۸ء۸۹؍ملی میٹر موٹا یہ فون دیگر کے مقابلے کافی ضخیم معلوم ہوتا ہے، کیمروں میں بھی کافی کمی کی گئی ہےلیکن بیٹری ۷؍ہزار ایم اے ایچ ہے۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 12:33 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
۸ء۸۹؍ملی میٹر موٹا یہ فون دیگر کے مقابلے کافی ضخیم معلوم ہوتا ہے، کیمروں میں بھی کافی کمی کی گئی ہےلیکن بیٹری ۷؍ہزار ایم اے ایچ ہے۔
حال ہی میں موٹورولانے ہندوستان میں متعدد نئی مصنوعات متعارف کرائی ہیں۔ نئی ایج ۷۰؍سیریزسے لے کر کمپنی کے پہلے بک اسٹائل فولڈ ایبل اسمارٹ فون تک، کئی ڈیوائسز ہندوستانی مارکیٹ میں پیش کی گئی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کمپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کے لیےسنجیدہ ہے۔ کمپنی کی موٹو جی سیریز، جو بجٹ طبقے میں بہتر قیمت کے عوض اچھی خصوصیات فراہم کرنے کے لیے مشہور ہے، میں بھی کئی نئے ماڈلز شامل کیے گئے ہیں۔
ڈیزائن
موٹو جی ۳۷؍پاورکے ڈیزائن کی بات کریں تو اس کے پچھلے حصےمیں موجود کیمرہ ماڈیول کو موٹو جی ۳۵؍سیریزکےمقابلے میں نمایاں طور پر تبدیل کیاگیا ہے۔ اب اس میں موٹورولاکا مخصوص مربع نماکیمرہ ڈیکو دیا گیا ہے، جس میں ۴؍کٹ آؤٹس موجود ہیں، جس سےپہلی نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فون میں کئی کیمرے نصب ہیں۔ درحقیقت ان میں سے ایک کٹ آؤٹ مرکزی کیمرے کے لیے، دوسرا ایل ای ڈی فلیش کے لیے، تیسرا ۲؍اِن ون لائٹ سینسر کے لیے ہے جبکہ چوتھا محض ڈیزائن کا حصہ ہے۔ فون کے پچھلے حصے پر موجود ربرنما بناوٹ اسے ہاتھ میں مضبوط گرفت فراہم کرتی ہے۔ عموماً اس قسم کی سطح پر گردوغبار جلدی جم جاتا ہے، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ فون نسبتاً صاف ستھرا رہتا ہے۔ ۸ء۸۹؍ملی میٹرموٹائی کے ساتھ یہ فون اپنی قیمت کے دیگر فونز کے مقابلے میں کافی پتلااور جیب میں آسانی سے رکھنے کے قابل ہے، اگرچہ یہ اپنے پیش رو سے کچھ زیادہ موٹا ہے۔ وزن کی تقسیم متوازن ہے، جس کےباعث ہاتھ جلدی نہیں تھکتا۔ تاہم ۲۱۵؍گرام وزن کی وجہ سے طویل عرصے تک ایک ہاتھ سے استعمال کرنے پر کچھ تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: موٹورولاایج ۷۰؍پرو: عمدہ خصوصیات کے ساتھ بہتر اسمارٹ فون
ڈسپلے
اس کا ڈسپلے گزشتہ سال کےموٹو جی ۳۵؍، ۵؍جی کےمقابلے میں کمزورقرار دیا جا سکتا ہے۔ اخراجات کم کرنے کے لیے اس کی ریزولوشن فل ایچ ڈی پلس سے گھٹاکر ایچ ڈی پلس کر دی گئی ہے۔
روزمرہ استعمال کے دوران اس کا ڈسپلے قابل قبول کارکردگی دکھاتاہے اور عام صارف شاید اس کم ریزولوشن کو محسوس بھی نہ کرے۔ تاہم بعض حالات میں یہ کمی واضح ہو جاتی ہے، خاص طور پر ویڈیوز دیکھتے وقت جہاں تصویر میں معمولی دھندلاہٹ اور کناروں پر نرمی محسوس ہوتی ہے۔
سافٹ ویئر
یہ جدید ترین اینڈرائڈ ۱۶؍کےساتھ آتاہے۔ موٹورولاکئی برسوں سےصاف ستھرے اینڈرائیڈ تجربے کا وعدہ کرتی آئی ہے، لیکن اب اس کے فونز میں ہیلو یو آئی نامی انٹرفیس بھی شامل ہوتا ہے۔
ہارڈویئر
جہاں کئی شعبوں میں کمی کی گئی ہے، وہیں پروسیسر کے معاملے میں نمایاں بہتری دی گئی ہے۔ یونیسوک چپ سیٹ کی جگہ اب آکٹا کورمیڈیا ٹیک ڈائمنسٹی ۶۴۰۰؍پروسیسر استعمال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اوپوفائنڈ این۶:عمدہ بیٹری اور کیمرہ کا حامل فولڈیبل فون
کیمرہ
اس میں موٹو جی ۳۵؍، ۵؍جی کا۸؍میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمرہ موجود نہیں ہے، جو ایک مایوس کن کمی ہے۔ اسی طرح سیلفی کیمرہ بھی ۱۶؍میگا پکسل سے کم ہو کر۸؍ میگا پکسل کا رہ گیا ہے۔ تاہم مرکزی ۵۰؍میگا پکسل کیمرہ برقرار رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ فوٹوگرافی کے لحاظ سے یہ فون اب بھی اپنی قیمت کے کئی حریفوں سے بہتر نظر آتا ہے۔ مرکزی کیمرہ مناسب تفصیلات محفوظ کرتا ہے اور آٹو فوکس بھی زیادہ تر صارفین کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی تیز ہے۔
بیٹری
موٹو جی ۳۷؍پاورکا نام اس کی سب سے بڑی خصوصیت یعنی بیٹری کی وجہ سے رکھا گیا محسوس ہوتا ہے۔ اس میں ۷؍ہزار ایم اے ایچ کی بڑی بیٹری دی گئی ہے جو عام استعمال میں باآسانی دو دن یا اس سے زیادہ وقت تک چل سکتی ہے۔
اس کی بیٹری ۲۲؍گھنٹے تک چل سکتی، جو اس کے کئی حریفوں سے کہیں بہتر ہے۔ اس شعبے میں یہ نسبتاً مہنگے فونز کا بھی مقابلہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم چارجنگ کے معاملے میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ فون تقریباً ۳۰؍منٹ میں ۲۱؍ فیصد اور ایک گھنٹے میں ۳۲؍فیصد تک چارج ہوا۔ لیکن صفر سے ۱۰۰؍فیصد تک مکمل چارج ہونے میں تقریباً ڈھائی گھنٹے لگے، جو دیگر فونز کے مقابلے میں خاصا زیادہ وقت ہے۔