ہیں، اور کہانی ایک نئی پیچیدگی اختیار کر لیتی ہے۔ اسی دوران پولیس انسپکٹر سوامی(انوراگ کشیپ)اور اس کی بیٹی(جین میری خان)اس معمہ کو سلجھانے میں جٹ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے رازوں کی پرتیں کھلتی ہیں، ویسے ویسے غصہ، انتقام اور تباہی کی خواہش دھندلی پڑنے لگتی ہے اور محبت کی ایک نئی، انوکھی تصویر سامنے آتی ہے، ایسی تصویر جس میں درد بھی ہے اور سچائی بھی۔
یہ بھی پڑھئے: دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ: حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے والی فلم
ہدایت کاری
ہدایتکار نے ’دل جلا ہے، دنیا جلا کر راکھ کر دوں گا‘جیسے شدت بھرے تصور کو بنیاد بنا کر ایک جذباتی اور پیچیدہ بیانیہ تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے۔ خیال واقعی متاثر کن ہے، مگر اس کی پیشکش کئی مقامات پرحد سے زیادہ ڈرامائی، پیش گوئی کے قابل اور سہل محسوس ہوتی ہے۔ فلم کا پہلا حصہ سست روی کا شکار ہے، جہاں کہانی اپنے ہی بوجھ تلے دبی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرا حصہ نسبتاً بہتر ہے، جہاں ایکشن اور کچھ چونکا دینے والے موڑ کہانی کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کمزور اسکرین پلے پوری فلم کو ایک غیر مستحکم کشتی بنا دیتا ہے، جو کبھی ابھرتی ہے اور کبھی ڈوبتی ہے۔
متعدد مناظر ایسے ہیں جہاں منطق کی واضح کمی کھل کر سامنے آتی ہے، جس سے کہانی کی سچائی متاثر ہوتی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے فلم خوبصورت دکھائی دیتی ہے، سنیماٹوگرافی اس کی خام اور سخت فضا کو موثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ ہدایتکار کا جھکاؤ بصری حسن کی طرف زیادہ محسوس ہوتا ہے، لیکن کہانی کے تسلسل میں بار بار خلا نظر آتا ہے۔ بیانیہ بغیرکسی مضبوط بنیادکے ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں چھلانگ لگا دیتا ہے، جس سے ناظر کا ربط ٹوٹنے لگتا ہے۔
موسیقی
موسیقی، جو عموماً محبت کی کہانیوں کی روح ہوتی ہے، یہاں وہ اثر پیدا نہیں کر پاتی جو دل کو چھو سکے۔ نتیجتاً فلم کی جذباتی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور اس سے لگائو پیدا نہیں ہوپاتا۔
اداکاری
اداکاری کے میدان میں ادیوی سیش نےاپنی پیچیدہ کردار نگاری کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ بعض مقامات پر ان کی اداکاری میں غیر ضروری ڈرامائیت جھلکتی ہے۔ مرنال ٹھاکر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتی ہیں اور کردار میں جان ڈال دیتی ہیں۔ انوراگ کشیپ پولیس افسر اور روحانیت کے امتزاج والے کردارمیں یاد رہ جاتے ہیں، جبکہ پرکاش راج اپنی مانوس اداکاری کے باوجود کوئی نیا رنگ نہیں بھر پاتے۔
کیوں دیکھیں؟
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’ڈکیت‘ایک ایسی فلم ہے جس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر اسے صحیح ڈھنگ سے بیان نہیں کیا جاسکا۔ اگر آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں تو بہتر یہی ہوگا کہ او ٹی ٹی پر اس کی آمد کا انتظار کریں کیونکہ یہ کہانی بڑی اسکرین پر وہ جادو جگانے میں ناکام رہتی ہے، جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔