Inquilab Logo Happiest Places to Work

دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ: حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے والی فلم

Updated: April 04, 2026, 11:02 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

جلیانوالا باغ قتل عام کے مجرم جنرل ڈائر سے بدلہ لینے والے مجاہد آزادی ادھم سنگھ کی زندگی کو وسیم امروہی نے نہایت عمدہ انداز میں پیش کیا ہے۔

Wasim Amrohi can be seen in a scene from the film `The Legend of Udham Singh`. Photo: INN
فلم’دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ‘کےایک منظر میں وسیم امروہی کودیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ
(The Legend of Udham Singh)
کہاں دیکھیں:او ٹی ٹی پلیٹ فارم’ویوز‘ پر
اسٹارکاسٹ: وسیم امروہی، افسر امروہی، خوشبو خان، راجیش دوبے
ڈائریکٹر: وسیم امروہی
رائٹر: شیفوجی شوریہ بھردواج
پروڈیوسر: شیبا امروہی، جتن اگروال، نلیش منگیکر، راجیش، آلوک
موسیقی: زاید ااسحاق
سنیماٹو گرافر: سیم سندھر
ایڈیٹر: یوگیش پانڈے
اسسٹنٹ ڈائریکٹر: دنیش سدرشن سوئی
lریٹنگ:****
گزشتہ چند برسوں میں بالی ووڈ میں حقیقی زندگی کے ہیروز پر مبنی فلموں کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ ایسے میں تاریخ کے اوراق سےایک ایسا کردار بھی پردۂ سیمیں پر لوٹا ہے، جس کی رگوں میں بدلہ اور حب الوطنی ایک ساتھ دوڑتے تھے۔ وسیم امروہی اپنی فلم’دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ‘کے ساتھ ایک نئی شدت کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ فلم نہ صرف ایک شہید کی داستان ہے بلکہ جلیانوالہ باغ کی وہ آگ بھی ہےجو۲۱؍برس تک سلگتی رہی اور ۷؍مندر پار جا کر انتقام میں ڈھل گئی۔ اس فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’ویوز‘پر پیش کیا گیا ہے۔ 
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی ہمیں ۱۳؍اپریل ۱۹۱۹ءکےاس سیاہ دن میں لے جاتی ہے، جسے کوئی ہندوستانی فراموش نہیں کر سکتا یعنی جلیانوالا باغ قتل عام میں جہاں جنرل ڈائرکےحکم پر نہتے لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ اس سانحے کے پسِ پردہ پنجاب کے اُس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائرکا کردار تھا۔ فلم یہیں سے آغاز کرتی ہے اور دکھاتی ہےکہ کس طرح ایک نوجوان ادھم سنگھ اس ظلم کا چشم دید گواہ بنتا ہے۔ 
کہانی۱۹۱۹ءسے ۱۹۴۰ءتک کے۲۱؍برسوں پر محیط ہے، جہاں ادھم سنگھ دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتےہیں، اپنے نام بدلتےہیں، مگر مقصد نہیں بدلتے۔ بالآخر ۱۳؍مارچ ۱۹۴۰ءکو لندن کے کیکسٹن ہال میں ان کی گولی او ڈوائر کے سینے میں جا لگتی ہے، یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ لاکھوں ہندوستانیوں کی عزتِ نفس کی بحالی کا لمحہ بن جاتا ہے۔ شیفوجی شوریہ بھردواج کی تحریر نے اس داستان کو نہایت باریکی اور سنجیدگی سے پیش کیا ہے۔ 
ہدایت کاری
وسیم امروہی نےہدایتکاری کی ذمہ داری سنبھال کر ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے فلم کو محض سست رفتار ڈرامہ بنانے کے بجائے ایک مؤثر تھرلر کے طور پر پیش کیا۔ کری ایٹو ڈائریکٹر دنیش سدرشن سوئی کی محنت ہر فریم میں جھلکتی ہے۔ ۱۹۲۰ء اور ۱۹۳۰ءکی دہائی کےلندن اور ہندوستان کو جس حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ فلم کبھی نصیحت نہیں کرتی بلکہ ناظر کو خود اس جدوجہد کا حصہ بنا دیتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پروجیکٹ ہیل میری: سائنس اور جذبات پر مبنی ایک عمدہ ہالی ووڈ فلم

موسیقی
اس فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور، جسے زاید اسحاق نے ترتیب دیا ہے، اس کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتا ہے۔ موسیقی میں ایک گہرا اور سنجیدہ تاثر ہے، جو حب الوطنی کے جذبے کو مزید ابھارتا ہے۔ ایکشن مناظر میں یہ سنسنی پیدا کرتا ہے، جبکہ جذباتی لمحات میں آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ 
سنیماٹوگرافی
فلم کی سنیماٹوگرافی بے حد متاثر کن ہے۔ جلیانوالا باغ قتل عام کے مناظر اس انداز سے فلمائے گئے ہیں کہ دیکھنے والا اندر تک ہل جاتاہے۔ خون آلود زمین، کنوؤں میں کودتے لوگ اور گولیوں کی آواز، یہ سب کچھ ایک تلخ حقیقت کو زندہ کر دیتا ہے۔ لندن کے مناظر میں گہرے اور مدھم رنگوں کا استعمال ادھم سنگھ کے اندرونی کرب اور تنہائی کو بخوبی اجاگر کرتا ہے۔ 
اداکاری
وسیم امروہی نےادھم سنگھ کے کردار میں ایک بے چینی اور جلتی ہوئی آگ بھر دی ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں میں جھلکتی انتقامی کیفیت ایک ایسے انسان کی کہانی سناتی ہے جو برسوں تک اپنے مقصدکے لیے زندہ رہتا ہے۔ ان کی باڈی لینگویج اور مکالمہ ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اس کردار کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ کئی مناظر میں ان کی موجودگی اس قدر مضبوط ہے کہ وہ پچھلی پیشکش کو چیلنج کرتی محسوس ہوتی ہے۔ 
ساتھ ہی شیفوجی شوریہ بھردواج کی موجودگی فلم میں ایک ولولہ انگیز رنگ بھرتی ہے، جبکہ دیگر اداکاروں نے بھی برطانوی ظلم اور ہندوستانی انقلابیوں کی بے بسی کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ 
کیوں دیکھیں؟
دی لیجنڈ آف ادھم سنگھ میں وسیم امروہی نےسردار ادھم سنگھ کی شخصیت کو ایک نئے اور زیادہ پُرجوش زاویے سے پیش کیا ہے۔ اگر آپ سردار ادھم سنگھ کے مداح ہیں، تو یہ فلم بھی ضرور دیکھنی چاہیے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK