Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروجیکٹ ہیل میری: سائنس اور جذبات پر مبنی ایک عمدہ ہالی ووڈ فلم

Updated: March 28, 2026, 10:26 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

امریکہ سمیت پوری دنیا میں شہرت حاصل کرچکی اس فلم میں سائنس فکشن کے ساتھ جذباتی پہلوئوں کو بھی خصوصی اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Ryan Gosling can be seen in a space vehicle in a scene from the Hollywood film `Project Hail Mary`. Photo: INN
ہالی ووڈ فلم’پروجیکٹ ہیل میری‘کےایک منظر میں ریان گوسلنگ کوخلائی گاڑی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

پروجیکٹ ہیل میری
(Project Hail Mary)
اسٹارکاسٹ: ریان گوسلنگ، سینڈرا ہلر، جیمس اورٹز، لیونل بوئس، ملانا وینٹرب، کین لیونگ، پریہ کنسارا، مایا ایوا حسین
ڈائریکٹر اور رائٹر: فل لارڈ اور کرسٹوفر ملر
رائٹر: اینڈی ویئر(کے ناول پر مبنی)، ڈریو گوڈارڈ
پروڈیوسر: اینڈی ویئر، فل لارڈ، کرسٹوفر ملر، رشیل او کونر، ایمی پاسکل، آدتیہ سود، بری ہیمسلی، ریان گوسلنگ، جے وھیلر وہائٹ
موسیقی: ڈینیئل پیمبرٹن
سنیماٹو گرافر: گریگ فریزر
ایڈیٹر:جوئل نیگرون
ریٹنگ:****
امریکی اداکار ریان گوسلنگ کی فلم’پروجیکٹ ہیل میری امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں ریلیز کے ایک ہفتے بعد ہندوستانی سنیماگھروں میں پیش کی گئی ہے۔ یہ سائنس فکشن ایڈونچر فلم بیرونِ ملک پہلے ہی کافی تعریف حاصل کر چکی ہے۔ ہدایتکار جوڑی فل لارڈ اور کرسٹوفر ملرنےاس فلم میں انسانیت کو بچانے کے مشن پر نکلے ایک تنہاخلا باز کی کہانی پیش کی ہے، جو ابتدا ہی سے سنسنی اور تجسس پیدا کرتی ہے۔ شاندار ویژولزکے ساتھ انہوں نے سائنسی عمل اور انسانی جذبات کو کامیابی سے جوڑ ا ہے، جس کی بدولت فلم شروع سے آخر تک ناظرین کی دلچسپی قائم رکھتی ہے۔ 
فلم کی کہانی
یہ کہانی ایک ایسے خلا باز کی ہے جو انسانیت کو بچانے کے مشن پر اکیلانکلتاہے۔ فلم اینڈی ویئرکے سائنس فکشن ناول پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر رائلینڈ گریس (ریان گوسلنگ) ایک خلائی جہاز میں اچانک اپنی مصنوعی بےہوشی سے بیدار ہوتا ہے۔ بکھرے بالوں اور بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ جب وہ آنکھ کھولتا ہے تو اسے کچھ یاد نہیں ہوتا، نہ یہ کہ وہ یہاں کیوں آیا، نہ یہ کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ خلائی جہاز کے باقی تمام عملے کے افراد مر چکے ہوتے ہیں۔ 
آہستہ آہستہ اسے یاد آتا ہے کہ وہ ایک ہائی اسکول کا سائنس ٹیچراور سابق مالیکیولر بایولوجسٹ ہے۔ مگر اب اس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ یہاں کیسے پہنچا، کیوں آیا، اور آخر وہ اکیلا انسانیت کو کیسے بچا سکے گا؟
ہدایت کاری
ہدایتکاروں کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے فلم کو محض ایکشن تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مسئلہ اور اس کے حل کو مرکزی ڈرامائی عنصر بنایا۔ عام طور پر اس نوعیت کی فلمیں بڑے ایکشن مناظر پر انحصار کرتی ہیں، مگر یہاں کہانی کو سائنسی دریافتوں کے تسلسل کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر رائلینڈ کو مسائل سے لڑتے، مفروضےآزماتے، ناکام ہوتے اور پھر دوبارہ کوشش کرتے دیکھنا فلم کو ایک خاص روانی دیتا ہے۔ یہ انداز ناظرین کے ذہن کو متحرک رکھتا ہے اور بوریت پیدا نہیں ہونے دیتا۔ 
ریان گوسلنگ کی اداکاری میں بہترین توازن ہے۔ وہ اپنے کردارکو غیرمعمولی ذہانت کا حامل دکھانے کے بجائے ایک ایسے انسان کےطورپرپیش کرتے ہیں جو خوف، غیر یقینی صورتحال اور حالات کےمطابق خود کو ڈھالنے پر مجبور ہے۔ یہی پہلو کردار کو حقیقت کے قریب لے آتا ہے، خاص طور پر جب اس کی کھوئی ہوئی یادداشت آہستہ آہستہ واپس آتی ہے۔ فلیش بیک کا استعمال بھی نہایت مہارت سے کیا گیا ہے، جس سے کہانی ایک فرد سے بڑھ کر عالمی مسئلے اور ذاتی کشمکش کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دھرندھر۲:تشدد زیادہ،خونریزی زیادہ اور پروپیگنڈا اس سے زیادہ

فلم میں خلا کی دنیا کو جس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ تاہم، ہدایتکاروں نے محض شاندار مناظر پر انحصار کرنے کے بجائے ایک متوازن اور مربوط اسکرین پلے کو ترجیح دی ہے۔ سائنسی عمل کو اس انداز میں دکھایا گیا ہے کہ ناظرین کیلئے اسے سمجھنا آسان رہے، حتیٰ کہ پیچیدہ اور خیالی عناصر بھی الجھن پیدا نہیں کرتے۔ 
فلم کا سب سے مؤثر جذباتی عنصر ایک غیر معمولی اور منفرد رشتے سے جڑا ہے۔ بغیر کسی انکشاف(اسپوائلر)کے اتنا کہنا کافی ہے کہ دو کرداروں کے درمیان یہ تعلق اپنی باریکیوں اور گرمجوشی کی وجہ سے دل کو چھو لیتا ہے۔ فلم سازوں نے اس رشتے کو بتدریج پروان چڑھایا ہے، جس سے کہانی کو ایک نئی بلندی ملتی ہے۔ 
ناول کے مقابلے میں فلم میں کچھ سائنسی مسائل کے حل کو قدرے عجلت میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض جذباتی پہلوؤں کو مزید وسعت دی جاتی تو اثر اور گہرا ہو سکتا تھا۔ 
کیوں دیکھیں ؟
تمام تر کمیوں کے باوجود’پروجیکٹ ہیل میری‘ اپنی اصل روح کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ یہ فلم جستجو، ہمت اور مشکل ترین حالات میں انسانی ربط کی طاقت کا جشن پیش کرتی ہےایسی کہانی جو نہ صرف ذہن کو متحرک کرتی ہے بلکہ دل کو بھی چھو جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK